نیسلے کا 16 ہزار ملازمین فارغ کرنے کا اعلان

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور ہمیں اپنی کمپنی کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا،سی ای او

دنیا کی سب سے بڑی فوڈ مینوفیکچرنگ کمپنی نیسلے (Nestlé) نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ دو برسوں کے دوران عالمی سطح پر 16 ہزار ملازمین کو فارغ کرے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ تنظیمی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے، آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور آٹومیشن سسٹم کو اپنانے، اور لاگت میں نمایاں کمی کے منصوبے کا حصہ ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کے مطابق، نیسلے نے اپنے عالمی آپریشنز میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، خودکار نظام، اور شیئرڈ سروسز متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کام کے عمل کو تیز، درست اور کم لاگت بنایا جا سکے۔ تاہم، کمپنی نے اعتراف کیا ہے کہ اس تکنیکی تبدیلی کے نتیجے میں ہزاروں ملازمین کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

نیسلے کے ترجمان کے مطابق، سب سے زیادہ اثر انتظامی، مالیاتی اور معاون شعبوں پر پڑے گا، جب کہ پیداوار اور لاجسٹکس کے محکمے بھی اس تبدیلی سے محفوظ نہیں رہیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ کمپنی کی ترجیح ہے کہ ملازمین کے لیے ممکنہ طور پر دیگر مواقع پیدا کیے جائیں، لیکن تکنیکی تبدیلی ایک "ناگزیر حقیقت” بن چکی ہے۔

نیسلے کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی تنظیمی اصلاحات کا سلسلہ جاری ہے۔ سی ای او کے مطابق،

دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور ہمیں اپنی کمپنی کو مستقبل کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ نیسلے کے اس فیصلے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا جب کمپنی کی فروخت میں 4.3 فیصد اضافہ اور شیئرز میں معمولی بہتری دیکھی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی مالی لحاظ سے مستحکم ہے، لیکن وہ اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ٹیکنالوجی پر انحصار بڑھا رہی ہے۔

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ نیسلے کا یہ اقدام عالمی سطح پر خوراکی صنعت میں آٹومیشن کے بڑھتے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ پچھلے چند برسوں میں دیگر بڑی کارپوریشنز جیسے یونی لیور، کوکا کولا، اور پیپسی کو نے بھی اے آئی پر مبنی نظام متعارف کرانے کے بعد ہزاروں ملازمین کو فارغ کیا ہے۔

یہ رجحان اس بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں انسانوں کی جگہ مشینیں اور خودکار نظام لے رہے ہیں۔ اگرچہ اس سے پیداوار میں تیزی اور منافع میں اضافہ ہوتا ہے، مگر روزگار کے مواقع میں کمی اور انسانی سرمائے کی اہمیت میں تنزلی جیسے سنگین چیلنجز بھی سامنے آتے ہیں۔

معاشی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر عالمی کمپنیاں محض کارکردگی اور منافع کے حصول پر توجہ دیتی رہیں تو آنے والے برسوں میں بیروزگاری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب، نیسلے جیسے ادارے کا موقف ہے کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے وہ نہ صرف لاگت کم کر رہے ہیں بلکہ اپنے صارفین کو بہتر اور تیز سروس فراہم کرنے کے قابل بھی ہو رہے ہیں۔

یہ فیصلہ بلاشبہ ایک ایسے دور کی نشاندہی کرتا ہے جسے "ڈیجیٹل صنعتی انقلاب” کہا جا سکتا ہے جہاں مشینیں سوچتی ہیں، فیصلے کرتی ہیں اور انسانی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑتی جا رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین