دنیا کے مقبول ترین ٹک ٹاک اسٹارز میں سے ایک، خابی لیم کے حوالے سے گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی موت کی افواہوں نے مداحوں کو حیرت اور افسردگی میں مبتلا کر دیا۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ خابی لیم ایک خوفناک کار حادثے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
یہ افواہیں ابتدا میں یوٹیوب، فیس بک، اور ایکس (سابق ٹوئٹر) سمیت متعدد پلیٹ فارمز پر پھیلیں جہاں مختلف صارفین نے دعویٰ کیا کہ مشہور ٹک ٹاکر ایک جان لیوا حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ بعض جعلی اکاؤنٹس نے تباہ شدہ گاڑیوں کی تصاویر بھی شیئر کیں اور انہیں خابی لیم کے نام سے منسوب کر دیا، جس کے بعد یہ خبریں دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں وائرل ہو گئیں۔
تاہم جلد ہی ان دعوؤں کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔ متعدد معتبر فیکٹ چیکنگ اداروں بشمول رائٹرز، اسنوپس، اور پولیٹی فیکٹ نے تحقیقات کے بعد واضح کیا کہ خابی لیم کے کسی حادثے میں ہلاک ہونے کی کوئی مصدقہ اطلاع موجود نہیں۔
فیکٹ چیک رپورٹوں میں بتایا گیا کہ جن تصاویر کو خابی لیم کے حادثے سے جوڑا جا رہا ہے، وہ پرانی اور غیر متعلقہ واقعات سے لی گئی ہیں۔ ان میں سے کئی تصاویر مختلف ممالک میں پیش آنے والے علیحدہ حادثات سے منسلک تھیں، جنہیں سوشل میڈیا پر کلک بیٹ مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
مزید تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ یہ جعلی پوسٹس زیادہ تر ایسی ویب سائٹس سے پھیلائی گئیں جو فشنگ لنکس اور جھوٹی خبروں کے ذریعے صارفین کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق، ان سائٹس نے خابی لیم کی عالمی شہرت کا فائدہ اٹھا کر غیر حقیقی خبروں کو تیزی سے پھیلایا تاکہ زیادہ کلکس حاصل کیے جا سکیں۔
بعد ازاں، خابی لیم کے قریبی ذرائع اور ٹیم کے نمائندوں نے واضح طور پر تصدیق کی کہ خابی لیم زندہ ہیں اور بالکل خیریت سے ہیں۔ ان کے اہل خانہ نے بھی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ایسی خبریں غیر ذمہ دارانہ اور نقصان دہ ہیں۔
خابی لیم نے خود بھی ایک مختصر ویڈیو کے ذریعے اپنے مداحوں کو اطمینان دلایا، جس میں وہ ہمیشہ کی طرح اپنے مخصوص انداز میں بغیر کچھ کہے صرف مسکرا کر ان جھوٹی خبروں کی تردید کرتے نظر آئے۔
یاد رہے کہ خابی لیم کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ فالو کیے جانے والے ٹک ٹاکرز میں ہوتا ہے۔ سینیگال میں پیدا ہونے والے اور اٹلی میں پلے بڑھے خابی لیم نے 2020 میں کورونا وبا کے دوران اپنی نوکری کھونے کے بعد مزاحیہ ویڈیوز بنانا شروع کیں۔ ان کی خاموش مگر طنزیہ ویڈیوز نے انہیں عالمی شہرت دلا دی، اور آج ان کے 160 ملین سے زائد فالوورز ہیں۔
خابی لیم کی موت سے متعلق جھوٹی خبریں اس حقیقت کی ایک اور مثال ہیں کہ سوشل میڈیا کے دور میں غلط معلومات کس تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔ صرف چند تصاویر اور جھوٹے عنوانات کے ذریعے لاکھوں لوگ گمراہ ہو سکتے ہیں، خصوصاً جب بات کسی عالمی شہرت یافتہ شخصیت کی ہو۔
یہ واقعہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی مصداقیت ضرور جانچنی چاہیے۔ آج کے ڈیجیٹل ماحول میں جہاں ہر شخص ایک "غیر سرکاری رپورٹر” بن چکا ہے، وہاں ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
خوش قسمتی سے خابی لیم زندہ اور خیریت سے ہیں، مگر یہ واقعہ سوشل میڈیا صارفین کے لیے ایک سبق ہے — ہر وائرل پوسٹ سچ نہیں ہوتی۔ جھوٹی خبروں پر یقین کرنے سے پہلے سچائی کی تصدیق کرنا ہی اصل دانشمندی ہے۔





















