ایک بار پھر پاک فوج کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت نے سرحد پار دہشت گردی کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے دور دراز علاقے میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر شروع ہونے والے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) میں بھارتی مددگار 7 خارجی دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، جبکہ آپریشن کی قیادت کرنے والے 30 سالہ میجر سبطین حیدر نے شدید فائرنگ کے تبادلے میں غازیوں کی مثال قائم کرتے ہوئے شہادت کا رتبہ حاصل کر لیا۔ انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے اس کارروائی کو فتنہ الخوارج جیسے بھارتی پراکسی گروپ کے خلاف ایک اور کامیابی قرار دیا ہے، جو ملک کی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
خفیہ اطلاع پر مبنی کارروائی
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جاری کردہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق، 8 اکتوبر 2025 کو ڈیرہ اسماعیل خان ضلع کے درابن علاقے میں سکیورٹی فورسز نے ایک خفیہ اطلاع پر مبنی آپریشن کا آغاز کیا۔ یہ اطلاع بھارتی حمایت یافتہ گروپ ‘فتنۃ الخوارج’ سے وابستہ دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق تھی، جو علاقائی استحکام کو درہم برہم کرنے کی سازشوں میں مصروف تھے۔ فورسز کی فوری اور مؤثر کارروائی نے ان دہشت گردوں کو ان کے ٹھکانے سے بھگایا، جہاں شدید جھڑپوں کے نتیجے میں 7 خارجی ہلاک ہو گئے۔ آئی ایس پی آر نے انہیں "جہنم واصل” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ عناصر بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی سرپرستی میں سرگرم تھے۔
آپریشن کے دوران ہونے والے فائرنگ کے شدید لمحات میں، ضلع کوئٹہ کے رہائشی میجر سبطین حیدر نے اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے ناقابل شکست حوصلہ کا مظاہرہ کیا۔ 30 سالہ یہ بہادر افسر، جو فرنٹ لائن پر موجود تھا، نے آخری سانس تک لڑتے ہوئے اپنی جان کی قربانی دی، جو قوم کے لیے ایک ایثار کی مثال بن گئی۔ ان کی شہادت نے نہ صرف ان کے ساتھیوں کا حوصلہ بلند کیا بلکہ پورے ملک میں فوج کی قربانیوں کی یاد کو تازہ کر دیا۔
برآمد شدہ ہتھیار
مارے جانے والے دہشت گردوں کے لاشوں اور ان کے ٹھکانے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر دہشت گردانہ مواد برآمد ہوا ہے، جو ان کی شیطانی سرگرمیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ عناصر متعدد دہشت گردانہ حملوں میں ملوث رہے ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز، پولیس اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔ ان کی کارروائیاں نہ صرف علاقائی امن کو چیلنج دیتی تھیں بلکہ سرحد پار دہشت گردی کی ایک منظم کوشش کا حصہ بھی تھیں، جو بھارتی مفادات کی تحریک میں چل رہی تھیں۔
یہ برآمد شدہ مواد ان دہشت گردوں کی وسیع نیٹ ورک کی نشاندہی کرتا ہے، جو ملک بھر میں انتشار پھیلانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔ پاک فوج نے اسے ایک اہم کامیابی قرار دیا ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک نئی کڑی جوڑتا ہے۔
کلیئرنس آپریشن جاری
ترجمان پاک فوج نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ درابن اور آس پاس کے علاقوں میں ممکنہ طور پر چھپے ہوئے دیگر بھارتی حمایت یافتہ خارجیوں کو تلاش کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاک فوج فتنۃ الخوارج جیسی دہشت گردی کی جڑوں کو مکمل طور پر اکھاڑنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ "ہمارے بہادر بیٹوں کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید فولاد کا بنا دیتی ہیں،” ترجمان نے کہا، جو فوج کی غیر متزلزل روح کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ آپریشن گزشتہ دنوں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والے دیگر کامیاب کارروائیوں کا تسلسل ہے، جہاں سکیورٹی فورسز نے کئی دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور ان کے نیٹ ورک کو کمزور بنایا۔ ملک بھر میں جاری ان آپریشنز دہشت گردی کے خلاف ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہیں، جو سرحد پار مداخلت کو ناکام بنانے پر مرکوز ہے۔
قومی سطح پر ردعمل
میجر سبطین حیدر کی شہادت پر صدر مملکت، وزیراعظم اور فوج کے اعلیٰ حکام نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے ایک پیغام میں کہا کہ "شہدا کی قربانیاں قوم کی حفاظت کی ضمانت ہیں، اور ہم ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔” وزیراعظم شہباز شریف نے بھی فورسز کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک سنگ میل ہے۔
علاقائی سطح پر، ڈیرہ اسماعیل خان کے رہائشیوں نے بھی آپریشن کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا اور شہید کے لیے فاتحہ خوانی کی تقریب کا اہتمام کیا۔ یہ واقعہ نہ صرف فوجی کارروائی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ عوام اور فوج کے درمیان اتحاد کی طاقت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
ڈی آئی خان آپریشن پاک فوج کی انٹیلی جنس اور آپریشنل صلاحیتوں کا ایک اور شاندار مظہر ہے، جو بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ فتنۃ الخوارج جیسے گروپس کی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان کی اندرونی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ علاقائی استحکام کو بھی چیلنج کرتی ہیں، جو سرحد پار مداخلت کی ایک واضح مثال ہے۔ میجر سبطین حیدر جیسی شہادتیں، اگرچہ دل دہلا دینے والی ہیں، تو فوج کے حوصلے اور قوم کی یکجہتی کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔
تاہم، یہ واقعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ایک طویل اور مسلسل عمل ہے، جہاں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فوری کارروائیاں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ حکومت اور فوج کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپریشنل سطح پر توجہ دیں بلکہ سرحدی نگرانی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مزید بہتر بنائیں۔ عالمی برادری کو بھی بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی ان سازشوں کی نشاندہی کرنی چاہیے، تاکہ جنوبی ایشیا میں امن کی راہ ہموار ہو۔ اگر یہ عزم برقرار رہا تو دہشت گردی کا یہ عفریت مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے، جو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد بنے گا۔ شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، بلکہ یہ قوم کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہوں گی





















