پاکستان کی قومی ٹیسٹ ٹیم نے ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 میں دھوم مچا دی، جہاں ایک شاندار فتح نے انہیں دوسرے نمبر پر پہنچا دیا ہے۔ دفاعی چیمپئن جنوبی افریقا کو اپنے پہلے میچ میں 93 رنز سے شکست دے کر گرین کیپس نے 12 پوائنٹس اور 100 فیصد جیت کا تناسب حاصل کیا، جو ان کی مضبوط کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس وقت آسٹریلیا سرفہرست ہے، جس نے تین میچز میں 36 پوائنٹس اور 100 فیصد جیت کے ساتھ اپنی بالا دستی قائم کی ہوئی ہے۔
سری لنکا 16 پوائنٹس اور 66.67 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے، جبکہ بھارت، جو سب سے زیادہ 52 پوائنٹس کے ساتھ سب سے آگے نظر آتا ہے، 61.90 فیصد جیت کے تناسب کی وجہ سے چوتھے نمبر پر پھنس گیا۔ بھارت نے 7 میچز میں 4 فتوحات، 2 شکستیں، اور 1 ڈرا حاصل کیا، لیکن زیادہ میچز کھیلنے کی وجہ سے اس کا تناسب متاثر ہوا۔ انگلینڈ 26 پوائنٹس اور 43.33 فیصد کے ساتھ پانچویں، بنگلہ دیش 16.67 فیصد کے ساتھ چھٹے، اور جنوبی افریقا ساتویں نمبر پر ہے۔ ویسٹ انڈیز 5 میچز میں صفر پوائنٹس کے ساتھ آٹھویں، جبکہ نیوزی لینڈ ابھی مہم شروع کرنے سے قاصر ہے۔
یہ کارکردگی نہ صرف پاکستان کے عزم کو اجاگر کرتی ہے بلکہ بھارت کی مشکل صورتحال کو بھی واضح کرتی ہے، جہاں زیادہ میچز کھیلنے کے باوجود پوزیشن متاثر ہوئی۔ کرکٹ شائقین کے لیے یہ مقابلہ مزید دلچسپ ہوتا جا رہا ہے، جہاں ہر فتح اور نقصان ٹیبل کو بدل سکتا ہے۔
اہم تفصیلات کا خلاصہ جدول
| ٹیم | میچز | فتوحات | شکستیں | ڈرا | پوائنٹس | جیت کا تناسب (%) |
|---|---|---|---|---|---|---|
| آسٹریلیا | 3 | 3 | 0 | 0 | 36 | 100.00 |
| پاکستان | 1 | 1 | 0 | 0 | 12 | 100.00 |
| سری لنکا | 2 | 1 | 0 | 1 | 16 | 66.67 |
| بھارت | 7 | 4 | 2 | 1 | 52 | 61.90 |
| انگلینڈ | 5 | 2 | 2 | 1 | 26 | 43.33 |
| بنگلہ دیش | 2 | 0 | 1 | 1 | 4 | 16.67 |
| جنوبی افریقا | 1 | 0 | 1 | 0 | 0 | 0.00 |
| ویسٹ انڈیز | 5 | 0 | 5 | 0 | 0 | 0.00 |
| نیوزی لینڈ | 0 | 0 | 0 | 0 | 0 | – |
پاکستان کی جنوبی افریقا کے خلاف شاندار فتح اسے ٹیسٹ چیمپئن شپ 2025-27 میں دوسرے نمبر پر لے گئی، جہاں 100 فیصد جیت کا تناسب ان کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ آسٹریلیا کی مسلسل فتوحات نے انہیں سرفہرست رکھا، جبکہ سری لنکا کا مستحکم آغاز تیسرے نمبر کی بنیاد بنا۔ بھارت کے 52 پوائنٹس ہونے کے باوجود چوتھے نمبر پر ہونا زیادہ میچز کے نتیجے میں کم ہوتے جیت کے تناسب (61.90%) کی وجہ سے ہے، جو ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ انگلینڈ کا سلو اوور ریٹ پر نقصان اور ویسٹ انڈیز کی ناکامی اس ٹیبل کی تنوع کو بڑھاتی ہے۔
یہ صورتحال پاکستان کے لیے حوصلہ افزا ہے، جہاں شاہین شاہ آفریدی اور نعمان علی جیسے بولرز نے فیصلہ کن کردار ادا کیا، مگر بھارت کو اپنی حکمت عملی دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ نیوزی لینڈ کا ابھی آنا باقی ہے، جو مقابلے کو مزید دلچسپ بنا سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ چیمپئن شپ ابھی کھلے دامن کی ہے، جہاں ہر ٹیم کو اپنی پوزیشن بچانے کے لیے سخت محنت کرنی ہوگی – یہ ایک ایسا مقابلہ ہے جو کرکٹ کے مستقبل کو نئی سمت دے سکتا ہے۔





















