امریکی معیشت کو روزانہ 15 ارب ڈالر کا نقصان ہورہا ہے ،امریکی وزیر خزانہ

ڈیموکریٹس ہیروز بنیں اور ریپبلکنز کے ساتھ مل کر شٹ ڈان ختم کرنے کے لیے اتفاق رائے پیدا کریں

واشنگٹن:امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ دو ہفتے سے جاری وفاقی حکومت کا شٹ ڈائون امریکی معیشت کو روزانہ 15 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہا ہے۔ اماراتی نیوز ایجنسی کے مطابق پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ شٹ ڈان کے اثرات اب امریکی معیشت کے اہم حصے کو نقصان پہنچانے لگے ہیں۔انہوں نے بتایاکہ ہمیں یقین ہے کہ حکومت کا شٹ ڈائون امریکی معیشت کو روزانہ 15 ارب ڈالر تک کا نقصان پہنچا رہا ہے۔بیسنٹ نے ڈیموکریٹس پر زور دیا کہ وہ ہیروز بنیں اور ریپبلکنز کے ساتھ مل کر شٹ ڈان ختم کرنے کے لیے اتفاق رائے پیدا کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا میں جاری سرمایہ کاری کی لہر خصوصا مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں طویل المدت طور پر پائیدار ہے اور تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن وفاقی حکومت کا تعطل اب اس ترقی کی بڑی رکاوٹ بنتا جا رہا ہے۔

امریکا، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور جدید جمہوریت قرار دیتا ہے، اس وقت ایک ایسے بحران سے دوچار ہے جو بظاہر انتظامی نوعیت کا ہے مگر درحقیقت سیاسی انا اور پارلیمانی تعطل کا نتیجہ ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے تازہ بیان نے اس بحران کی شدت کو واضح کر دیا ہے، جن کے مطابق وفاقی حکومت کا شٹ ڈاؤن امریکی معیشت کو روزانہ 15 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا مالیاتی زخم ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

امریکی حکومت کا "شٹ ڈاؤن” اس وقت ہوتا ہے جب کانگریس بجٹ کی منظوری دینے میں ناکام رہتی ہے۔ اس صورت میں وفاقی اداروں کو اپنی سرگرمیاں بند کرنا پڑتی ہیں، لاکھوں سرکاری ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملتیں اور کئی اہم شعبے جزوی یا مکمل طور پر معطل ہو جاتے ہیں۔ موجودہ بحران بھی ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان بجٹ کی منظوری پر اختلافات کے باعث شروع ہوا، جہاں دونوں جماعتیں اپنی اپنی سیاسی ترجیحات پر اڑ گئی ہیں۔

وزیر خزانہ کے مطابق، صرف دو ہفتوں میں امریکی معیشت کو 210 ارب ڈالر تک نقصان پہنچ چکا ہے۔ یہ نقصان صرف حکومتی اداروں کی بندش تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات نجی شعبے تک بھی پھیل چکے ہیں۔

کاروباری سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔اسٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔لاکھوں سرکاری ملازمین کی قوتِ خرید میں کمی سے صارفین کی طلب گھٹ رہی ہے۔سیاحتی، فضائی اور سروس سیکٹر میں نمایاں گراوٹ دیکھی جا رہی ہے۔یہ وہ عوامل ہیں جو مجموعی طور پر جی ڈی پی کی شرح نمو میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا اپنی اقتصادی برتری کو برقرار رکھنے کے لیے چین اور یورپ کے ساتھ مسابقت میں ہے۔

اسکاٹ بیسنٹ نے اپنی پریس کانفرنس میں ڈیموکریٹس کو "ہیروز بننے” کا مشورہ دیا اور انہیں ریپبلکنز کے ساتھ اتفاقِ رائے پیدا کرنے پر زور دیا۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ شٹ ڈاؤن اب صرف مالی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں ہر جماعت عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش میں ملک کے مفاد کو پسِ پشت ڈال رہی ہے۔

امریکی وزیر خزانہ نے خاص طور پر یہ نکتہ اٹھایا کہ مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ہونے والی تیزی سے بڑھتی سرمایہ کاری اب اس بحران سے متاثر ہو رہی ہے۔یہ شعبہ مستقبل کی امریکی معیشت کا سب سے اہم ستون سمجھا جا رہا ہے — لیکن اگر وفاقی حکومت کی پالیسی غیر یقینی کا شکار رہی، تو سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہونا لازمی ہے۔یہ صورتحال عالمی سطح پر امریکا کی تکنیکی برتری کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکا میں حکومتی شٹ ڈاؤن ہوا ہو۔2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں 35 دن طویل شٹ ڈاؤن ہوا تھا، جو امریکی تاریخ کا سب سے طویل تعطل تھا۔2013 میں بھی اوباما دور میں 16 دن کا شٹ ڈاؤن دیکھنے میں آیا۔تاہم موجودہ صورتحال زیادہ نازک ہے کیونکہ عالمی معیشت پہلے ہی یوکرین جنگ، تیل کی قیمتوں، اور سپلائی چین کے بحران سے دباؤ میں ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین