مودی سرکار کے زخم ہرے، ٹرمپ نے 7 بھارتی طیارے گرنے کا پھر ذکر چھیڑ دیا

مودی نے روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرائی تھی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ ایک بار پھر عالمی سیاست کی ایک دلچسپ داستان بن گئی، جہاں انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ ایٹمی جنگ کو روکنے کا دعویٰ دہرایا، اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر روس سے تیل کی خریداری کی یقین دہانی نہ نبھانے کا الزام لگایا۔ ٹرمپ کا یہ بیان، جو 7 طیاروں کے گرنے کا ذکر کرتا ہے، بھارت کے زخموں کو تازہ کر رہا ہے، اور انہوں نے خود کو 8 جنگیں روکنے والا ماہر قرار دیا۔ یہ گفتگو نہ صرف جنوبی ایشیا کی حساس صورتحال کو اجاگر کرتی ہے بلکہ ٹرمپ کی سفارتی حکمت عملی اور سیاسی بیان بازی کی ایک نئی جھلک بھی پیش کرتی ہے، جو عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن چکی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک موقع پر ایٹمی جنگ چھڑنے والی تھی، جسے انہوں نے اپنی سفارتی کوششوں سے روک دیا۔ انہوں نے بھارت کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں 7 طیارے گرائے گئے تھے، اور وزیراعظم شہباز شریف نے مجھے کہا کہ "آپ نے لاکھوں زندگیاں بچا لیں”۔ ٹرمپ نے فخر سے کہا کہ وہ دنیا بھر میں اب تک 8 جنگیں روک چکے ہیں، جن میں سے کئی معمولی اختلافات سے شروع ہونے والی تھیں، مگر نتائج تباہ کن ہو سکتے تھے۔ ان کے بقول، بھارت اور پاکستان جیسی جوہری طاقتوں کے درمیان ممکنہ جنگ پوری دنیا کے لیے خطرہ بن سکتی تھی، جو ان کی مداخلت کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

بھارت پر تنقید

ٹرمپ نے اپنی گفتگو کا ایک حصہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر وقف کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرائی تھی، مگر اب یہ معاملہ طے ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "میں خوش نہیں تھا کہ بھارت روس سے تیل خرید رہا ہے”، جو امریکی خارجہ پالیسی کے تناظر میں بھارت کی روس سے قربت کو ایک چیلنج کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ الزام نہ صرف پاک-بھارت تناؤ کی یاد تازہ کرتا ہے بلکہ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کو بھی جوڑتا ہے، جو روس پر پابندیوں کی صورت میں بھارت کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔

حماس اور مشرق وسطیٰ

مشرق وسطیٰ کے حالات پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر حماس جنگ بندی کے معاہدے پر عمل نہ کرے تو اسے غیر مسلح کرنا ہوگا، جو غزہ میں جاری امن عمل کو ایک شرط کی طرح پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے امریکی فوج کی ضرورت نہ پڑے گی، اور حماس کو ایران کی حمایت حاصل تھی مگر اب اس نے بھی ہاتھ اٹھا لیے ہیں۔ یہ بیان نہ صرف غزہ معاہدے کی اہمیت کو بڑھاتا ہے بلکہ ٹرمپ کی سفارتی حکمت عملی کی کامیابی کو بھی واضح کرتا ہے، جو علاقائی استحکام کی طرف ایک قدم ہے۔

یوکرین اور چین

ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا، کہتے ہوئے کہ وہ اسے جلد حل کریں گے، جو روس کے خلاف امریکی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ چین کے ساتھ جاری تجارتی جنگ کو بھی انہوں نے امریکی مفادات کے مطابق منطقی انجام تک پہنچانے کی بات کی، جو ٹرمپ کی ‘امریکہ پہلے’ پالیسی کا حصہ ہے۔ یہ بیانات نہ صرف عالمی بحرانوں پر ان کی توجہ بلکہ سفارتی کوششوں کی وسیع جہت کو بھی واضح کرتے ہیں، جو ٹرمپ کی قیادت کی عکاسی کرتے ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ پر الزامات

ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہا کہ محکمہ انصاف نے ان کے خلاف انتقامی کارروائیاں کیں، اور ان کے بیٹے ایرک ٹرمپ کو بار بار تحقیقات کے لیے سمن کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر نینسی پلوسی تو میرے بیٹے کو عمر قید کی سزا دینا چاہتی تھیں، جو ان کی سیاسی دشمنی کو اجاگر کرتا ہے۔ ٹرمپ نے ٹیرف کے دفاع میں سپریم کورٹ میں مقدمہ لڑنے کا ذکر کیا، کہتے ہوئے کہ وہ 6 جنگیں صرف ٹیرف لگا کر روک چکے ہیں، جو ان کی تجارتی حکمت عملی کی طاقت کو واضح کرتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل

ٹرمپ کے بیان نے سوشل میڈیا پر فوری ردعمل پیدا کیا، جہاں پاکستانی صارفین نے پاک-بھارت جنگ روکنے پر ان کی تعریف کی، جبکہ بھارتی صروف نے روس-تیل الزام پر غم و غصہ کا اظہار کیا۔ ایکس پر #TrumpPakistanIndia ٹرینڈ کر رہا ہے، جو بیان کی سیاسی اہمیت کو بڑھاتا ہے۔

اہم نکات کا خلاصہ جدول

پہلو تفصیلات
ٹرمپ کا دعویٰ پاک-بھارت ایٹمی جنگ روکی؛ 7 طیارے گرے، شہباز کا شکریہ
جنگیں روکنے کی تعداد 8 جنگیں؛ بھارت-پاکستان کو ٹیرف سے روکا، لاکھوں جانیں بچائی
بھارت پر تنقید مودی نے روس سے تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی نہ نبھائی
حماس کا معاملہ عمل نہ کیا تو غیر مسلح کریں؛ ایران کی حمایت ختم
یوکرین/چین جنگ ختم کرنے کی کوشش؛ تجارتی جنگ منطقی انجام تک
بائیڈن الزامات انتقامی کارروائیاں؛ ایرک ٹرمپ کو عمر قید کی دھمکی
ٹیرف کا دفاع سپریم کورٹ میں مقدمہ؛ 6 جنگیں روک چکا ہوں

ٹرمپ کا یہ بیان پاک-بھارت تناؤ کو ایک بار پھر عالمی فورم پر لے آیا، جو 7 طیاروں کے گرنے اور ایٹمی خطرے کے دعوے سے بھارت کے زخموں کو تازہ کرتا ہے، اور شہباز شریف کی مبینہ تعریف سے پاکستان کی حمایت کو اجاگر کرتا ہے۔ 8 جنگیں روکنے کا دعویٰ ٹرمپ کی سفارتی خودنمائی ہے، جو ٹیرف کی حکمت عملی کو جنگیں روکنے کا آلہ بناتا ہے، جو ہارٹ اٹیک کی طرح خطرناک لگتا ہے۔ بھارت پر روس-تیل الزام امریکی پالیسی کی خلاف ورزی کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے، جو بھارت کی روس سے قربت کو چیلنج کرتا ہے۔

حماس اور یوکراین پر بیانات علاقائی استحکام کی کوششوں کو جاری رکھتے ہیں، جبکہ بائیڈن الزامات سیاسی انتقام کی داستان بُناتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی بحث اسے سیاسی طاقت کا حصہ بناتی ہے، جو ٹرمپ کی 2026 انتخابی مہم کو تقویت دیتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ بیان سفارتی کشمکش کی ایک نئی مثال ہے، جو جنوبی ایشیا میں تناؤ کو کم کر سکتا ہے، بشرطیکہ عملی اقدامات ہوں – یہ ٹرمپ کی ‘امریکہ پہلے’ پالیسی کی سفارتی توسیع ہے جو عالمی امن کو متاثر کرے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین