فساد کی جڑ!

جون ایلیا کا ایک شعر ہے کہ ’’ایک ہی حادثہ تو ہے اور وہ یہ کہ آج تک…بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی‘‘۔ یہ شعر اپنے اندر معانی کاایک جہان سموئے ہوئے ہے۔ بیشتر جھگڑے صرف اس ایک بات پر ہوتے ہیں کہ ہم مخالف کو سننا نہیں چاہتے، جب جذبات کے اظہار کے لئے لفظوں کے آگے بند باندھ دیا جائے تو وہ طغیانی کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، یہ تو اس کاایک پہلو ہے دوسرا پہلو بات کرنے کے سلیقے سے تعلق رکھتا ہے یعنی کہ جو بات دل سے نکلے وہ اثر رکھتی ہے، اگر انسان کا مقصد دوسرے کو سمجھانا ہو تو مناسب الفاظ مل جاتے ہیں اور اگر کسی کو ہرانا ہو تو پھر الفاظ کی شدت مقصدیت پر غلبہ حاصل کر لیتی ہے نتیجہ دنگا فساد کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔

کسی مسئلہ پر اختلاف رائے کا پایا جانا ایک فطری عمل ہے مگر اس بنا پر باہمی تنازع اور تفرقہ پروری ناپسندیدہ عمل ہے، دوسرے کی رائے کو اہمیت و احترام دینا اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے، حضور نبی اکرمﷺ کی ظاہری حیاتِ مبارکہ میں بھی سماجی مسائل میں بسا اوقات دو فریقوں میں اختلاف ہوتا تھا مگر وہ اختلافِ رائے ایک طبقہ کو اور کبھی کبھی سماج کے متعدد طبقات کو لپیٹ میں لے لیتا، ایسی صورت حال میں رسول اللہﷺ بطور راہبر برحق راہ نمائی فرماتے۔ اختلاف رائے اگر اپنی حدود و قیود سے نکل جائے تو وہ شر بن جاتا ہے ۔ اس انسانی مزاج کو قرآن مجید نے 14سو سال قبل کھول کر بیان کر دیا تھا چونکہ قرآن مجید قیامت تک کا ضابطہ حیات دینے والی الوہی کتاب ہے، اس نے ہر شعبہ میں اُمت کی راہنمائی کی ہے۔ اللہ رب العزت نے اپنی قدرت کاملہ سے 14سو سال قبل فرما کر دیا کہ بلاتحقیق کے کوئی بات مت کیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ نا سمجھی میں کوئی قبیلہ یا فرد دوسرے کو نقصان پہنچا ڈالے، فی زمانہ زیادہ تر جھگڑے بے جا مداخلت کے سبب سے ہوتے ہیں کہ ہم ایسے امور و معاملات میں دخل دیتے ہیں جو ہمارے متعلقہ نہیں ہوتے یا ان پر رائے زنی کے لئے ہمیں فریقین کی طرف سے اجازت نہیں دی جاتی، خوامخوہ کی دخل اندازی جھگڑوں کاایک بڑا سبب ہے۔ ایک تیسرا پہلو فہم و فراست ہے یعنی فریقین کے مابین پائے جانے والے اختلافات اور تنازعات کو پوری طرح سمجھے اور جانے بغیر اُس پر کوئی رائے زنی نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی فتوے جاری کرنے چاہئیں، رائے دینے کے لئے لازم ہے کہ آپ کو اس کا کسی نے اختیار دیا ہو اور دوسرا اس کا پہلو یہ ہے کہ کوئی بھی رائے قائم کرنے سے قبل کسی تنازع یا قضیہ کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے، اُس کے تمام پہلوئوں کا جائزہ لے لیا جائے، فریقین کے موقف کو اچھی طرح سن لیا جائے پھر اُس کے بعد رائے دی جائے یا اپنا فیصلہ سنایا جائے، ان تقاضوں کو پورا کئے بغیر رائے زنی اور دخل اندازی ہر گز جائز نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر بے جا مداخلت اور بلاتحقیق رائے زنی کا چلن عام ہے کہ جیسے ہی کوئی اشتعال انگیز تصویر نظر سے گزرے یا کوئی واقعہ ویڈیو کے ذریعے پوسٹ ہو جائے تو ہم اپنے جذبات کے زیر اثر بلاسوچے سمجھے اس پر کمنٹس شروع کر دیتے ہیں اور اُسے بے دھڑک شیئر کرنے لگتے ہیں، ہم کیوں اس بات کو نظر انداز کررہے ہیں کہ یہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا دور ہے یہاں کچھ بھی تخلیق کیا جا سکتا ہے، فرضی کردار بنا کر پسند کا بیانیہ نشر کیا جا سکتا ہے، نقل بمطابق اصل پیش کرنافی زمانہ کوئی مشکل کام نہیں رہا، شاید یہ ہی وہ انسان کی کمزوری تھی جسے قرآن مجید کے ذریعے 14صدیاں قبل ایڈریس کیا گیا اور قرآن نے راہ نمائی کی کہ پہلے تحقیق کر لیا کرو پھر بات کو آگے پہنچایا کرو۔

اسے بھی پڑھیں: عدم استحکام کا فائدہ بیرونی قوتیں اٹھائیں گی: خرم نواز گنڈاپور

حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا ’’میری اُمت میں اختلاف رائے رحمت ہے ‘‘۔ اختلاف رائے اور اختلاف میں فرق ہوتا ہے۔ اگر مقصد سمجھانا ہو توپھر اختلاف رائے رحمت ہے اور اگر کسی کو شکست دینا مقصود ہو تو ایسا اختلاف رحمت کی بجائے زحمت ہوتا ہے ایسی سوچ سے اجتناب ایک دینی و اخلاقی تقاضا ہے۔ اُمت مسلمہ کے باہمی تعلقات اور روابط کی مضبوطی کا سب سے بڑا ذریعہ ایمانی فراست اور مسلمانوں کے اندر فکر سلیم کا پایا جانا ہے، علم و دانش کی فراوانی کے باوجود آداب علم اور باہمی اختلافات کے اصول سے ناآشنائی نے وحدت اُمت کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔ معمولی معمولی تنازعات پر اختلافات کے نتیجے میں ہم داخلی انتشار و افتراق کا ایسے شکار ہوئے ہیں کہ اُمت کی وحدت پارہ پارہ ہو کر رہ گئی ہے، ہر میدان میں مسلمان اس قدر زوال و انحطاط کا شکار ہو چکے ہیں کہ کوئی کسی پر بھروسہ کرنے کے لئے تیار ہے اور نہ ہی کوئی تحقیق کے بغیر بات کرنے کو اپنی اخلاقی ،انسانی اور دینی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ قرآن مجید نے سورہ انفال میں اس مخاصمانہ کیفیت پر دو ٹوک حکم دیا ہے ’’ اور آپس میں جھگڑا مت کرو ورنہ (متفرق اور کمزور ہو کر) بزدل ہو جائو گے اور (دشمنوں کے سامنے) تمہاری ہوا (یعنی قوت) اکھڑ جائے گی‘‘۔ انتشار و افتراق کی بیماری کا جو نتیجہ قرآن مجید نے بتایا ہے وہ فکر انگیز ہے یعنی کہ باہمی جھگڑے انسان کو بزدل اور دشمن کے مقابلے میں کمزور بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی قوتیں اور ہمارے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ دشمن ہمیں آپس میں لڑانے پر توانائیاں اور وسائل خرچ کرتے ہیں۔ ہمارے باہمی جھگڑوں نے ہمیں ہماری نہ صرف قیمتی ترین علمی شخصیات سے محروم کر دیا بلکہ ان جھگڑوں کی وجہ سے ہم داخلی اعتبار سے کمزور ہو چکے ہیں۔ فرقہ واریت نے قومی وحدت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ یہ سارا قضیہ آداب اختلاف کے اصولوں کو نظر انداز کرنے سے ظاہر ہوا ہے۔ سابقہ اُمتوں کے زوال اور تباہی کی ایک وجہ اُن کا آپس میں بلاجواز جھگڑنا تھا اسی لئے قرآن مجید نے اُمت مسلمہ کو خبردار کیا کہ آپس میں دنگا فساد اور جھگڑا مت کرنا، قرآن مجید نے واضح کیا ہے کہ سابقہ اُمتوں یعنی یہود و نصاریٰ نے آپس کے اختلافات کی وجہ سے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور گروہوں میں بٹ گئے، ہر گروہ خود کو حق پر اور دوسرے کو باطل پر کھڑا سمجھتا تھا اور پھر وہ اللہ کے غضب کا شکار ہوئے اور ان کے وجود مٹا ڈالے گئے۔ اسلام کے تہذیبی و فکری مسائل اخلاقی و روحانی بیماریوں سے چھٹکاراپانے کے لئے ضروری ہے کہ اسلام کے اعتدال و توازن کی تعلیمات کو عام کیا جائے، اسلاف اور آئمہ ،صالحین کی فکری بنیادوں پر اصلاح کی کوشش سے ہی اُمت مسلمہ کے تنازعات کابہتر حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ امور و معاملات میں اختلاف رائے اور جدا جدا نقطہ نظر کا ہونا ایک فطری عمل ہے ۔ ہر انسان کی ذہنی صلاحیت اور مہارت میں فرق و تفاوت ضرور ہوتا ہے، کوئی بھی معاشرہ یکساں صلاحیتوں کے حامل افرادپر مشتمل نہیں ہوتا۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری عصرِ حاضر کی ایک معتبر علمی و محقق شخصیت کے مالک ہیں، انہوں نے حال ہی میں آدابِ اختلاف کے عنوان سے کتاب تحریر کی ہے جس کا ایک ایک باب اصلاحِ احوال اور فکر و نظر کی اصلاح کا ذریعہ ہے، انہوں نے آدابِ اختلاف کو قرآن و حدیث اور آثار و اقوال کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ 367صفحات پر مشتمل اس کتاب کا ایک ایک صفحہ اور ایک ایک حرف پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، آج کاانسان اگر آدابِ اختلاف سے بہرہ مند ہو جائے تو لاتعداد جھگڑوں کا خاتمہ ہو جائے، آدابِ اختلاف کی ضرورت دو دوستوں کو بھی ہے ،گھرانے کو بھی ہے ،محلہ اور شہر سے ہوتے ہوئے قومی سطح پر بھی اس کی اشد ضرورت ہے۔ اس کتاب کو ہر شخص کو ضرور پڑھنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین