فرانس میں مساجد کے باہر ’’نجس جانور‘‘ کے 9سر رکھنے پر 11 افراد گرفتار

گرفتار افراد کا بنیادی مقصد نفرت، امتیاز اور تشدد پر مبنی خیالات کو فروغ دینا تھا،وزارت داخلہ

بلغراد :سربین پولیس نے فرانس اور جرمنی میں مساجد کے باہر نجس جانور(سور) کے سر رکھنے کے الزام میں 11 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاریاں نفرت اور تشدد کو فروغ دینے والے ایک منظم گروہ کے خلاف اہم کارروائی قرار دی جا رہی ہیں۔

سربیا کی وزارتِ داخلہ کے مطابق، یہ گروہ مبینہ طور پر ایک مشتبہ شخص کی تربیت یافتہ تھا جو اس وقت مفرور ہے اور غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی کے لیے کام کر رہا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد کا بنیادی مقصد نفرت، امتیاز اور تشدد پر مبنی خیالات کو فروغ دینا تھا، جو یورپ بھر میں مذہبی اور نسلی تناؤ کو بڑھاوا دینے کی کوشش کا حصہ تھا۔

رپورٹس کے مطابق، رواں ماہ کے اوائل میں پیرس اور اس کے نواحی علاقوں کی مساجد کے باہر 9 سور کے سر رکھے گئے تھے، جس سے مسلم کمیونٹی میں سخت غم و غصہ پھیل گیا۔ یہ عمل خاص طور پر توہین آمیز تھا کیونکہ اسلام میں سور کو ناپاک جانور سمجھا جاتا ہے، اور اس نے فرانس میں مسلم کمیونٹی کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھائے۔

سرب پولیس کے ایک اعلیٰ حکام نے بتایا کہ یہ حالیہ گرفتاریاں دارالحکومت بلغراد اور جنوبی قصبے ویلیکا پلانہ میں کی گئیں۔ ملزمان پر نسل پرستی، نفرت انگیزی اور جاسوسی سمیت کئی سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا، اور تحقیقات میں مفرور مشتبہ شخص کی گرفتاری کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی یورپی یونین اور انٹرپول کے ساتھ تعاون سے ممکن ہوئی، جو بین الاقوامی سطح پر نفرت کے جرائم کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ گرفتاریاں یورپ میں بڑھتے ہوئے نسلی اور مذہبی تناؤ کے تناظر میں انتہائی اہم ہیں، جہاں حالیہ مہینوں میں ایسی توہین آمیز کارروائیاں مسلم اور یہودی کمیونٹیز کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ سربین حکام نے اعلان کیا ہے کہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ اس گروہ کے وسیع نیٹ ورک کو توڑا جا سکے، اور متاثرہ کمیونٹیز کو یقین دلایا گیا ہے کہ ان کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے گی۔

سربیا کی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر فرانس اور جرمنی سے رابطہ کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا ہے کہ بلغراد مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی سطح پر کمیونٹی لیڈرز کے ساتھ ملاقاتیں بھی منعقد کی جا رہی ہیں تاکہ نفرت کے خلاف آگاہی مہم چلائی جا سکے۔

تجزیہ

یہ گرفتاریاں سربین پولیس اور وزارتِ داخلہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ایک شاندار مظہر ہیں، جو نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر نفرت اور تشدد کے خلاف ایک مضبوط موقف اپناتی ہیں۔ 11 افراد کی گرفتاری سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مشترکہ کوششیں کس طرح منظم جرائم کو روکنے میں کامیاب ہو رہی ہیں، خاص طور پر جب کہ مفرور مشتبہ شخص کی نشاندہی اور غیر ملکی انٹیلی جنس روابط کی تحقیقات جاری ہیں۔ یہ کارروائی یورپ میں مساجد اور یہودی مقامات پر ہونے والے توہین آمیز حملوں جیسے سور کے سر رکھنے اور سبز رنگ سے بے حرمتی کے واقعات کے تناظر میں ایک بروقت اور فیصلہ کن قدم ہے، جو مسلم اور یہودی کمیونٹیز میں اعتماد بحال کرنے کا باعث بنے گی اور انہیں یہ احساس دلائے گی کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔

سرب پولیس کی بلغراد اور ویلیکا پلانہ میں کی گئی آپریشنل کارکردگی قابلِ ستائش ہے، کیونکہ اس نے نسل پرستی، نفرت انگیزی اور جاسوسی جیسے الزامات کو مؤثر طریقے سے ہینڈل کیا، جو مستقبل میں ایسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے ایک مضبوط مثال قائم کرے گی۔ فرانس میں تین سرب شہریوں کی سزاؤں کے بعد یہ گرفتاریاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سربیا اپنے شہریوں کی غیر قانونی سرگرمیوں پر روک تھام کے لیے سنجیدہ ہے، جو یورپی یونین اور انٹرپول کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنائے گی۔ مجموعی طور پر، یہ واقعہ انسانی حقوق اور مذہبی رواداری کی حفاظت کی طرف ایک مثبت پیش رفت ہے، جو سربیا کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرتا ہے اور عالمی سطح پر امن و ہم آہنگی کی جدوجہد میں اس کی شراکت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایسی کارروائیاں جاری رکھنے سے نہ صرف یورپ میں نسلی تناؤ کم ہوگا بلکہ کمیونٹیز کے درمیان مکالمہ اور باہمی احترام کو فروغ ملے گا، جو ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین