سعودی عرب کی سرزمین، جو اسلامی دنیا کا روحانی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک جدید معاشی طاقت بن چکی ہے، نے غیر ملکی شہریوں کے لیے ایک ایسا دروازہ کھول دیا ہے جو کفیل کی روایتی زنجیروں کو توڑنے والا ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے گئے اکتوبر 2025 کے نئے اپ ڈیٹ میں پریمیم رہائش (Premium Residency) اسکیم کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جو غیر ملکیوں کو بغیر کسی اسپانسر یا کفیل کے سعودی عرب میں مستقل رہنے، کاروبار چلانے، اور روزگار حاصل کرنے کی آزادی عطا کرتی ہے۔ یہ پروگرام سعودی وژن 2030 کا ایک اہم ستون ہے، جو ملک کی معیشت میں تنوع لانے، عالمی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے، اور ہنرمند افراد کو مملکت کی خدمت میں شامل کرنے کا ذریعہ بنے گا۔ اب سعودی عرب نہ صرف حج اور عمرہ کی میزبانی کرے گا بلکہ ایک ایسا مرکز بھی بنے گا جہاں خوابوں کی پرواز بغیر کسی رکاوٹ کے ہو سکے۔
پریمیم رہائش کی دو اقسام
سعودی حکومت اس وقت دو قسم کی پریمیم رہائش پیش کر رہی ہے، جو ہر قسم کے غیر ملکی کے لیے موزوں بنائی گئی ہیں۔ پہلی، پائیدار رہائش (Permanent Residency)، ایک مرتبہ کی ادائیگی پر مبنی ہے، جس کی فیس SAR 800,000 (تقریباً 213,000 امریکی ڈالر) ہے، اور یہ تاحیات رہائش کی ضمانت دیتی ہے۔ یہ وہ لوگوں کے لیے ہے جو سعودی عرب کو اپنا مستقل گھر بنانا چاہتے ہیں، اور اس کی ایک بار کی ادائیگی انہیں طویل مدتی استحکام فراہم کرتی ہے۔
دوسری قسم، قابلِ تجدید رہائش (Renewable Residency)، سالانہ فیس SAR 100,000 (تقریباً 26,700 امریکی ڈالر) پر دستیاب ہے، جو ہر سال تجدید کی جاتی ہے۔ یہ وہ افراد کے لیے مثالی ہے جو لچک چاہتے ہیں، اور یہ پروگرام انہیں سعودی معیشت میں فعال کردار ادا کرنے کا موقع دیتا ہے، جبکہ ملک کی ترقی میں حصہ ڈالنے کی دعوت دیتا ہے۔
پروگرام کے فوائد
پریمیم رہائش حاصل کرنے والوں کو متعدد دلچسپ سہولیات ملتی ہیں، جو سعودی عرب کو ایک پرکشش منزل بناتی ہیں۔ اس میں سب سے اہم کفیل یا اسپانسر کی ضرورت کا خاتمہ ہے، جو غیر ملکیوں کو مکمل آزادی دیتا ہے۔ جائیداد کی خریداری کی اجازت (مکہ، مدینہ، اور سرحدی علاقوں کے علاوہ) ایک بڑا جذبہ ہے، جو سرمایہ کاری کو آسان بناتی ہے۔ کاروبار یا ملازمت کرنے کی اجازت، اہلیہ اور بچوں کی کفالت کی سہولت، اور ملک میں آزادانہ آمد و رفت کے لیے ویزے کی ضرورت نہ ہونا، یہ سب اس پروگرام کی کشش کو دوبالا کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ، بینکنگ، تعلیمی، اور طبی سہولتوں تک بلا رکاوٹ رسائی، اور بیروزِ ملک رقم کی منتقلی کی آزادی، یہ تمام فوائد سعودی عرب کو ایک جدید اور کھلا معاشرہ بناتے ہیں۔ تاہم، اس پروگرام کے تحت سعودی شہریت یا ووٹ کا حق نہ ملنا ایک واضح حدود ہے، جو ملک کی قومی شناخت کو محفوظ رکھتی ہے۔
اہلیت کی شرائط
اس پروگرام میں شمولیت کے لیے درخواست دینے والوں کو کچھ بنیادی شرائط پوری کرنی ہوتی ہیں، جو انصاف اور شفافیت کی ضمانت دیتی ہیں۔ عمر کم از کم 21 سال ہونی چاہیے، درست پاسپورٹ کا حامل ہونا ضروری ہے، اور کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہونا چاہیے۔ طبی طور پر فٹ ہونے کی تصدیق، سعودی عرب میں قانونی داخلہ، اور مستحکم آمدنی یا سرمایہ کی دستاویزات، یہ تمام شرائط ایک محفوظ اور ذمہ دار عمل کی بنیاد ہیں۔ یہ شرائط نہ صرف ملک کی سلامتی کو یقینی بناتی ہیں بلکہ مستحق افراد کو موقع بھی دیتی ہیں۔
درخواست کا آسان طریقہ کار
دلچسپی رکھنے والوں کے لیے درخواست کا عمل انتہائی سادہ اور جدید ہے، جو سعودی حکومت کی ڈیجیٹل ترقی کی عکاسی کرتا ہے۔ سرکاری ویب سائٹ (pr.gov.sa) پر اکاؤنٹ بنانے سے شروع ہوتا ہے، جہاں درخواست فارم پُر کرنا اور ضروری دستاویزات (پاسپورٹ، بینک اسٹیٹمنٹ، طبی رپورٹ) اپ لوڈ کرنا پڑتا ہے۔ فیس کی ادائیگی کے بعد تصدیق کا انتظار ہوتا ہے، جو عام طور پر 1 سے 3 ماہ لیتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل سہولت نہ صرف وقت بچاتی ہے بلکہ عمل کو شفاف بناتی ہے، جو سعودی عرب کی وژن 2030 کی روح سے ہم آہنگ ہے۔
سعودی وژن 2030 کا حصہ
سعودی حکومت کے مطابق، یہ پروگرام ملک کی معیشت میں تنوع لانے، عالمی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے، اور ہنرمند افراد کو مملکت کی خدمت میں شامل کرنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، جو سعودی عرب کو ایک عالمی مرکز بنانے کی کوشش ہے۔ یہ اقدام تیل پر انحصار کو کم کرتے ہوئے نئی سرمایہ کاری اور ہنر کی آمد کو فروغ دیتا ہے، جو ملک کی ترقیاتی راہ کو تیز کرے گا۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس پروگرام کی خبر نے سوشل میڈیا پر پاکستانی اور دیگر غیر ملکی شائقین میں جوش کی لہر دوڑا دی، جہاں کئی نے اسے "سعودی عرب کی کھلی دعوت” قرار دیا۔ ایکس پر #PremiumResidencySaudi ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں لوگ اپنی درخواستوں کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ ردعمل نہ صرف پروگرام کی کشش کو بڑھاتا ہے بلکہ سعودی عرب کی معاشی ترقی کی طرف عوامی دلچسپی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
اہم تفصیلات کا خلاصہ جدول
| پہلو | تفصیلات |
|---|---|
| پروگرام کا نام | پریمیم رہائش (Premium Residency) |
| اقسام | پائیدار (SAR 800,000، تاحیات)؛ قابل تجدید (SAR 100,000، سالانہ) |
| فوائد | کفیل کی ضرورت نہ، جائیداد خریداری، کاروبار/روزگار، خاندان کی کفالت، ویزہ فری سفر، بینکنگ/تعلیم/صحت رسائی، رقم منتقلی |
| اہلیت | عمر 21+، درست پاسپورٹ، کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ، طبی فٹنس، قانونی داخلہ، مستحکم آمدنی |
| درخواست کا طریقہ | ویب سائٹ پر اکاؤنٹ، فارم پُر، دستاویزات اپ لوڈ، فیس ادا، 1-3 ماہ تصدیق |
| مقصد | معیشت میں تنوع، سرمایہ کار راغب، ہنرمند افراد شامل |
سعودی عرب کی کھلی معاشی حکمت عملی
پریمیم رہائش کا نیا اپ ڈیٹ سعودی وژن 2030 کی ایک شاندار کامیابی ہے، جو کفیل کی روایتی بندش کو توڑتے ہوئے غیر ملکیوں کو کاروبار اور رہائش کی آزادی دیتا ہے، جو SAR 800,000 کی پائیدار فیس سے تاحیات استحکام اور SAR 100,000 کی تجدیدی آپشن سے لچک فراہم کرتا ہے۔ فوائد جیسے جائیداد خریداری، خاندانی کفالت، اور ویزہ فری سفر ملک کو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بناتے ہیں، جو تیل سے ہٹ کر معاشی تنوع لائے گا۔ اہلیت کی شرائط اور آن لائن درخواست عمل شفافیت کو یقینی بناتے ہیں، جو 1-3 ماہ کی تصدیق سے عمل کو تیز کرتے ہیں۔
تاہم، شہریت یا ووٹ کا حق نہ ملنا سعودی شناخت کی حفاظت کرتا ہے، جو پروگرام کی حدود واضح کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کی جوش کی لہر پاکستانیوں کو راغب کر رہی ہے، جو سعودی معیشت میں حصہ ڈالنے کا موقع دے گی۔ مجموعی طور پر، یہ پروگرام سعودی عرب کو ایک کھلے معاشی مرکز کی طرف لے جائے گا، جو عالمی ہنر اور سرمایہ کو اپنی طرف کھینچے گا – یہ ایک سنہری موقع ہے جو ملک کی ترقی کو تیز کرے گا۔





















