برطانوی اخبار دی گارڈین نے اپنی تازہ رپورٹ میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی سفارتی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ “دنیا بھر کے رہنماؤں میں شاید صرف شہباز شریف ہی وہ شخصیت ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر متوقع رویے کو سنبھالنا جانتے ہیں۔”
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شرم الشیخ میں منعقد ہونے والے غزہ امن سربراہ اجلاس کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کے رویے نے کئی عالمی رہنماؤں کو مشکل میں ڈال دیا۔ اجلاس میں جہاں مختلف ممالک کے سربراہانِ حکومت شریک تھے، وہیں ٹرمپ کی بے ساختہ حرکات اور اچانک تبصروں نے ماحول کو بارہا غیر رسمی بنا دیا۔
دی گارڈین کے مطابق، امریکی صدر نے موقع پر اطالوی وزیراعظم کی ظاہری تعریف کر کے سب کو حیران کر دیا، برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر کو بلا کر ان کی تقریر کے دوران اچانک مائیک خود سنبھال لیا، اور کینیڈا کے وزیراعظم کو مذاق میں “گورنر” کہہ کر مخاطب کیا، جس پر شرکاء میں ہلچل مچ گئی۔
تاہم، اخبار لکھتا ہے کہ “ان سب کے درمیان صرف ایک رہنما ایسے تھے جنہوں نے ٹرمپ کو نہایت مؤدبانہ انداز میں قابو میں رکھا — اور وہ تھے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف۔”
رپورٹ کے مطابق، شہباز شریف نے اپنی تقریر کے دوران نہ صرف ٹرمپ کے کردار اور عالمی امن کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا بلکہ غیر رسمی ماحول کو سفارتی احترام میں بدل دیا۔ جب امریکی صدر دوبارہ اسٹیج کی طرف بڑھنے لگے تو وزیراعظم پاکستان نے انہیں خوش اخلاقی سے روکتے ہوئے اپنی بات مکمل کی، جس پر ٹرمپ بھی مسکرا اٹھے اور ماحول خوشگوار ہو گیا۔
اخبار کے مطابق، “ٹرمپ کی تاخیر، ان کے بے ساختہ تبصروں اور غیر رسمی رویے کے باوجود شہباز شریف نے غیر معمولی تحمل اور سفارتی مہارت کا مظاہرہ کیا۔” رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاکستانی وزیراعظم نے جس انداز میں صورتحال کو سنبھالا، اس نے دنیا بھر کے نمائندوں پر گہرا تاثر چھوڑا۔
دی گارڈین کا کہنا ہے کہ “شہباز شریف کی گفتگو، ان کا اعتماد اور ان کی شائستگی نے ٹرمپ جیسے مشکل رہنما کو بھی نرمی پر مجبور کر دیا۔ یہ سفارتکاری کا ایک نایاب لمحہ تھا جس نے پاکستان کے مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر تقویت دی۔”
یہ واقعہ نہ صرف وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی فہم و فراست کو نمایاں کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتی ساکھ میں اضافے کا سبب بھی بنا ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا بھر کے رہنما ٹرمپ کے غیر متوقع طرزِ عمل سے گھبراتے ہیں، شہباز شریف کا پُر اعتماد اور متوازن رویہ پاکستان کے لیے مثبت پیغام بن کر ابھرا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، شہباز شریف کی یہ سفارتی حکمتِ عملی بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو ایک سنجیدہ، سمجھدار اور متوازن قیادت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ برطانوی میڈیا کی جانب سے اس اعتراف کو عالمی سطح پر پاکستان کی نرم قوت میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے





















