رئیلٹی شو ’’بگ باس‘‘ اچانک معطل، شو کا اسٹوڈیو بند اور سیل کردیا گیا

بگ باس کناڈا سیزن 12" کو سب سے بڑا اور شاندار سیزن سمجھا جا رہا تھا

بھارت کی ریاست کرناٹکا میں مقبول رئیلٹی شو "بگ باس کناڈا سیزن 12” کی شاندار شروعات ایک راتوں رات ڈرامائی موڑ لے آئی، جہاں ماحولیاتی قوانین کی کھلی خلاف ورزیوں کی وجہ سے شو کو فوری طور پر بند کر دیا گیا۔ کرناٹکا اسٹیٹ پولوشن کنٹرول بورڈ (KSPCB) کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹس کے نتیجے میں شو کے اسٹوڈیو کو سیل کر دیا گیا، اور تمام شرکا کو فوری طور پر گھر خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ کارروائی نہ صرف شو کی پروڈکشن ٹیم کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے بلکہ مداحوں کے لیے بھی ایک غیر متوقع جھٹکا، جو اس سیزن کو سب سے شاندار اور بڑے پیمانے کا تصور کر رہے تھے۔ شو، جو کچھ ہفتے پہلے ہی کچھا سدیپ کی میزبانی میں شروع ہوا تھا، اب ماحولیاتی ذمہ داری کی اہمیت کی ایک زندہ مثال بن چکا ہے۔

شو کی شاندار شروعات اور اچانک بندش

"بگ باس کناڈا سیزن 12” کی افتتاحی تقریب کو ایک یادگار واقعہ قرار دیا جا رہا تھا، جہاں کچھا سدیپ کی دلکش میزبانی اور نئے شرکا کی دلچسپ انٹریز نے ناظرین کو مسحور کر دیا تھا۔ شو کا یہ نئیں نیا سیزن صرف چند ہفتوں میں ہی کرناٹکا کی ٹی وی کی دنیا میں طوفان مچا چکا تھا، جہاں اس کی لائیو سٹریمنگ اور ڈرامائی موڑوں نے لاکھوں شائقین کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ تاہم، 7 اکتوبر 2025 کو کنٹرول بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹس نے اس سب کو ہوا کر دی۔ بورڈ نے فوری طور پر تمام سرگرمیاں روکنے، بجلی کا کنکشن منقطع کرنے، اور اسٹوڈیو کو سیل کرنے کے احکامات جاری کیے، جو ماحولیاتی قوانین کی پابندی نہ کرنے کی سزا کا نتیجہ تھا۔

ماحولیاتی خلاف ورزیاں

کنٹرول بورڈ کی تفتیش کے دوران جو سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں، وہ نہ صرف تشویشناک تھیں بلکہ شو کی پروڈکشن کی لاپرواہی کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔ جولی ووڈ اسٹوڈیوز (جسے ویلز اسٹوڈیوز اینڈ انٹرٹینمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ چلاتا ہے) سے بغیر صاف کیے ہوئے گندے پانی کو براہ راست باہر چھوڑا جا رہا تھا، جو مقامی ماحول اور پانی کے ذرائع کو شدید خطرے میں ڈال رہا تھا۔ اس کے علاوہ، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (STP) بالکل کام نہیں کر رہا تھا، کچرا (جیسے پلاسٹک کپ اور کاغذی پلیٹیں) کو صحیح طریقے سے الگ اور ریکارڈ نہیں کیا جا رہا تھا، اور دو بڑے ڈیزل جنریٹرز مسلسل چلائے جا رہے تھے، جو ہوا میں آلودگی پھیلانے کا باعث بن رہے تھے۔

ریاستی وزیر ماحولیات و جنگلات ایشوار کھنڈرے نے اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسٹوڈیو کو 2024 میں دو نوٹسز جاری کیے گئے تھے، لیکن انتظامیہ نے انہیں نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ "ہم نے بار بار خبردار کیا تھا کہ ماحولیاتی اصولوں کی پابندی ناگزیر ہے، لیکن انہوں نے جان بوجھ کر لاپرواہی کی۔” بورڈ کی جانب سے واپر (پریوینشن اینڈ کنٹرول آف پولیوشن) ایکٹ 1974 کی سیکشن 33(اے) کے تحت بندش کا حکم دیا گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کوئی بھی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں۔

شرکا اور عملے کی نقل مکانی

نوٹس جاری ہوتے ہی شو کی پروڈکشن ٹیم پر افراتفری مچ گئی، جہاں تمام شرکا کو فوری طور پر گھر خالی کرنے کی ہدایت دی گئی۔ راتوں رات تقریباً 700 سے زائد افراد، جن میں شرکا، ٹیکنیکل ٹیم، لائٹنگ اسٹاف، کیمرہ آپریٹرز، اور دیگر عملہ شامل تھے، کو ایگلٹن ریزورٹ منتقل کر دیا گیا تاکہ ان کے قیام کا عارضی انتظام کیا جا سکے۔ یہ منتقلی نہ صرف شرکا کے لیے ایک اچانک تبدیلی تھی بلکہ پروڈکشن ٹیم کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا، جو شو کی لائیو فلمنگ کو روک رہی تھی۔ شرکا، جو ابھی تک شو کی ڈرامائی دنیا میں گم تھے، اب ماحولیاتی ذمہ داری کی اس سبق آموز کہانی کا حصہ بن گئے۔

شو کی لاگت اور وژن

"بگ باس کناڈا سیزن 12” کو سب سے بڑا اور شاندار سیزن سمجھا جا رہا تھا، جو اداکار کچھا سدیپ کے وژن پر مبنی تھا۔ شو کا یہ محل نما ہاؤس، جو جولی ووڈ اسٹوڈیوز میں بنایا گیا، تقریباً پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا تھا، جو اس کی عظمت کی عکاسی کرتا ہے۔ افتتاحی تقریب، جو کچھ ہفتے پہلے شاندار انداز میں منعقد ہوئی، نے ناظرین کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا، جہاں لائیو سٹریمنگ اور ڈرامائی موڑوں نے ٹی وی کی دنیا میں ایک نیا طوفان برپا کر دیا تھا۔ تاہم، یہ سب اب ماحولیاتی لاپرواہی کی نذر ہو گیا، جو شو کی مقبولیت کے باوجود قانونی جوابدہی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہنگامہ

اس اچانک بندش نے شائقین کو شدید مایوس کر دیا ہے، جہاں سوشل میڈیا پر ایک گرم بحث چھڑ گئی ہے۔ ہزاروں مداحوں نے #SaveBiggBossKannada12 جیسے ہیش ٹیگز استعمال کرتے ہوئے شو کی واپسی کا مطالبہ کیا، جبکہ کچھ نے ماحولیاتی قوانین کی حمایت میں کہا کہ "شو کی شان سے زیادہ ماحول کی حفاظت اہم ہے۔” منتظمین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کر کے اس فیصلے کو چیلنج کریں، جو شو کی واپسی کی امید کو زندہ رکھتا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف کرناٹکا کی ٹی وی انڈسٹری بلکہ پورے بھارت میں ماحولیاتی آگاہی کی ایک نئی لہر کو جنم دے رہا ہے۔

خلاف ورزیوں کی تفصیلات کا خلاصہ جدول

خلاف ورزی تفصیلات
گندا پانی بغیر صاف کیے ہوئے پانی کا براہ راست اخراج، مقامی ماحول کو خطرہ
سیوریج ٹریٹمنٹ STP بالکل کام نہیں کر رہا، پانی کی صفائی کا فقدان
کچرا مینجمنٹ پلاسٹک کپ، کاغذی پلیٹیں الگ نہ کی گئیں، ریکارڈنگ کی کمی
جنریٹرز کا استعمال دو بڑے ڈیزل جنریٹرز بغیر اجازت، ہوا میں آلودگی
نوٹسز کی عدم تعمیل 2024 میں دو نوٹسز، انتظامیہ نے نظر انداز کیا

"بگ باس کناڈا سیزن 12” کی اچانک بندش ماحولیاتی قوانین کی پابندی کی اہمیت کو ایک زندہ مثال کے طور پر پیش کرتی ہے، جو ٹی وی انڈسٹری کو ایک بڑا سبق دیتی ہے۔ KSPCB کی کارروائی، جو 2024 کے نوٹسز کی عدم تعمیل پر مبنی تھی، نہ صرف شو کی پروڈکشن کی لاپرواہی کو اجاگر کرتی ہے بلکہ بھارتی تفریحی شعبے میں ماحولیاتی آگاہی کی ضرورت کو بھی واضح کرتی ہے۔ پانچ کروڑ روپے کی لاگت والا یہ شاندار سیٹ، جو کچھا سدیپ کے وژن کا نتیجہ تھا، اب ایک انتباہ بن چکا ہے کہ کوئی بھی پروجیکٹ، چاہے کتنا ہی شاندار ہو، قانون سے بالاتر نہیں۔

تاہم، یہ واقعہ مثبت پہلو بھی رکھتا ہے، جہاں شرکا کی فوری منتقلی اور عدالت سے رجوع کی تجویز شو کی ممکنہ واپسی کی امید رکھتی ہے۔ سوشل میڈیا پر چھڑی بحث ماحولیاتی تحفظ کو تفریحی مواد سے جوڑ رہی ہے، جو انڈسٹری کو سبز پروڈکشن کی طرف راغب کر سکتی ہے۔ اگر منتظمین نے اسے موقع سمجھا تو یہ سیزن نہ صرف واپس آئے گا بلکہ ماحولیاتی ذمہ داری کی ایک نئی مثال بھی بن جائے گا، جو کرناٹکا کی ٹی وی دنیا کو مستحکم اور پائیدار بنائے گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین