غزہ میں جاری دو سالہ جنگ کے خاتمے کی امیدوں کو ایک نئی پیچیدگی نے گھیر لیا ہے، جہاں اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر یوٹرن لے لیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ معاہدہ کابینہ کی متفقہ منظوری کے بغیر نافذ العمل نہیں ہوگا، جو آج شام 6 بجے (مقامی وقت) منعقد ہوگا۔ یہ اعلان مصری میڈیا اور رائٹرز کی جانب سے معاہدے کے فوری نفاذ کے دعووں کے فوراً بعد سامنے آیا، جو غزہ کی تباہ شدہ پٹی میں امن کی راہ کو مزید الجھا رہا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف یرغمالیوں کی رہائی اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کو مؤخر کر سکتا ہے بلکہ علاقائی تناؤ کو بھی بڑھا سکتا ہے، جہاں ہزاروں شہریوں کی جانیں داؤ پر لگ چکی ہیں۔
نیتن یاہو کا بیان
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ جنگ بندی پر عمل درآمد کا باضابطہ آغاز صرف اسی صورت میں ممکن ہوگا جب حکومت کی طرف سے معاہدے کی رسمی منظوری مل جائے۔ یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ "پہلے مرحلے” کے معاہدے کے فوراً بعد سامنے آیا، جسے مصر میں دستخط ہونے کی خبر تھی۔ اسرائیلی حکام نے واضح کیا کہ کابینہ اجلاس میں ووٹنگ کے ذریعے اس کی منظوری دی جائے گی، اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ منظور ہو جائے گا، جس کے بعد جنگ بندی رسمی طور پر نافذ ہوگی۔
اسرائیلی حکومت کے ترجمان شوش بدروسیان نے مزید تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ کابینہ کی منظوری کے 24 گھنٹوں کے اندر غزہ میں جنگ بندی کا نفاذ ہو جائے گا۔ اس کے بعد 72 گھنٹوں میں اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کا مرحلہ شروع ہوگا، جو معاہدے کا پہلا مرحلہ ہے۔ یہ وضاحت نہ صرف معاہدے کی مرحلہ وار نفاذ کو واضح کرتی ہے بلکہ اسرائیل کی حکومتی عمل کی پیچیدگیوں کو بھی اجاگر کرتی ہے، جو سیاسی اتفاق رائے پر منحصر ہے۔
مصری دعووں اور رائٹرز کی رپورٹ
یہ اعلان مصری سرکاری ذرائع اور عالمی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی جانب سے کیے گئے دعووں کے جواب میں سامنے آیا، جہاں کہا گیا تھا کہ مصر میں دوپہر کے وقت دستخط ہونے کے بعد معاہدہ فوری طور پر نافذ ہو چکا ہے۔ رائٹرز نے مصری حکام کے حوالے سے بتایا کہ فریقین نے پہلے مرحلے پر اتفاق کر لیا ہے، جس میں جنگ کی روک تھام، امدادی سامان کی غزہ میں رسائی، اور یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔ تاہم، اسرائیلی ذرائع نے اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ کی منظوری کے بغیر کوئی بھی قدم اٹھانا ناممکن ہے، جو معاہدے کی نفاذ میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔
کابینہ اجلاس
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، کابینہ اجلاس آج شام 6 بجے (مقامی وقت، 3:30 PM PKT) منعقد ہوگا، جہاں غزہ جنگ بندی معاہدے پر ووٹنگ ہوگی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے کی منظوری کی توقع کی جا رہی ہے، جو پہلے مرحلے کو فعال کر دے گی۔ یہ اجلاس نیتن یاہو کی قیادت میں ہوگا، جہاں سیکیورٹی کابینہ کے اراکین بھی شریک ہوں گے، اور اس کی منظوری کے بعد 24 گھنٹوں میں جنگ بندی کا اعلان ممکن ہے۔ یہ عمل غزہ کی جنگ زدہ آبادی کے لیے ایک اہم موڑ ہوگا، جہاں ہزاروں شہریوں کی جانیں اور امداد کی رسائی داؤ پر لگ چکی ہے۔
