5.5 ارب افراد انٹرنیٹ سے منسلک، 2.6 ارب محروم ہیں،عالمی ادارے کی رپورٹ

اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل خلیج کو ختم کرنے کے لیے فوری عالمی اقدامات کی اپیل کی ہے

دبئی اقوام متحدہ نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل خلیج کو ختم کرنے کے لیے فوری عالمی اقدامات کی اپیل کی ہے۔

چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق اقوام متحدہ کے ٹیکنالوجی کے لیے خصوصی سفیرِ امن دیپ سنگھ گل نے دبئی میں جاری جیٹیکس گلوبل ٹیکنالوجی اور اے آئی نمائش کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ڈیجیٹل تقسیم کم کرنے کے لیے عالمی تعاون اور مؤثر حکمرانی کی ضرورت ہے۔

بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2024 میں تقریباً 5.5 ارب افراد انٹرنیٹ سے منسلک تھے، جو 2023 کے مقابلے میں 22 کروڑ 70 لاکھ کا اضافہ ہے۔ تاہم رپورٹ میں بتایا گیا کہ انٹرنیٹ تک رسائی میں اب بھی خاص طور پر کم آمدنی والے ممالک میں نمایاں فرق موجود ہے۔

دیپ سنگھ گل نے کہا کہ ہمیں ٹیکنالوجی کو تعاون اور یکجہتی کے زاویے سے دیکھنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے اقوام متحدہ جیسے جامع اداروں کا کردار نہایت اہم ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 2024 میں دنیا کی 32 فیصد آبادی یعنی تقریباً 2.6 ارب افراد اب بھی انٹرنیٹ سے محروم ہیں، جبکہ جو لوگ جڑے ہوئے ہیں وہ بھی اکثر کمزور کنکشن اور ناکافی آلات کی وجہ سے بہتر رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔

ان کے مطابق مسئلہ صرف انٹرنیٹ تک رسائی کا نہیں بلکہ ڈیٹا ڈیوائیڈ اور اے آئی ڈیوائیڈ بھی سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق امیر ممالک میں 93 فیصد آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے، جبکہ غریب ممالک میں یہ شرح صرف 27 فیصد ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ افریقہ کے پورے براعظم میں دنیا کی ڈیٹا سینٹر استعداد کا صرف ایک فیصد سے بھی کم حصہ موجود ہے اور وہاں اب تک ایسے GPU چپس کی تعداد ایک ہزار سے بھی کم ہے جو مصنوعی ذہانت (AI) ماڈلز کو تربیت دینے کے قابل ہوں۔

دیپ سنگھ گل نے خبردار کیا کہ یہ ڈیجیٹل خلیج ایک حقیقت ہے اور اس کے باعث ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے مواقع دنیا بھر میں غیر منصفانہ طور پر تقسیم ہو رہے ہیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کا حالیہ انتباہ دنیا کے اس تلخ حقیقت کی طرف ایک بار پھر توجہ دلاتا ہے کہ ہم جس تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو رہے ہیں، اسی تیزی سے انسانوں کے درمیان ٹیکنالوجی کا فاصلہ بھی بڑھ رہا ہے۔

ایک طرف وہ قومیں ہیں جہاں مصنوعی ذہانت (AI)، بگ ڈیٹا، روبوٹکس اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے خطے ہیں جہاں اب بھی انٹرنیٹ کی بنیادی سہولت ناپید ہے۔ یہ تفاوت دراصل موجودہ دور کی سب سے بڑی ترقیاتی نابرابری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

بین الاقوامی ٹیلی کمیونیکیشن یونین (ITU) کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں 5.5 ارب افراد انٹرنیٹ سے منسلک ہیں، مگر 2.6 ارب افراد اب بھی اس سے محروم ہیں۔ یہ تعداد دنیا کی کل آبادی کا ایک تہائی بنتی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ڈیجیٹل ترقی ابھی تک عالمی شمولیت (Global Inclusion) کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امیر ممالک میں 93 فیصد آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے، جبکہ غریب ممالک میں یہ شرح صرف 27 فیصد ہے۔ اس فرق کے باعث جہاں ایک طرف ترقی یافتہ اقوام مصنوعی ذہانت، آن لائن تعلیم، اور ڈیجیٹل تجارت سے اپنی معیشتیں مضبوط کر رہی ہیں، وہیں دوسری طرف کم آمدنی والے ممالک تعلیم، صحت، کاروبار اور روزگار کے مواقع سے پیچھے رہ رہے ہیں۔

خاص طور پر افریقہ میں صورتحال تشویشناک ہے۔ براعظم کی ڈیٹا سینٹر استعداد دنیا کے مجموعی ڈھانچے کا صرف ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ جدید GPU چپس، جو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے لازمی ہیں، وہاں صرف چند سو کی تعداد میں موجود ہیں۔ نتیجتاً افریقہ اور جنوبی ایشیا جیسے خطے ڈیجیٹل نوآبادیاتی نظام (Digital Colonialism) کے خطرے سے دوچار ہیں، جہاں ٹیکنالوجی پر اختیار چند ممالک اور کارپوریشنز کے ہاتھ میں مرتکز ہو رہا ہے۔

یہ صورتحال صرف ٹیکنالوجی کی نہیں بلکہ طاقت اور علم کی تقسیم کا بھی مسئلہ ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں پیچھے رہ جانا اب معاشی کمزوری کے مترادف ہے۔ آن لائن تعلیم تک رسائی نہ ہونا، ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام سے محروم رہنا، یا ڈیٹا سکیورٹی کی صلاحیت نہ رکھنا، سب مل کر ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک نیا معاشی خلا پیدا کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر امن دیپ سنگھ گل کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ مسئلہ صرف انٹرنیٹ کنکشن کا نہیں بلکہ ڈیٹا ڈیوائیڈ اور اے آئی ڈیوائیڈ کا بھی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے دور میں وہی ممالک آگے بڑھیں گے جو ڈیٹا، کمپیوٹنگ پاور اور ڈیجیٹل سکلز میں خود کفیل ہوں گے۔ اگر ترقی پذیر ملک اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے تو مستقبل میں وہ نہ صرف اقتصادی بلکہ علمی اور پالیسی سازی کے لحاظ سے بھی تابع بن جائیں گے۔

اسی لیے اقوام متحدہ کا زور اس بات پر ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کو تعاون، شمولیت اور انصاف کے اصولوں پر استوار کیا جائے۔ اگر عالمی سطح پر ڈیجیٹل رسائی، تعلیم، اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری نہ کی گئی تو دنیا ایک دو حصوں میں بٹی ہوئی ڈیجیٹل تہذیب بن جائے گی — ایک طرف وہ جو آگے بڑھ رہی ہے، اور دوسری وہ جو اندھیرے میں رہ گئی ہے۔

دورِ حاضر کی یہ خلیج شاید ماضی کی کسی بھی معاشی یا جغرافیائی تقسیم سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی کے بغیر مستقبل کا تصور ممکن نہیں۔
لہٰذا عالمی برادری کے لیے اب یہ وقت فیصلہ کن ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کو صرف ترقی یافتہ ممالک کی دولت نہ بننے دے بلکہ اسے انسانی مساوات کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین