نصرت فتح علی خان کی قبر پر قوالی، راحت فتح علی خان کو تنقید کا سامنا

وائرل ویڈیو میں قوالی کے دوران لوگوں کو قبر کے قریب نوٹ نچھاور کرتے دیکھا گیا، سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی

لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)معروف پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان اپنے صاحبزادے شاہ زمان علی خان کے ہمراہ لیجنڈری قوال استاد نصرت فتح علی خان کی قبر پر قوالی پیش کرنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی تنقید کی زد میں آگئے۔

استاد نصرت فتح علی خان کی برسی کے موقع پر راحت فتح علی خان اپنے بیٹے کے ہمراہ ان کی آخری آرام گاہ پر پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے مرحوم چچا اور استاد کو خراج عقیدت پیش کیا۔

قبر کے قریب قوالی کی ویڈیو وائرل

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ راحت فتح علی خان اور ان کے صاحبزادے قبر کے قریب بیٹھ کر کلام پیش کر رہے ہیں جبکہ اس موقع پر لوگوں کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔

ویڈیو میں قوالی کے دوران بعض افراد کو ہوا میں پیسے اچھالتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع ہوگئی اور متعدد صارفین نے قبر کے قریب اس انداز میں قوالی پیش کرنے اور نوٹ نچھاور کرنے پر اعتراض اٹھایا۔

بعض صارفین نے اسے قبر کے احترام کے منافی قرار دیا اور تقریب کے انداز پر تنقیدی تبصرے کیے۔

مداحوں نے راحت فتح علی خان کا دفاع بھی کیا

دوسری جانب راحت فتح علی خان کے بعض مداحوں نے اس عمل کا دفاع کرتے ہوئے اسے نصرت فتح علی خان کو خراج عقیدت پیش کرنے کا ایک انداز قرار دیا۔

مداحوں کا کہنا تھا کہ راحت فتح علی خان اپنے چچا اور استاد سے گہری وابستگی رکھتے تھے اور ان کی برسی کے موقع پر قبر پر حاضری اسی محبت اور عقیدت کا اظہار ہے۔

نصرت فتح علی خان کا موسیقی میں ناقابل فراموش مقام

راحت فتح علی خان نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دور میں اپنے چچا اور استاد نصرت فتح علی خان کے ساتھ بھی پرفارم کیا اور بعدازاں قوالی اور گائیکی کی دنیا میں اپنی الگ شناخت بنائی۔

عالمی شہرت یافتہ قوال نصرت فتح علی خان اگست 1997 میں 48 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

ان کی وفات کو تقریباً تین دہائیاں گزرنے کے باوجود ان کی قوالیاں اور گیت پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج بھی مقبول ہیں اور انہیں قوالی کے عالمی منظرنامے پر ایک منفرد مقام حاصل ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق وائرل ویڈیو نے بنیادی طور پر قبر کے احترام اور عقیدت کے اظہار کے طریقۂ کار پر بحث چھیڑی ہے۔ تاہم ویڈیو کے محدود حصے کی بنیاد پر کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے بجائے مکمل صورتحال کو سامنے رکھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا صارفین اس معاملے پر مختلف رائے رکھتے ہیں۔ کچھ افراد نے قبر کے قریب قوالی اور نوٹ نچھاور کرنے پر اعتراض کیا جبکہ راحت فتح علی خان کے مداحوں نے اسے اپنے استاد اور چچا کو خراج عقیدت پیش کرنے کا انداز قرار دیا۔

ماہرین کی رائے

ثقافتی حلقوں کے مطابق برصغیر میں قوالی اور صوفی موسیقی کی محافل عقیدت کے اظہار سے گہرا تعلق رکھتی ہیں، تاہم کسی بھی مقام پر تقریب کے انعقاد کے طریقۂ کار اور وہاں موجود افراد کے جذبات کا احترام بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

نصرت فتح علی خان پاکستان کے عظیم ترین قوالوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی فنی میراث آج بھی زندہ ہے۔ ان کی برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرنا فطری امر ہے، تاہم ایسے مواقع پر مقام کے تقدس اور احترام کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔

میری رائے میں اس معاملے کو صرف تنقید یا دفاع کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے دونوں پہلوؤں کو سمجھنا چاہیے۔ راحت فتح علی خان کا مقصد اپنے استاد اور چچا کو خراج عقیدت پیش کرنا ہوسکتا ہے، لیکن قبرستان جیسے مقدس اور پُرسکون مقام پر کسی بھی سرگرمی میں احترام اور وقار کو اولین ترجیح دینا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین