کاکول: پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشان امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات نے ایک پُرجوش اور پُرعزم خطاب کیا، جس میں انہوں نے پاکستان کی عسکری صلاحیتوں، قومی عزم، اور دشمن کے مذموم عزائم کے خلاف فیصلہ کن ردعمل کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے بھارتی قیادت کو واضح طور پر خبردار کیا کہ جوہری ماحول میں جنگ کے لیے کوئی گنجائش نہیں، اور پاکستان اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں کرے گا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ پی ایم اے کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا معائنہ کرنا ان کے لیے فخر اور عزت کا باعث ہے۔ انہوں نے بنگلہ دیش، عراق، مالی، مالدیپ، نائیجیریا، نیپال، فلسطین، قطر، سری لنکا، اور یمن سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس کو اس عظیم ادارے سے تربیت مکمل کرنے پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ نہ صرف پاکستانی فوج کے لیے بلکہ عالمی سطح پر بھی پیشہ ورانہ عسکری تربیت کا ایک روشن مینار ہے۔
افواجِ پاکستان کی غیر متزلزل وابستگی
اپنے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک افواجِ پاکستان نے قوم کی مکمل حمایت سے ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا ہے۔ حالیہ آپریشن "معرکۂ حق/ بنیان مرصوص” میں پاک فوج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کے ساتھ دشمن کو عبرتناک شکست دی، جس سے قوم کا اعتماد مزید مستحکم ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے رافیل طیاروں کو گرانے، دشمن کی متعدد بیسز اور جدید ایئر ڈیفنس سسٹمز جیسے ایس-400 کو تباہ کرنے، اور ملٹی ڈومین وارفیئر کی صلاحیتوں کا شاندار مظاہرہ کیا۔
بھارت کی جارحیت
فیلڈ مارشل نے بھارت کی ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی اور پراکسی وار کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے جلد بازی میں بے بنیاد الزامات لگائے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات سے گریز کیا، جو اس کے سیاسی مقاصد کے لیے دہشت گردی کو ہتھیار بنانے کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے عددی طور پر بڑے دشمن کے مقابلے میں اپنی فتح سے نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ عالمی برادری کا اعتماد بھی حاصل کیا۔
انہوں نے کہا کہ دشمن کی ہر پراکسی کو خاک میں ملایا جائے گا اور اسلام کی غلط تشریح کرنے والے گمراہ دہشت گردوں کے سامنے پاکستان کبھی سر نہیں جھکائے گا۔ انہوں نے قوم کو یقین دلایا کہ پاک فوج اپنی مقدس سرزمین کے دفاع کے لیے ہر حال میں تیار ہے اور دشمن کے ہر مذموم عزائم کو ناکام بنائے گی۔
شہداء اور قومی اتحاد کی قدر
فیلڈ مارشل نے شہداء، ان کے اہلخانہ، اور قومی اتحاد کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم نے ایک متحد دیوار کی طرح دشمن کا مقابلہ کیا اور اس کے گمراہ کن بالادستی کے غرور کو چکنا چور کیا۔ انہوں نے ہر سپاہی، سیلر، فضائیہ کے جوانوں، خواتین، بچوں، اور بزرگوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے مشکل حالات میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ انہوں نے غازیوں، قومی قیادت، بیوروکریسی، علما، سائنسدانوں، میڈیا، اور تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والوں کی خدمات کو بھی سراہا۔
آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کا دفاعی نظریہ معتبر روک تھام اور دائمی تیاری پر مبنی ہے۔ پاک فوج نے دو دہائیوں تک روایتی اور غیر روایتی میدان جنگ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ انہوں نے بھارتی قیادت کو خبردار کیا کہ اگر دوبارہ جارحیت کی گئی تو پاکستان کا جواب توقعات سے کہیں زیادہ سخت ہوگا، جو بھارت کی جغرافیائی وسعت کے خود ساختہ حفاظتی تصور کو ختم کر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ جوہری ماحول میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں، اور بھارت کو بنیادی مسائل کو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق حل کرنا چاہیے۔
عالمی تعلقات اور خطے میں پاکستان کا کردار
فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان خطے میں ایک نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر ابھرا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے چین کے ساتھ تاریخی اور اسٹریٹجک شراکت داری پر فخر کا اظہار کیا اور امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی تنازعات کے حل کے لیے اسٹریٹجک لیڈرشپ کی بھی تعریف کی۔
دہشت گردی اور پراکسیز کے خلاف جنگ
آرمی چیف نے کہا کہ بھارت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو "ہائرڈ گنز” کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جو اس کے گھناؤنے چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ انہوں نے Afghan سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا اور طالبان ریجیم سے مطالبہ کیا کہ وہ ان پراکسیز پر لگام ڈالے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاک فوج خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کے تعاون سے اس لعنت کو شکست دے گی۔
کشمیر اور فلسطین کے لیے غیر متزلزل حمایت
فیلڈ مارشل نے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی سیاسی، سفارتی، اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کی اور کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں نے غزہ میں امن کے حالیہ اقدام کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا، جس میں القدس الشریف کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے۔
قائداعظم کے ارشادات
فیلڈ مارشل نے قائداعظم کے 1948 کے ارشادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانیوں کو ریاست کی خدمت اور قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کیڈٹس کو پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط، اور اخلاقی قیادت کو اپنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے "انفارمیشن ڈس آرڈر” اور جعلی خبروں سے خبردار کیا، جو آج کے دور میں حقائق کو مسخ کرتی ہیں۔
اختتامی پیغام
اپنے خطاب کے اختتام پر فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاک فوج ہمیشہ قوم کی ترقی اور نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کے لیے تیار رہے گی۔ انہوں نے قرآن مجید کی سورہ الصف کی آیت کا حوالہ دیا کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار کی طرح لڑتے ہیں۔ انہوں نے کیڈٹس کو کمیشن حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ خطاب نہ صرف پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قومی عزم کا مظہر ہے بلکہ خطے کی جغرافیائی و سیاسی حرکیات کے تناظر میں ایک واضح پیغام بھی دیتا ہے۔ ان کا بھارت کو جوہری ماحول میں جنگ کی گنجائش نہ ہونے کی تنبیہ ایک اسٹریٹجک پوزیشن کی عکاسی کرتی ہے، جو پاکستان کی معتبر روک تھام کی پالیسی کو تقویت دیتی ہے۔ خطاب میں بھارت کی پراکسی وار اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے پاکستان کی دفاعی تیاریوں اور ملٹی ڈومین وارفیئر کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا، جو پاک فوج کی جدید جنگی حکمت عملی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
عالمی تعلقات کے حوالے سے، سعودی عرب، چین، اور امریکہ کے ساتھ بڑھتے تعلقات کا ذکر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور خطے میں ایک ذمہ دار کردار کی نشاندہی کرتا ہے۔ کشمیر اور فلسطین کے مسائل پر پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ عالمی برادری کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان انسانی حقوق اور خود مختاری کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔
تاہم، خطاب میں انفارمیشن ڈس آرڈر اور جعلی خبروں سے خبردار کرنا موجودہ دور کے ہائبرڈ وارفیئر کے خطرات کو عیاں کرتا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک چیلنج ہے کہ وہ نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ سائبر اور میڈیا کے محاذ پر بھی اپنی صلاحیتوں کو مضبوط کرے۔ مجموعی طور پر، یہ خطاب پاکستانی قوم کے لیے ایک متحدہ اور پُرعزم پیغام ہے کہ وہ ہر مشکل حالات میں اپنے وطن کے دفاع کے لیے تیار رہے۔





