معاہدے کا پہلا مرحلہ
معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت، جنگ بندی کے نفاذ کے 72 گھنٹوں میں اسرائیلی یرغمالیوں (جن میں 20 زندہ اور 28 ہلاک سمجھے جاتے ہیں) کی رہائی اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کا عمل شروع ہوگا۔ اس کے علاوہ، امدادی سامان کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی، جو انسانی بحران کو کم کرنے میں مددگار ہوگا۔ یہ مرحلہ ٹرمپ کی ثالثی کا نتیجہ ہے، جو مصر، قطر، اور ترکی جیسے ثالث ممالک کی کوششوں سے طے پایا، اور اس کی کامیابی مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
عالمی ردعمل
اس اعلان نے عالمی سطح پر مخلوط ردعمل پیدا کیا ہے، جہاں فلسطینی رہنماؤں نے اسے "قوم کی استقامت کی فتح” قرار دیا، جبکہ اسرائیلی عوام میں جشن کی لہر دوڑ گئی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیا کہ "یہ ایک بڑا دن ہے، اور ہم دیکھیں گے کہ یہ کیسے ختم ہوتا ہے”، جبکہ اقوام متحدہ نے فوری نفاذ کی اپیل کی۔ تاہم، کچھ اسرائیلی انتہا پسند اراکین نے مخالفت کی، جو معاہدے کی منظوری میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ یہ ردعمل غزہ کی جنگ کے خاتمے کی امید کو زندہ رکھتا ہے، جو دو سالہ تنازعے میں 40,000 سے زائد فلسطینی ہلاکتوں کا نتیجہ ہے۔
اہم تفصیلات کا خلاصہ جدول
| پہلو | تفصیلات |
|---|---|
| اسرائیلی موقف | کابینہ منظوری کے بغیر نافذ العمل نہیں؛ اجلاس آج شام 6 بجے |
| ترجمان کا بیان | 24 گھنٹوں میں نفاذ؛ 72 گھنٹوں میں یرغمالی/قیدی تبادلہ |
| مصری دعوے | رائٹرز: مصر میں دستخط، فوری نفاذ؛ اسرائیل نے مسترد |
| معاہدے کا پہلا مرحلہ | جنگ روک، امداد کی رسائی، یرغمالی رہائی؛ ٹرمپ کی ثالثی |
| عالمی ردعمل | فلسطینی فتح؛ ٹرمپ کا خوشی کا اظہار؛ اقوام متحدہ کی اپیل |
اسرائیل کا یہ یوٹرن غزہ معاہدے کی نفاذ میں ایک اہم موڑ ہے، جو کابینہ کی منظوری کی شرائط کو اجاگر کرتا ہے اور مصری دعووں کو چیلنج کرتا ہے۔ نیتن یاہو کی حکومت کا یہ قدم سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت کو ظاہر کرتا ہے، جو انتہا پسند اراکین کی مخالفت سے متاثر ہو سکتا ہے، لیکن توقع ہے کہ آج شام کے اجلاس میں منظوری مل جائے گی، جو 24 گھنٹوں میں جنگ بندی کا آغاز کر دے گی۔ یہ معاہدہ ٹرمپ کی سفارتی کامیابی ہے، جو یرغمالیوں کی رہائی اور امداد کی رسائی سے انسانی بحران کو کم کرے گا، جو 40,000 سے زائد ہلاکتوں کا شکار غزہ کے لیے نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
تاہم، چیلنجز نمایاں ہیں – جیسے تبادلے کی تفصیلات اور طویل مدتی امن – جو ثالث ممالک (مصر، قطر، ترکی) کی مدد سے حل ہوں گے۔ فلسطینی استقامت اور اسرائیلی عوام کی خوشی اس معاہدے کی اہمیت کو بڑھاتی ہے، جو دو سالہ جنگ کا خاتمہ ہوگا۔ اگر کابینہ نے منظوری دی تو یہ مشرق وسطیٰ میں استحکام کی بنیاد رکھے گا، ورنہ تاخیر مزید جانیں لے سکتی ہے – یہ لمحہ امن کی طرف ایک امید کی کرن ہے، جو فوری عمل کا تقاضا کرتا ہے۔





















