رات کی گہری خاموشی کو چیرتی ہوئی لاہور کی گلیوں میں فوجی جھڑپوں کی آوازیں گونج اٹھیں جب پنجاب پولیس نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مرکزی دفتر پر اچانک چھاپہ مارا۔ یہ کارروائی تنظیم کے سربراہ سعد رضوی کو گرفتار کرنے کی کوشش میں کی گئی تھی، جو غزہ امن معاہدے کے خلاف منائے جانے والے بڑے احتجاج کی دھمکیوں کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ نتیجہ ایک افراتفری کا منظر بنا جہاں پولیس اور مشتعل کارکنوں کے درمیان پتھراؤ، لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ نے ملتان روڈ کو ایک جنگی میدان میں تبدیل کر دیا، اور شہر کی راجدھانی کو خوف و ہراس کی لپیٹ میں لے لیا۔
گرفتاری کی ناکام سازش
بدھ کی رات دیر گئے، جب شہر کی سڑکیں خاموش ہو چکی تھیں، پولیس کی بھاری نفری نے ٹی ایل پی کے سینٹرل سیکرٹریٹ پر دھاوا بول دیا۔ خفیہ ذرائع بتاتے ہیں کہ یہ آپریشن سعد رضوی کی ممکنہ گرفتاری کے لیے تیار کیا گیا تھا، جو تنظیم کی قیادت سنبھالنے کے بعد سے متعدد متنازع بیانات اور احتجاجی کالز کی وجہ سے زیرِ نظر رہے ہیں۔ تاہم، جیسے ہی پولیس نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، ٹی ایل پی کے وفادار کارکنوں نے شدید مزاحمت کا مظاہرہ کیا، مشتعل ہجوم نے پتھروں، لوہے کی سلاخوں اور ڈنڈوں سے پولیس پر حملہ کر دیا، جس سے تین کانسٹیبلز شدید زخمی ہو گئے۔ ایک پولیس افسر نے نام چھپانے کی شرط پر بتایا کہ "ہمارا مقصد صرف گرفتاری تھی، لیکن ہجوم کی تعداد اور شدت نے صورتحال کو کنٹرول سے باہر کر دیا۔”
جوابی کارروائی میں پولیس نے فوری طور پر آنسو گیس کی شیلنگ شروع کر دی، جو آسمان میں دھوئیں کی لہروں کی شکل میں پھیل گئی اور آس پاس کی گلیوں کو دُھندلا دیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں کارکنوں کو بھاگتے اور خالی شیلز اکٹھے کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جو اس افراتفری کی شدت کو عیاں کرتی ہیں۔ یہ جھڑپیں کئی گھنٹوں تک جاری رہیں، اور صبح ہونے تک لاہور میٹرو کی اورنج لائن سروس معطل کر دی گئی، جبکہ چوک یاتیم خانہ اور ملتان روڈ پر بھاری پولیس فورس تعینات کر دی گئی۔
غزہ معاہدے کے خلاف احتجاج
یہ سب کچھ اس وقت رونما ہوا جب ٹی ایل پی نے جمعہ کی نماز کے بعد اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے باہر بڑے پیمانے پر مظاہرہ کا اعلان کیا تھا، جسے "غزہ کی غداری” کے خلاف قرار دیا گیا۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والا یہ معاہدہ فلسطینیوں کے حقوق کو نظر انداز کرتا ہے اور اسرائیلی جارحیت کو مزید تقویت دیتا ہے۔ اس اعلان نے حکومتی سطح پر گہری تشویش پیدا کر دی، خاص طور پر اس لیے کہ فیض آباد انٹرچینج—جو ماضی میں ٹی ایل پی کے تاریخی دھرنوں کا مرکز رہا—پر کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں تاکہ مظاہرین کی آمد کو روکا جا سکے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ٹی ایل پی نے لاہور میں ہزاروں حامیوں کو بلایا ہوا تھا، جو عارضی کیمپوں میں قیام پذیر تھے۔ یہ کارکن نہ صرف مظاہرے کی تیاری کر رہے تھے بلکہ تنظیم کی ہدایات پر عمل کرنے کو تیار بیٹھے تھے۔ جب پولیس پارٹیاں مرکزی دفتر کی طرف بڑھیں تو انہوں نے فوری طور پر رکاوٹ ڈال دی، اور پولیس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ منٹ مرر کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ متعدد ٹی ایل پی رہنماؤں، بشمول اسلام آباد سے گرفتار نعیم چٹھہ، کو بھی ہِراساں کیا جا رہا ہے۔
ٹی ایل پی کا ردعمل
جمعرات کی صبح جاری کردہ ایک بیان میں ٹی ایل پی نے الزام لگایا کہ ان کے متعدد کارکنوں کو رات بھر کی چھاپہ مار کارروائیوں میں گرفتار کر لیا گیا ہے، اور ان کے گھروں پر بھی دھاوے بولے جا رہے ہیں۔ تنظیم نے اسے "اسلام اور فلسطینیوں کے خلاف سازش” قرار دیا اور وعدہ کیا کہ یہ کریک ڈاؤن ان کے عزم کو مزید مضبوط بنائے گا۔ سوشل میڈیا پر ٹی ایل پی کے حامیوں کی جانب سے ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں جن میں آنسو گیس کی شیلنگ اور پولیس کی لاٹھی چارج کی تصاویر واضح ہیں، جبکہ کچھ پوسٹس میں جانی نقصان کی بھی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری پوسٹس سے پتہ چلتا ہے کہ کارکن "اقصیٰ مارچ” کو روکنے کی حکومتی کوششوں کو "غزہ کی مظلوموں کی آواز دبانے” کا حربہ قرار دے رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ "دنیا بھر میں غزہ کے لیے مارچ ہو رہے ہیں، لیکن پاکستان میں پرامن احتجاج کو بھی کچلا جا رہا ہے۔” دوسرے صارفین نے پولیس کی کارروائی کو "ریاستی جبر” کا نام دیا، اور مطالبہ کیا کہ گرفتار کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے۔
شہر بھر میں کشیدگی
اس واقعے کے بعد لاہور میں صورتحال ابھی بھی نازک ہے۔ پولیس نے ٹی ایل پی ہیڈکوارٹر کو گھیرے میں لے لیا ہے، اور اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ مزید جھڑپوں کو روکا جا سکے۔ ایکس پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں دھوئیں اور چیخوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جہاں کارکن "غزہ زندہ باد” کے نعرے لگا رہے ہیں۔ پنجاب حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا، لیکن خبروں کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس نے اعلیٰ حکام سے مشاورت کی ہے۔ ماضی کے واقعات، جیسے 2021 میں سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہونے والے احتجاج، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تنازعہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔
عوامی سطح پر ردعمل مخلوط ہے: کچھ لوگ ٹی ایل پی کی کارروائی کو "مذہبی جذبات کی آگ میں تیل” قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسرے اسے فلسطینیوں کی حمایت کا جائز طریقہ سمجھتے ہیں۔ ایک تجزیہ کار نے کہا کہ "یہ صرف گرفتاری کا معاملہ نہیں، بلکہ علاقائی سیاست اور غزہ بحران کی جھلکی ہے جو پاکستان کی اندرونی استحکام کو چیلنج کر رہی ہے۔”
یہ جھڑپیں پاکستان کی پیچیدہ سیاسی اور مذہبی صورتحال کی ایک اور جھلک ہیں، جہاں غزہ جیسے عالمی بحران کو مقامی سیاست کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔ ٹی ایل پی کی طرح کی تنظیمیں، جو ماضی میں فیض آباد دھرنے جیسے واقعات سے ابھریں، اب نہ صرف مذہبی جذبات کو ہوا دیتی ہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں پر براہ راست حملہ بھی کرتی ہیں۔ غزہ امن معاہدے کے خلاف ان کا احتجاج، اگرچہ فلسطینیوں کی حمایت کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن اس کی شدت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ داخلی سیاسی دباؤ کا آلہ بھی بن سکتا ہے—خاص طور پر موجودہ حکومت کے لیے، جو امریکی ثالثی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہے۔
حکومت کی جانب سے چھاپہ مارنا ایک دفاعی حکمت عملی تو ہے، جو ممکنہ انتشار کو روکنے کی کوشش ہے، لیکن یہ ٹی ایل پی جیسے گروپوں کو مزید مقبول بنا سکتی ہے، جیسا کہ 2021 کے احتجاجوں میں دیکھا گیا جہاں ایک پولیس کانسٹیبل شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز اور پوسٹس اس تنازعہ کو عالمی سطح پر لے جا رہی ہیں، جو پاکستان کی امیج کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ حل کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ نہ صرف گرفتاریوں پر نظر ثانی کرے بلکہ پرامن احتجاج کی اجازت دے، جبکہ ٹی ایل پی جیسے گروپوں کو بھی تشدد سے گریز کا درس دیا جائے۔ اگر یہ کشیدگی بڑھی تو لاہور سے شروع ہو کر ملک بھر میں پھیل سکتی ہے، جو نہ صرف انسانی جان و مال کا نقصان کرے گی بلکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بھی پیچیدہ بنا دے گی۔ یہ لمحہ ذمہ داری اور بردباری کا امتحان ہے، جہاں جذبات کی بجائے عقل کی حکمرانی ضروری ہے





















