آلودہ ترین ممالک کی تازہ فہرست میں پاکستان پہلے نمبر

اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر بن چکا ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 304 ریکارڈ کیا گیا ہے

لاہور:دنیا کے آلودہ ترین ممالک کی تازہ فہرست میں پاکستان بدقسمتی سے پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔ عالمی ماحولیاتی نگرانی کے اداروں کے مطابق، فضائی آلودگی کے اعتبار سے پاکستان نے بھارت، بنگلہ دیش، چین اور نیپال جیسے ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

ماحولیاتی ماہرین کے مطابق لاہور اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر بن چکا ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 304 ریکارڈ کیا گیا ہے جو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر سطح تصور کی جاتی ہے۔

اسی طرح بھارت کے دارالحکومت دہلی اور پاکستان کے صنعتی شہر فیصل آباد میں بھی فضائی آلودگی کی صورتحال تشویشناک ہے۔ دہلی اور فیصل آباد دونوں شہروں میں AQI 221 تک پہنچ گیا ہے، جو صحت کے لیے خطرناک قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ AQI کی سطح 300 سے تجاوز کر جائے تو یہ سانس، دل اور جلد کی بیماریوں میں تیزی سے اضافے کا باعث بنتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس آلودگی میں سب سے بڑا کردار فصلوں کی باقیات جلانے، گاڑیوں کے دھوئیں، صنعتی فیکٹریوں کے زہریلے اخراج اور غیر معیاری ایندھن کے استعمال کا ہے۔ اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں پنجاب، ہریانہ اور بھارتی پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانے کے باعث سموگ کی شدید لہر پیدا ہوتی ہے جو لاہور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ سمیت کئی شہروں میں پھیل جاتی ہے۔

اسے بھی پڑھیں: نیسلے کا 16 ہزار ملازمین فارغ کرنے کا اعلان

یہ صورتحال نہ صرف شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر کر رہی ہے بلکہ تعلیمی اداروں اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی محدود کر رہی ہے۔ لاہور میں اسکول بند کرنے اور دفاتر میں ورک فرام ہوم پالیسی اپنانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔

محکمۂ تحفظِ ماحولیات کے مطابق، آلودگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دھویں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی تیز کر دی گئی ہے، جب کہ صنعتی اخراج کی مسلسل نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ لاہور اور محکمۂ ٹرانسپورٹ نے دھواں خارج کرنے والی بسوں، رکشوں اور بھٹوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔

دوسری جانب، ماہرین صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، ماسک پہنیں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور گھروں میں ایئر پیوریفائرز یا گھریلو پودے لگانے کی کوشش کریں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان میں آلودگی کی بڑھتی ہوئی شرح اس بات کا ثبوت ہے کہ ماحولیاتی پالیسیوں پر عملدرآمد کمزور ہے۔ اگر فصلوں کی باقیات جلانے پر سختی سے پابندی اور صنعتی اخراج پر مؤثر نگرانی نہ کی گئی تو آنے والے برسوں میں شہریوں کی اوسط عمر میں کمی، سانس کی بیماریوں میں اضافہ اور ماحولیاتی تباہی جیسے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی رپورٹس کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں فضائی آلودگی سالانہ 70 ہزار سے زائد اموات کا باعث بنتی ہے۔

اسی لیے، اگر فوری طور پر پالیسی سطح پر اقدامات نہ کیے گئے تو لاہور اور فیصل آباد جیسے شہر دنیا کے غیر رہائشی شہروں کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔

یہ صورتحال ایک خطرناک پیغام دیتی ہے کہ اب وقت آگیا ہے جب صاف ہوا، شفاف توانائی اور شہری شعور کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا، ورنہ آنے والی نسلوں کو سانس لینے کے لیے آکسیجن سلنڈر درکار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین