کراچی کے ڈاکٹروں کا بڑا کارنامہ، دل اور پھیپھڑے فیل ہونے کے باوجود نوجوان کو نئی زندگی مل گئی

یہ واقعہ ایک عام کارڈیک سرجری کے دوران پیش آیا

پاکستان کی طبی تاریخ میں ایک سنہری باب شامل ہو گیا ہے، جہاں کراچی کے قومی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) کے ماہرین نے ایک ایسے چیلنج کا کامیابی سے مقابلہ کیا جو عام طور پر ناامید کن ہوتا ہے۔ ایک نوجوان مریض، جس کے دل اور پھیپھڑے آپریشن کے بعد مکمل طور پر کام کرنا چھوڑ چکے تھے، کو 9 دن کی ناقابل فراموش جدوجہد کے بعد نئی زندگی بخش دی گئی۔ یہ کارنامہ، جو ملک میں پہلی بار انجام پایا، جدید ترین لائف سپورٹ مشینوں وی اے ایکمو اور وی وی ایکمو کے استعمال پر مبنی ہے، جو مریض کے خون کو آکسیجن فراہم کرنے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ نکالنے کا کام سنبھالتی ہیں۔ یہ کامیابی نہ صرف ڈاکٹروں کی مہارت کی عکاسی کرتی ہے بلکہ این آئی سی وی ڈی کی مفت سہولیات کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے، جو ہزاروں مریضوں کے لیے امید کی کرن بن رہا ہے۔

دل اور پھیپھڑوں کی اچانک ناکامی

یہ واقعہ ایک عام کارڈیک سرجری کے دوران پیش آیا، جہاں مریض، جو کراچی کا رہنے والا ایک نوجوان تھا، آپریشن ٹیبل پر پہنچا۔ سرجری کامیابی سے مکمل ہوئی، لیکن آپریشن کے فوراً بعد مریض کی حالت اچانک بگڑ گئی جب اس کا دل اور پھیپھڑے کام کرنا چھوڑ دیے۔ یہ صورتحال، جو طبی لغت میں کارڈیو پلمونری ناکامی کہلاتی ہے، عام طور پر مریض کی فوری موت کا باعث بنتی ہے، لیکن این آئی سی وی ڈی کی ماہر ٹیم نے فوری طور پر مداخلت کی۔ ڈاکٹر علی رضا مانگی کی سربراہی میں کام کرنے والی ٹیم نے بیک وقت وی اے ایکمو (VA ECMO) اور وی وی ایکمو (VV ECMO) مشینوں کو فعال کر دیا، جو دل اور پھیپھڑوں کا عارضی طور پر کام سنبھالنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔

لائف سپورٹ مشینوں کا معجزاتی کردار

وی اے ایکمو اور وی وی ایکمو جیسی جدید لائف سپورٹ مشینوں نے مریض کی زندگی کو ایک نازک موڑ پر سنبھال لیا، جو پاکستان میں پہلی بار اس طرح استعمال ہوئیں۔ این آئی سی وی ڈی کے ترجمان نے بتایا کہ یہ مشینیں خون کو آکسیجن سے مالا مال کرتی ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جسم سے نکالتی ہیں، اور دل و پھیپھڑوں کی غیر فعال حالت میں جسم کے بنیادی افعال کو جاری رکھتی ہیں۔ مریض کو 9 دن تک ان مشینوں پر رکھا گیا، جہاں ٹیم نے دن رات کی نگرانی کی، اور آہستہ آہستہ مریض کے اعضاء نے اپنا کام بحال کرنا شروع کر دیا۔ یہ عمل نہ صرف تکنیکی مہارت کا مظہر تھا بلکہ ڈاکٹروں کی لگن اور صبر کی ایک خوبصورت مثال بھی، جو مریض کی بحالی کو ممکن بنا دیا۔

ڈاکٹر علی رضا مانگی کی قیادت

یہ پیچیدہ سرجری ڈاکٹر علی رضا مانگی کی سربراہی میں انجام دی گئی، جو این آئی سی وی ڈی کی ایکمو ٹیم کی مدد سے ممکن ہوئی۔ مانگی، جو کارڈیو تھوراسک سرجری کے ماہر ہیں، نے بتایا کہ مریض کی حالت اتنی نازک تھی کہ عام طور پر 48 گھنٹوں سے زائد مشینوں پر رکھنا ممکن نہیں ہوتا، لیکن ان کی ٹیم کی مہارت نے 9 دن کی جدوجہد کو کامیابی سے نبھایا۔ مریض کا علاج مکمل طور پر مفت کیا گیا، جو این آئی سی وی ڈی کی عوامی خدمت کی روایت کو جاری رکھتا ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ، جو دل کے امراض کے علاج میں پاکستان کی پہلی لائن کا دفاع ہے، نے اس کیس کے ذریعے کارڈیک انوویشن (Cardiac Innovation) میں اپنا کلیدی کردار مزید واضح کر دیا ہے۔

 نئی زندگی کی امید

علاج کے اختتام پر مریض کی حالت میں نمایاں بہتری آئی، جو دل اور پھیپھڑوں کی بحالی کی نشاندہی کرتی ہے۔ نوجوان، جو آپریشن کے بعد موت کے دہانے پر پہنچ چکا تھا، اب صحت یاب ہو کر گھر واپس جا سکتا ہے، جو ڈاکٹروں کی محنت کا صلہ ہے۔ این آئی سی وی ڈی کی ٹیم نے یہ بھی واضح کیا کہ ایسے کیسز میں مریض کی نفسیاتی مدد بھی اہم ہوتی ہے، جو انہوں نے خاندان کی مدد سے یقینی بنائی۔ یہ بحالی کی کہانی نہ صرف مریض اور اس کے خاندان بلکہ پورے ملک کے لیے ایک امید کی کرن ہے، جو طبی ترقی کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔

این آئی سی وی ڈی کی خدمات

این آئی سی وی ڈی، جو کراچی میں دل کے امراض کے علاج کا مرکزی مرکز ہے، نے اس کیس کے ذریعے اپنی جدید سہولیات کو مزید سامنے لایا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ مفت علاج فراہم کر رہا ہے، جو غریب اور متوسط طبقے کے مریضوں کے لیے ایک نعمت ہے۔ اس کیس نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں کارڈیک سرجری کی سطح عالمی معیار کی ہے، جو این آئی سی وی ڈی کی ٹیم کی وقفیت اور جدید آلات کی موجودگی کی وجہ سے ممکن ہے۔ یہ کامیابی ملک بھر کے ہسپتالوں کے لیے ایک مثال ہے، جو ایسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس خبر نے سوشل میڈیا پر پاکستانیوں میں فخر کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں کئی صارفین نے لکھا، "ہمارے ڈاکٹرز دنیا بھر میں مشہور ہونے کے قابل ہیں!” جبکہ دوسرے نے مریض کی بحالی کی دعا کی۔ یہ ردعمل نہ صرف این آئی سی وی ڈی کی خدمات کی تعریف کرتا ہے بلکہ عوام میں طبی اعتماد کو بڑھا رہا ہے، جو ملک کی صحت کی صورتحال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین