برازیل کی پولیس نے ایک انتہائی منظم فراڈ کے نیٹ ورک کو کچل دیا ہے، جس کے ارکان مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی طاقت کا غلط استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے مذہبی عقائد سے کھیلنے اور انہیں دھوکہ دینے کا کام کر رہے تھے۔ یہ گروہ قدیم مذہبی کتابوں کی طرح نظر آنے والی ‘معجزاتی دعائیں’ تیار کر کے انہیں بھاری مبالغ پر بیچتا رہا، جس سے ہزاروں لوگوں کو مالی اور جذباتی نقصان پہنچا۔ پولیس نے نِلوپولیس شہر میں چھاپے مار کر 35 ملزمان کو حراست میں لے لیا، جن میں گروہ کا سرغنہ بھی شامل ہے۔
تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ جرائم کا دائرہ کم از کم دو سال سے فعال تھا اور اس نے سوشل میڈیا کی مدد سے کیتھولک کمیونٹی کو نشانہ بنایا۔ گروہ کا مرکزی کردار ایک خود ساختہ ‘پیسٹر’ تھا جو انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر حوصلہ افزا پیغامات شیئر کرتا، جن میں لوگوں کو ‘معجزہ’ یا ‘الہامی انکشاف’ کا وعدہ کیا جاتا۔ جیسے ہی متاثرین رابطہ کرتے، ایک جعلی کال سینٹر کام میں آجاتا جہاں آپریٹرز فون کالز کے ذریعے متاثرین کی ذاتی تفصیلات اکٹھی کرتے – جیسے صحت، مالی حالات اور خاندانی مسائل۔ یہ معلومات اے آئی ٹولز میں داخل کی جاتیں، جو پھر انفرادی طور پر تیار کردہ روحانی پیغامات جنم دیتیں جو سننے والوں کو گہرا اور سچا لگتا۔
ان دعاؤں کو 50 ریالز (تقریباً 10 امریکی ڈالرز) فی دعا کی شرح سے فروخت کیا جاتا، اور دعویٰ کیا جاتا کہ یہ نہ صرف جسمانی امراض کا علاج کرتی ہیں بلکہ مالی بحرانوں اور روحانی پریشانیوں سے بھی نجات دلاتی ہیں۔ پولیس کے مطابق، اس فراڈ سے لاکھوں ریالز کا منافع کمایا گیا، جو متاثرین کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی تھی۔ نِلوپولیس پولیس ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ، ایزابل کنٹی نے ایک بیان میں کہا کہ "اے آئی کا استعمال ان پیغامات کو انتہائی ذاتی اور موثر بنا دیتا تھا، جس سے لوگ آسانی سے پھنس جاتے۔”
اس فراڈ کی مزید دلچسپ اور خطرناک پرت یہ تھی کہ گروہ کے سرغنہ نے اے آئی سے بنائے گئے ان مواد کو مستند ثابت کرنے کے لیے جعلی سرٹیفکیٹس بھی مرتب کیے تھے۔ یہ دستاویزات قدیم مذہبی متون یا الہامی ذرائع سے منسوب کی جاتیں، جو متاثرین کو مکمل طور پر قائل کر دیتیں۔ پولیس نے حراست میں لیے گئے ملزمان کے کمپیوٹرز اور فونز سے ان جعلی دستاویزات کی بڑی تعداد برآمد کی، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ ایک پیشہ ورانہ طور پر منظم آپریشن تھا۔
اب برازیل کی سول پولیس ریو دی جنیرو نے اس کی مزید تہہ تک جانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا اس گروہ کے بین الاقوامی روابط بھی تھے، جیسے کہ دیگر ممالک میں ایسے ہی نیٹ ورکس کا قیام، یا پھر یہ صرف مقامی سطح پر محدود تھا۔ ملزمان پر فراڈ اور مجرمانہ سازش کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، اور پولیس متاثرین سے اپنی شکایات رسمی طور پر درج کرانے کی اپیل کر رہی ہے تاکہ مقدمہ مزید مضبوط ہو سکے۔
یہ واقعہ مصنوعی ذہانت کی دو دھاری تلوار کی یاد دلاتا ہے – ایک طرف یہ انسانی زندگی کو آسان بناتی ہے، دوسری طرف اس کا غلط استعمال عقائد اور جذبات کا استحصال کرنے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ برازیل جیسے ملک میں، جہاں مذہبی عقائد کی جڑیں گہری ہیں، ایسے فراڈ لوگوں کی امیدوں کو روندنے کے مترادف ہیں۔
یہ برازیل کا یہ کیس ٹیکنالوجی کی اخلاقی حدود کو چیلنج کرنے والا ہے، جہاں اے آئی جیسی جدید ایجاد مذہبی حساسیتوں کا شکار بن جاتی ہے۔ ایک طرف یہ دکھاتا ہے کہ فراڈ کار کس طرح جدید ٹولز کو لوگوں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، خاص طور پر ایسے معاشرے میں جہاں معاشی دباؤ اور روحانی تلاش عام ہے۔ دوسری طرف، یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک وارننگ ہے کہ اے آئی پر مبنی جرائم کی روک تھام کے لیے نئی حکمت عملیوں کی ضرورت ہے، جیسے سوشل میڈیا کی نگرانی اور عوامی آگاہی مہمات۔ اگر ایسے نیٹ ورکس کا پتہ جلد نہ لگایا جائے تو یہ عالمی سطح پر پھیل سکتے ہیں، لہٰذا برازیل جیسی کارروائیاں ایک مثبت مثال قائم کرتی ہیں۔ البتہ، ٹیک کمپنیوں کو بھی ذمہ داری لینی ہوگی کہ وہ ایسے غلط استعمال کو روکنے کے لیے اپنے الگورتھمز کو مزید محفوظ بنائیں۔





















