خصوصی تحریر: نور اللہ صدیقی
ہر تحریک کی بنیاد ایک نصب العین پر رکھی جاتی ہے اور نصب العین سماج کو فکر و عمل کی جدت، تحّرک اور قوتِ عمل عطا کرتے ہیں۔ رواں صدی کی ایسی ہی ایک تحریک منہاج القرآن ہے جو لگ بھگ 5 دہائیوں سے علمی، تحقیقی ، اصلاحی و فلاحی سطح پر اپنا کردار ادا کررہی ہے اس تحریک کی بنیاد 17 اکتوبر 1980ء کو شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے لاہور میں رکھی۔
تحریک منہاج القرآن پاکستان سے شروع ہونے والی ایک ایسی دینی، فلاحی تحریک ہے جس نے بہت تھوڑے وقت میں دنیا کے ہر براعظم میں اپنا تعلیمی، فلاحی اور تنظیمی نیٹ ورک قائم کیا جس سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں لاکھوں کو پہنچ چکی ہے۔
تحریک منہاج القرآن کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اُس وقت بھرپور توجہ ملی جب دنیا دہشت گردی، خودکش دھماکوں، بے گناہ انسانوں کی اموات کی زد پر تھی، نائن الیون نے دہشت گردی کو ایک عالمی مسئلہ کے طور پر اجاگر کیا اور نائن الیون کے پس پردہ الزام مسلمانوں اور اسلام پر لگایا گیا، عالمی میڈیا کی اسلام کو دہشت گردی کے ساتھ بریکٹ کرنے کی غیر منصفانہ مہم کی وجہ سے دنیا بھر میں مسلمانوں کی آزادی نقل و حمل بری طرح متاثر ہوئی، اس دوران شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے دہشت گردی اور خودکش دھماکوں کو اسلام میں حرام قرار دیا اور اس حوالے سے 600صفحات پر مشتمل ایک فتویٰ جاری کیا اور قرآن و سُنت کے مستند حوالہ جات کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ جس اسلام میں ایک بےگناہ کی موت کو پوری انسانیت کی موت قرار دیا جاتا ہے وہ اسلام کسی بے گناہ کی جان لینے کی اجازت کیسے دے سکتا ہے؟۔ اس فتویٰ کے بعد مسلمانوں کو ایک مستند امن بیانیہ ملا اور مسلمان اس فتویٰ کی وجہ سے پورے قد کے ساتھ دنیا کے ہر مذہب کے ساتھ مکالمہ کرنے کی پوزیشن میں آئے اور بالآخر اسلام کے امن بیانیہ کو عالمی سطح پر بھی قبول کیا گیا۔ منہاج القرآن کی اس کاوش کو دنیا کے ہر مذہب اور خطے میں سراہا گیا۔ بلاشبہ یہ ایک انسانی کی بڑی خدمت ہے۔ شیخ الاسلام کے اس فتویٰ کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں اور ہر مکتب فکر کے افراد اس سے استفادہ کررہے ہیں۔
اُمت مسلمہ نے متعدد عروج و زوال کے دورِ دیکھے ہیں ، جب بھی کہیں بگاڑ آیا تو وہ جزوی نوعیت کا نہیں تھا، بگاڑ ہمیشہ اجتماعی نوعیت کا آیا اور رواں صدی تو بگاڑ کی شکل آکٹوپس کی طرح ہے کہ ہر طرف سے فتنے سر اٹھارہے ہیں، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے تحریک منہاج القرآن کی بنیاد رکھتے ہوئے اصلاح کے حوالے سے بھی ہمہ جہتی جدوجہد کی داغ بیل ڈالی اور بیک وقت تعلیم، تصوف، روحانیت ،عبادت و ریاضت ،عقائد کی اصلاح، خدمت انسانیت کے شعبہ جات میں منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے مضبوط ادارے قائم کئے۔یعنی منہاج القرآن ہمہ جہتی بیگاڑ کے رد کے لئے ہمہ جہتی جدوجہد کو بروئے کار لائے ہوئے ہے۔
لگ بھگ 5دہائیوں پر مشتمل تحریک کے کریڈٹ پر متعدد ایسے کام موجود ہیں جن پر بجا طور پر فخر کیا جا سکتا ہے، تحریک منہاج القرآن کا سب سے بڑا دینی،ملی ، قومی و انسانی کردار اپنے فکری دامن کو فرقہ واریت اور انتہا پسندانہ رجحانات کی آلائشوںسے بچا کر رکھنا ہے۔ تحریک منہاج القرآن نے ہر مکتب فکر کے علماء و زعما پر اپنے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے ہیں۔ منہاج القرآن کا ایک ایسا امتیاز ہے جو اُسے دیگر تحریکوں سے انفرادیت عطا کرتا ہے۔ وہ امتیاز مرکزی ، دینی و روحانی اجتماعات میں دیگر مکتب فکر کے علماء کو بطور مہمان اعزاز مدعو کرنا اور مرکزی خطاب کے لئے اپنا سٹیج پیش کرنا ہے۔ یہ فکری توسع عہد رواں میں خال خال نظر آتا ہے۔ ایک ایسے ماحول میں دیگر مکتب فکر کے علماء کو اپنا مرکزی پلیٹ فارم دینا بڑے فکری ظرف کی بات ہے جب مخالف مکتب فکر کے شخص کو مسجد میں خوش دلی سے نماز بھی پڑھنے کا ماحول میسر نہ ہو۔
ہر مکتبِ فکر یہاں تک کہ دیگر مذاہب کے نمائندگان کو عالمی شہرت یافتہ عالمی میلاد کانفرنس میں مدعو کیا جاتاہے جس سے بین المذاہب رواداری، بین المسالک ہم آہنگی اور مکالمہ کی فضا ہموار ہوئی ہے۔ اس وسعتِ فکر و نظر کی وجہ سے منہاج القرآن کا سٹیج قومی یکجہتی اوراتحاد بین المسلمین کا عملی نمونہ بن جاتا ہے، دیگر مذاہب و مکتب فکر کے علماء اپنی والہانہ عزت و تکریم کی وجہ سے اختلافات کی بجائے مشترکات کو اپنی فکری گفتگو کا حصہ بناتے ہیں جس سے اتحادِ اُمت کی خوشبوئیں فضا کو معطر و منور کرتی ہیں۔
تحریک منہاج القرآن رواں صدی کی ایک ایسی علمی، تحقیقی اور اصلاحی تحریک ہے جس کی خدمتِ دین کی بنیاد تحقیق و تالیف، دلائل و براہین، استدلال و استنباط ہے۔ ہم معاصر تحاریک پر نگاہ دوڑائیں تو ہمیں ہر سو جوشِ خطابت ، لفظی گھن گرج، جذباتیت اور فکری قنوطیت کا غلبہ نظر آتا ہے ۔ تحقیق گریز اس ماحول نے غیر محسوس انداز میں عدم برداشت کو پیدا کیا ہے۔ یہ سوچ اور رویہ مصطفوی تعلیمات کے برخلاف ہے،اس غیر علمی اور صحت مند رویے کو تبدیل کرنے کے لئے تحریک منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے سینکڑوں کتب کی اشاعت عمل میں آئی ہے جس نے اسلاف کے تعلیم و تحقیق کے کلچر کا احیاء کیا ہے یعنی منہاج القرآن فقط جوش خطابت کی بجائے تحقیق و تدوین سے اپنی فکر اور عقائد کی ترویج کررہی ہے۔
46ویں یوم تاسیس کے موقع پر قارئین و ناظرین کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کی تاحال 700سے زائدکتب ،چیئرمین سپریم کونسل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی 25سے زائد کتب ،صدر منہاج القرآن پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری کی 58سے زائد کتب، شیخ حماد مصطفی المدنی القادری کی 5کتب جبکہ تحریک منہاج القرآن سے وابستہ منہاجین سکالرز اور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کے تلامذہ کی مختلف علمی موضوعات پر دو سو سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں، قومی و بین الاقوامی فورمز پر ہزار ہا لیکچرز ،مقالہ جات ،خطابات کی تعداد علاوہ ہے۔ خدمتِ دین و علم کی ایسی علمی نظیر فی زمانہ کہیں اور نظر نہیں آتی ۔
منہاج القرآن کی قیادت کو اللہ رب العزت نے علم و تحقیق سے محبت اور اظہار کے لئے فصاحت و بلاغت کی خاص نعمتوں سے نوازا ہے۔ منہاج القرآن کی قیادت مختلف ملکوں، خطوں، براعظموں ، قومی و بین الاقوامی فورمز پر اردو، عربی، انگریزی زبانوں میں اسلام کی باوقار وکالت کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے اور مستشرقین و ناقدین کو ان کے الزام و اتہام کا بروقت مدلل جواب مل رہا ہے،بالخصوص نئی نسل کو فتنہ الحاد سے بچانے اور ان کے دلوں میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے دیپ روشن کرنا فی زمانہ ایک قابل ذکر خدمت دین و خدمت انسانیت ہے ۔
منہاج القرآن کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ جس نے نوجوان نسل پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولے اور اس مقصد کے لئے منہاج یونیورسٹی لاہور، کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز، نظام المدارس پاکستان، منہاج کالج فار ویمن لاہور، منہاج کالج فار ویمن خانیوال، منہاج ایجوکیشن سوسائٹی، آغوش کمپلیکس، منہاج انسٹیٹیوٹ برائے قراءت و تحفیظ القرآن قائم کئے گئے جہاں لاکھوںطلبہ و طالبات تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ ہورہے ہیں ، تحریک منہاج القرآن کی علمی و تحقیقی مساعی فقط خدمتِ دین اور فلاح انسانیت تک محدود نہیں بلکہ تحریک کا وطن عزیز میں شرح خواندگی میں اضافہ، روزگار کے مواقعوں کی فراہمی میں بھی قابل ستائش کردار ہے۔
تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ویژن 2035ء دیا ہے بہت جلد جسے خاص و عام کے مطالعہ کے لئے پیش کر دیا جائے گا۔یہ ویژن مصطفوی معاشرے کے قیام کے حوالے سے نہایت مفید راہنما اصولوں پر مشتمل ہے۔ اس ویژن کے تحت تعلیم، روحانی ترقی، اصلاح احوال، اصلاح معاشرہ ،احیائے تصوف کے حوالے سے ایک عام فہم قابل عمل روڈ میپ دیا گیا ہے جس پر عمل کر کے ہر مسلمان اللہ اور اس کے رسولﷺ کے بتائے ہوئے راستوں پر آسانی کے ساتھ چل سکے گا۔
یہاں ایک نصیحت آموز واقعہ رقم کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ جب 1980ء میں تحریک منہاج القرآن کی بنیاد رکھی گئی تھی تو یہ دور طلباء تنظیموں کے عروج کا دور تھا، یونیورسٹیوں اور کالجز میں متشدد تنظیموں کا دور دورہ تھا، مخالف تنظیم کو برداشت نہیں کیا جاتا تھا اور معمولی سے اختلاف پر بات دنگا فساد اور قتل و غارت گری تک پہنچ جاتی تھی، شیخ الاسلام نے تعلیمی اداروں کے کلچر کو علمی ، دینی اور مصطفوی بنانے کے لئے مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کی بنیاد رکھی مگر اس دور کے مخصوص تقاضوں کے باعث مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے عہدیداروں کو متشدد سلوک کا سامنا کرنا پڑا یہ عہدیدار شیخ الاسلام کے روبرو نم دیدہ ہو کر اپنے دفاع کی اجازت مانگتے مگر شیخ الاسلام نے دو ٹوک فرمایا اگر آپ قلم کی قوت سے کام کر سکتے ہیں تو ٹھیک ورنہ گھر بیٹھ جائیں میں نے جب ہاتھوں میں قلم دیا ہے ان ہاتھوں میں اسلحہ کسی صورت نہیں دیکھ سکتا۔ اللہ رب العزت تحریک منہاج القرآن کو اپنی اساسی فکر کے ساتھ قائم و دائم رکھے۔






















