ضلع مہمند میں پاک فوج کی کامیاب کارروائی، فتنۃ الخوارج کی بڑی دراندازی کی کوشش ناکام، 50 دہشت گرد ہلاک

ہلاک ہونے والے تمام دہشت گرد افغانستان کے مختلف علاقوں سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے

پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ضلع مہمند میں ایک بڑا اور فیصلہ کن آپریشن کرتے ہوئے فتنۃ الخوارج کی جانب سے کی گئی دراندازی کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی اس بروقت کارروائی میں 45 سے 50 تک دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، جب کہ متعدد زخمی ہو کر فرار کی کوشش کے دوران علاقے میں محصور ہو گئے۔

ذرائع کے مطابق، خوارج کی یہ نقل و حرکت اُس وقت دیکھنے میں آئی جب وہ حالیہ سیز فائر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان سے پاکستان میں گھسنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کا مقصد ملک کے اندر دہشت گردی کی نئی لہر کو جنم دینا تھا، تاہم سیکیورٹی اداروں نے ان کے ناپاک عزائم کو بروقت بھانپتے ہوئے ایک بھرپور کارروائی عمل میں لائی۔

خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی

سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ آپریشن کی منصوبہ بندی انتہائی حساس معلومات پر کی گئی تھی، جس میں دہشت گردوں کی بڑی تشکیل اور اُن کی نقل و حرکت کو ہدف بنایا گیا۔ فورسز نے پیشگی حکمت عملی اور بہترین انٹیلیجنس کو بروئے کار لاتے ہوئے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لیا اور مخصوص اہداف پر بھرپور حملہ کیا۔ اس کارروائی کے دوران دہشت گردوں اور فورسز کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا۔

دراندازی کی کوشش ناکام، کلیئرنس آپریشن جاری

آپریشن کے دوران کئی دہشت گرد شدید زخمی بھی ہوئے، جنہیں فرار ہونے کی کوشش میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ سیکیورٹی فورسز نے متاثرہ علاقے میں کلیئرنس آپریشن کا آغاز کر دیا ہے تاکہ کسی بھی چھپے ہوئے یا زخمی دہشت گرد کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہ دیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق، علاقے کی مسلسل نگرانی جاری ہے اور ہر آنے جانے والی سرگرمی کو باریک بینی سے مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

فوٹیج میں خارجیوں کی نقل و حرکت واضح

آپریشن سے قبل حاصل کی گئی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خوارج کی ایک بڑی تعداد افغانستان کی سرحد پار کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔ ان کی منظم پیش قدمی اور اسلحہ سے لیس موجودگی سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ایک بڑی اور خطرناک کارروائی کی منصوبہ بندی کر چکے تھے۔ تاہم، پاکستانی فورسز کی پیشگی تیاری اور ردعمل نے اُن کے تمام عزائم خاک میں ملا دیے۔

خوارج کی پاکستان میں دہشت گردی کی تازہ کوشش ناکام

ذرائع نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والے تمام دہشت گرد افغانستان کے مختلف علاقوں سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے اور ان کا تعلق فتنۃ الخوارج کے مختلف گروہوں سے تھا، جو گذشتہ کچھ عرصے سے سیز فائر کو ڈھال بنا کر اندرونی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے نہ صرف ان کی دراندازی ناکام بنائی، بلکہ ان کے محفوظ ٹھکانوں اور رابطوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔


تجزیہ:

یہ آپریشن نہ صرف پاکستان کی خودمختاری کے تحفظ کی ایک واضح مثال ہے بلکہ اس امر کا بھی ثبوت ہے کہ سیکیورٹی ادارے ملک دشمن عناصر کی ہر حرکت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ فتنۃ الخوارج کی جانب سے سیز فائر کو استعمال کر کے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنا اس بات کی علامت ہے کہ دشمن صرف جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ سفارتی اور نظریاتی محاذ پر بھی سرگرم ہے۔

اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ افغان سرزمین اب بھی ان عناصر کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنی ہوئی ہے جو پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنا چاہتے ہیں۔ اس مسئلے کا مستقل حل صرف مؤثر سرحدی نگرانی نہیں بلکہ علاقائی سطح پر دہشت گردی کے خلاف ہم آہنگی، سخت سفارتی دباؤ، اور خفیہ معلومات کے باہمی تبادلے سے ممکن ہے۔

پاکستانی عوام کو اپنی افواج پر فخر ہے، جو نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہیں بلکہ قوم کے دشمنوں کے خلاف ہر محاذ پر سینہ سپر ہیں۔ مستقبل میں بھی ایسی کارروائیوں کی بروقت روک تھام کے لیے ایک مضبوط، متحد اور باخبر ریاستی ردعمل ضروری ہو گا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین