بشنوئی گینگ کی دہشت گردی کینیڈا تک پھیل گئی، کپل شرما کا کیفے نشانہ بن گیا

حملہ آوروں نے ایک گاڑی سے کیفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فائرنگ کی

سری، کینیڈا: بالی ووڈ کے مشہور کامیڈین کپل شرما کی ملکیت ‘کیپس کیفے’ پر ایک بار پھر اندھیر راتوں میں گولیوں کی امٹ آگئی، جب نامعلوم افراد نے کیفے کی عمارت پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ یہ حملہ گزشتہ چار ماہ میں تیسرا واقعہ ہے، جس نے نہ صرف کیفے کی حفاظت پر سوالات اٹھا دیے بلکہ علاقائی امن و امان کی صورتحال کو بھی گہرے خطرے میں ڈال دیا ہے۔ خوش قسمتی سے، اس واقعے میں کوئی جانی نقصان تو نہ ہوا، مگر کیفے کی کھڑکیاں اور دیواریں گولیوں کی زد میں آ گئیں، جو حملہ آوروں کی بے رحمی کی واضح تصویر پیش کرتی ہیں۔

حملے کی تفصیلات

کینیڈا کے برٹش کولمبیا صوبے کے شہر سری میں واقع کیپس کیفے پر یہ حملہ 16 اکتوبر کی رات تقریباً 3:43 بجے پیش آیا۔ سری پولیس سروس (ایس پی ایس) کے مطابق، پولیس کو فائرنگ کی اطلاع ملی تو فوری طور پر موقع پر پہنچی، جہاں کیفے کی عمارت پر متعدد گولیاں چلائے جانے کے آثار ملے۔ حملہ آوروں نے ایک گاڑی سے کیفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فائرنگ کی، جس کی وجہ سے عمارت کی کھڑکیاں چکناچور ہو گئیں اور دیواروں پر گولیوں کے نشانات ابھر آئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت کیفے میں عملہ موجود تھا، مگر بروقت احتیاط کی وجہ سے سب محفوظ رہے۔

اس واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس میں حملہ آوروں کو ایک گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں واضح طور پر گولیوں کی فائرنگ کا منظر دکھائی دیتا ہے، جو چند سیکنڈز کی ہے مگر لاکھوں ویوز حاصل کر چکی ہے۔ یہ فوٹیج نہ صرف حملے کی شدت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ حملہ آوروں کی بے خوفی کو بھی عیاں کرتی ہے، جو ماسک پہنے بغیر کام کر رہے تھے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ ویڈیو حملے کے فوراً بعد ہی منظر عام پر آ گئی، جس نے عوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی۔

گینگ کی ذمہ داری

اس حملے کی ذمہ داری ایک بار پھر بدنام زمانہ لارنس بشنوئی گینگ نے قبول کر لی ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں گینگ کے مبینہ ارکان کولویر سدھو اور گولڈی ڈھیلون نے دعویٰ کیا کہ یہ حملہ عام لوگوں کے خلاف نہیں بلکہ ان لوگوں کے خلاف ہے جو دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں یا مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا، "جے شیری رام، ست شیری اکال… گولیاں کہیں سے بھی آ سکتی ہیں،” جو ان کی دھمکی آمیز فکریہ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بیان حملے کے چند گھنٹوں بعد ہی وائرل ہو گیا، جس نے پولیس کی تحقیقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

پولیس کے ابتدائی جائزے کے مطابق، حملے کی ممکنہ وجوہات میں مالی تنازعات یا مذہبی حساسیتوں کو مجروح کرنے کا عنصر شامل ہو سکتا ہے۔ سری پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ ایک مبینہ ایکسٹورشن (وصول کی کوشش) سے جڑا ہو سکتا ہے، جو علاقے میں گینگ وار کا حصہ ہے۔ پولیس نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں، اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ مزید برآں، انٹیلی جنس ایجنسیاں بھی اس معاملے کی نگرانی کر رہی ہیں، کیونکہ گینگ کی سرگرمیاں اب کینیڈا تک پھیل چکی ہیں۔

کیفے کی تاریخ

کیپس کیفے، جو کپل شرما اور ان کی اہلیہ گنی چتراتھ کی مشترکہ ملکیت ہے، جولائی 2025 میں سری میں کھلا تھا۔ اس کے بعد سے یہ تیسری بار ہے جب اسے نشانہ بنایا گیا ہے۔ پہلے دو حملوں میں بھی کھڑکیاں توڑی گئیں تھیں، مگر ہر بار کیفے کو چند دنوں کے لیے بند کرنا پڑا، جس سے کاروبار متاثر ہوا۔ پہلے حملے میں بابرک کھالصتان انٹرنیشنل (بی کے آئی) نامی تنظیم نے بھی ذمہ داری قبول کی تھی، جو کینیڈا کی حکومت کی نظر میں دہشت گرد گروپ ہے۔ ان حملوں کے بعد کیفے نے اعلان کیا تھا کہ وہ تشدد کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور یہ جگہ "گرمی اور کمیونٹی” کی علامت بنے رہے گی۔ تاہم، تیسرا حملہ کیفے کی دوبارہ بحالی کے فوراً بعد پیش آیا، جو اس کی حفاظتی صورتحال کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔

عوامی ردعمل میں سری کی میئر برینڈا لاک نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مطالبہ کیا ہے کہ تشدد آمیز مواد کی روک تھام کی جائے۔ کپل شرما اور ان کی ٹیم کی جانب سے اب تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، مگر ان کی ممبئی میں سیکورٹی کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جو ان حملوں کی عالمی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ تازہ حملہ نہ صرف کپل شرما جیسے عوامی شخصیات کی حفاظت پر ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے بلکہ کینیڈا میں بھارتی برادری کے درمیان گینگ وار اور ایکسٹورشن کی بڑھتی ہوئی لہر کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ لارنس بشنوئی گینگ کی بار بار ذمہ داری قبول کرنا ان کی سرگرمیوں کی پھیلاؤ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈا پھیلانے کی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے، جو عام لوگوں میں خوف پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ ایک طرف تو یہ حملے مالی دباؤ کا نتیجہ لگتے ہیں، جہاں کاروباروں سے وصول کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر دوسری طرف مذہبی اور ثقافتی حساسیتوں کو ہتھیار بنانا ان کی فکریہ کی گہرائی کو بڑھا رہا ہے۔

پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لیے چیلنج یہ ہے کہ ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے سرحد پار تعاون ضروری ہے، کیونکہ بھارتی گینگز کی جڑیں ہندوستان سے جڑی ہوئی ہیں۔ کپل شرما کا کیفے، جو ہنسی مذاق اور کمیونٹی کی علامت تھا، اب تشدد کی زد میں آ چکا ہے، جو دکھاتا ہے کہ شوبز کی دنیا بھی اب محفوظ نہیں رہی۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو علاقائی امن کو مزید کمزور کر دے گا۔ بالآخر، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سخت کارروائی اور کمیونٹی کی یکجہتی ہی اس خطرے کو کم کر سکتی ہے، ورنہ یہ گولیوں کی آوازیں مزید بلند ہو جائیں گی

متعلقہ خبریں

مقبول ترین