قرضے ملنے پر ایسے خوشی منائی جاتی ہے جیسے بیٹا پیدا ہوا ہو:سینیٹر سیف اللہ ابڑوکا طنز

اصل المیہ یہ ہے کہ ہم ایک قرض اتارنے کے لیے نیا قرض لیتے ہیں، اور اس طرح معیشت مسلسل زنجیروں میں جکڑتی جا رہی ہے

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا ہے کہ ٹی وی اسکرینوں پر جب یہ اعلان سننے کو ملتا ہے کہ ملک کو 100 ملین ڈالر کا قرضہ مل گیا ہے تو ایسا تاثر دیا جاتا ہے جیسے کوئی خوشخبری سنا دی گئی ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسے قرضوں کا کیا فائدہ جن کے بوجھ تلے ملک کی معیشت ہی بیٹھ جائے۔

یہ بات انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی، جہاں پاکستان کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے اب تک حاصل کیے گئے قرضوں کے حوالے سے تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کا کہنا تھا کہ ہر صبح جب ٹی وی چلائیں تو یہ سننے کو ملتا ہے کہ ملک کو فلاں ادارے سے اتنے ملین ڈالر مل گئے، اور ان اعلانات میں ایسی مسرت ظاہر کی جاتی ہے جیسے گھر میں بیٹے کی پیدائش کی خوشی منائی جا رہی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم ایک قرض اتارنے کے لیے نیا قرض لیتے ہیں، اور اس طرح معیشت مسلسل زنجیروں میں جکڑتی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر قرضے کسی ترقیاتی منصوبے، پیداواری عمل یا برآمدات کے فروغ کے لیے استعمال ہوں تو انہیں مفید کہا جا سکتا ہے، لیکن جب قرض صرف پرانے قرض اتارنے کے لیے لیا جائے تو وہ ملک کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔

اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ اقتصادی امور ڈویژن سے 1958 سے اب تک حاصل تمام قرضوں کی تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔ اس پر وزارتِ خزانہ کے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ان کے پاس 1984 سے 2025 تک کے مختلف پروگرامز کے تحت لیے گئے قرضوں کی تفصیلات موجود ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے نمائندے نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2008 سے اب تک کا تمام مالیاتی ڈیٹا مکمل طور پر خودکار نظام (آٹومیشن) کے تحت ریکارڈ میں محفوظ ہے، تاہم 2008 سے پہلے کا ڈیٹا دستی طور پر فائلوں میں رکھا گیا تھا، اس لیے اس کی تلاش اور تیاری میں وقت لگ سکتا ہے۔

چیئرمین کمیٹی نے اس موقع پر ہدایت دی کہ فی الحال 2008 سے لے کر موجودہ سال تک کے قرضوں کا مکمل ڈیٹا فراہم کیا جائے، کیونکہ 2008 کے بعد پاکستان کی سیاسی و معاشی سمت میں کئی تغیرات آئے ہیں — نیا پاکستان، پرانا پاکستان، اور پھر کئی مختلف سمتوں والے پاکستان۔

اسے بھی پڑھیں: عدم استحکام کا فائدہ بیرونی قوتیں اٹھائیں گی: خرم نواز گنڈاپور

کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں قرضوں سے متعلق تمام تفصیلات پیش کرنے کی سفارش کر دی تاکہ ملک کے مالیاتی بوجھ اور قرضوں کے اثرات کا حقیقت پسندانہ اندازہ لگایا جا سکے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی گفتگو پاکستان کی معیشت کے اس دیرینہ المیے کی نشاندہی کرتی ہے جس کا شکار ملک کئی دہائیوں سے ہے — یعنی قرضوں کے ذریعے معیشت کو سہارا دینے کی پالیسی۔ یہ وہ راستہ ہے جو وقتی ریلیف تو دیتا ہے مگر طویل المدتی تباہی کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔

پاکستان 1958 سے مسلسل بیرونی قرضوں پر انحصار کرتا آیا ہے۔ ابتدا میں ان قرضوں کا مقصد ترقیاتی منصوبے، صنعتی بنیادوں کی مضبوطی، اور برآمدات کے فروغ کے لیے سرمایہ فراہم کرنا تھا۔ تاہم، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قرضوں کا بیشتر حصہ پرانے قرضوں کی ادائیگی یا بجٹ خسارے کو پورا کرنے میں استعمال ہونے لگا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قرض معاشی سہارا نہیں بلکہ زنجیر بن جاتا ہے۔

آج صورتِ حال یہ ہے کہ پاکستان کا ہر نیا قرض محض وقتی سہارا ہے، جو نہ روزگار میں اضافہ کرتا ہے، نہ پیداواری صلاحیت میں، اور نہ برآمدات میں نمایاں بہتری لاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ قومی معیشت ایک مستقل گرداب میں پھنسی ہوئی ہے۔

سینیٹر ابڑو کا طنزیہ تبصرہ — کہ “قرض ملنے پر ایسا جشن منایا جاتا ہے جیسے بیٹا پیدا ہوا ہو” — ہمارے قومی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم قرض کو کامیابی سمجھنے لگے ہیں، جبکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک قرض کو ذمہ داری کے ساتھ ایک مخصوص منصوبے کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں، نہ کہ بجٹ چلانے کے لیے۔

کمیٹی کی جانب سے 2008 سے اب تک کے قرضوں کی تفصیلات طلب کرنا بلاشبہ ایک مثبت قدم ہے۔ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ گزشتہ 17 برسوں میں پاکستان نے کتنا قرض لیا، کس مقصد کے لیے لیا، اور اس کے بدلے میں کیا حاصل کیا۔ اسی دور میں ملک نے “نیا پاکستان” اور “پرانا پاکستان” جیسے سیاسی بیانیے بھی دیکھے، مگر دونوں ہی ادوار میں قرضوں کا بوجھ کم ہونے کے بجائے بڑھتا چلا گیا۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان قرضوں کے بغیر ترقی کرنے کے قابل بنے — یعنی برآمدات میں اضافہ، ٹیکس نیٹ کی توسیع، اور مقامی صنعتوں کی بحالی کو ترجیح دی جائے۔ جب تک ہم قرض کو ترقی کا ذریعہ نہیں بلکہ بوجھ سمجھ کر اس کے استعمال پر جامع اصلاحات نہیں لاتے، تب تک اقتصادی خودمختاری ایک خواب ہی رہے گی۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو کے ریمارکس ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم قرض کے عادی ہو چکے ہیں، یا اب بھی ہمارے پاس اپنی معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا حوصلہ باقی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین