جنوبی افریقا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے پاکستان نے اپنا فائنل الیون طے کر لیا ہے، جہاں 38 سالہ لیفٹ آرم اسپنر آصف آفریدی اپنے ٹیسٹ کیرئیر کا آغاز کریں گے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق ٹیم مینجمنٹ نے سات بیٹرز، دو فاسٹ بولرز، اور دو اسپنرز پر مشتمل متوازن ترکیب کا فیصلہ کیا ہے۔ ساجد خان کی وائرل فیور کی وجہ سے عدم موجودگی نے آصف آفریدی کے ڈیبیو کا راستہ صاف کر دیا، جن کی بولنگ سے عبوری ہیڈ کوچ اظہر محمود خاص طور پر متاثر ہیں۔ یہ میچ کل، 12 اکتوبر 2025 کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں صبح 10 بجے شروع ہوگا، جو دونوں ٹیموں کے لیے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کے نئے سائیکل کا آغاز ہوگا۔
آصف آفریدی کا ڈیبیو
آصف آفریدی، جو گزشتہ کئی سالوں سے ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھا رہے ہیں، اب پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ عبوری ہیڈ کوچ اظہر محمود نے ان کی طویل اسپیلز اور کنٹرول کی صلاحیت کو سراہا، جو ان کے ڈیبیو کے حق میں فیصلے کو مضبوط کرتا ہے۔ ساجد خان کی بیماری کی وجہ سے ان کی جگہ آصف آفریدی کو شامل کیا گیا، جو نعمان علی کے ساتھ اسپن اٹیک کا حصہ ہوں گے۔
فائنل الیون
پاکستان کا فائنل الیون مندرجہ ذیل ہے:
- بیٹرز: امام الحق، عبداللہ شفیق، شان مسعود (کپتان)، بابر اعظم، سعود شکیل، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، سلمان علی آغا
- فاسٹ بولرز: شاہین شاہ آفریدی، حسن علی
- اسپنرز: نعمان علی، آصف آفریدی
یہ ترتیب اسپن اور پیس کا مناسب امتزاج پیش کرتی ہے، جہاں شاہین آفریدی فاسٹ بولنگ کا اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ حسن علی ان کی حمایت کریں گے۔ اسپن اٹیک میں نعمان علی اور آصف آفریدی کی جوڑی لاہور کی اسپن ساز وکٹ کے لیے موزوں سمجھی جا رہی ہے۔
میچ کا پس منظر
یہ میچ پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان دو ٹیسٹ میچز کی سیریز کا پہلا حصہ ہے، جو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کا آغاز ہے۔ جنوبی افریقا، موجودہ چیمپئن ہونے کے ناطے، ایک مضبوط چیلنج پیش کرے گا، جبکہ پاکستان کی ٹیم کپتان شان مسعود کے تحت اپنی حالیہ ناکامیوں (12 میں سے 3 جیت) کو بدلنے کی کوشش کرے گی۔ لاہور کی وکٹ، جو اسپنرز کے لیے سازگار ہوتی ہے، اس میچ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، جس کی وجہ سے آصف آفریدی کے ڈیبیو پر سب کی نظریں ہوں گی۔
تیاری اور توقعات
دونوں ٹیمیں آج (11 اکتوبر) قذافی اسٹیڈیم میں تربیتی سیشنز کے ذریعے اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دیں گی۔ کرکٹ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کی اسپیئر بولنگ اٹیک جنوبی افریقا کے بلے بازوں کے لیے چیلنج ہوگی، جبکہ شاہین آفریدی کی واپسی فاسٹ بولنگ میں توازن لائے گی۔ آصف آفریدی کے لیے یہ موقع ان کی ڈومیسٹک کیرئیر (57 میچز میں 198 وکٹیں) کی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر ثابت کرنے کا ہے۔
اہم تفصیلات کا خلاصہ جدول
| پہلو | تفصیلات |
|---|---|
| میچ کا آغاز | 12 اکتوبر 2025، صبح 10 بجے، قذافی اسٹیڈیم، لاہور |
| آصف آفریدی کا کردار | 38 سالہ اسپنر، ساجد خان کی جگہ؛ اظہر محمود کی حمایت |
| فائنل الیون | 7 بیٹرز، 2 فاسٹ بولرز، 2 اسپنرز (شامل: امام، عبداللہ، بابر، رضوان، شاہین) |
| ساجد خان کا حال | وائرل فیور، پلیئنگ الیون سے باہر |
| سیریز کا مقصد | ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 کا آغاز |
آصف آفریدی کا ڈیبیو پاکستان کی اسپن بولنگ کو نئی جہت دے سکتا ہے، خاص طور پر جب اظہر محمود جیسے تجربہ کار کوچ کی حمایت ان کے اعتماد کو بڑھا رہی ہے۔ ساجد خان کی غیر موجودگی کے باوجود نعمان علی کے ساتھ ان کی جوڑی لاہور کی وکٹ پر مؤثر ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ شاہین اور حسن کی فاسٹ بولنگ اٹیک مخالف ٹیم کو دباؤ میں رکھے گی۔ تاہم، جنوبی افریقا کی مضبوط بیٹنگ لائن اس میچ میں پاکستان کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگی، جو شان مسعود کی قیادت اور بابر اعظم کی فارم پر انحصار کرے گی۔ یہ میچ نہ صرف ٹیم کی نئی حکمت عملی کی جانچ ہے بلکہ آصف آفریدی کے لیے اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کا سنہری موقع بھی، جو کامیابی کی صورت میں پاکستان کے اسپن اٹیک کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔





















