دنیا بھر کے فٹبال شائقین کے لیے یہ ایک یادگار لمحہ بن گیا، جب مراکش کی نوجوان ٹیم نے پہلی بار انڈر 20 فٹبال ورلڈ کپ اپنے نام کر کے کھیلوں کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔ فیفا کے زیرِ اہتمام چلی کے دارالحکومت سانتیاگو میں ہونے والے اس عالمی ٹورنامنٹ کے فائنل میں مراکش نے طاقتور حریف ارجنٹائن کو 0-2 سے شکست دے کر ناقابلِ یقین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
یہ تاریخی مقابلہ جولیو مارٹینیز پرادانوس نیشنل اسٹیڈیم میں ہوا، جہاں ہزاروں تماشائیوں نے نوجوان مراکشی ٹیم کے عزم، تکنیک اور بہترین ٹیم ورک کو داد دی۔ مراکش کی فتح کے ہیرو محمد یاسر زبیری قرار پائے جنہوں نے نہ صرف کھیل کے 12ویں منٹ میں پہلا گول کر کے اپنی ٹیم کو برتری دلائی بلکہ 29ویں منٹ میں دوسرا گول اسکور کر کے ارجنٹائن کے مضبوط دفاع کو مکمل طور پر بے بس کر دیا۔ ان کی بہترین کارکردگی پر انہیں "مین آف دی میچ” کے اعزاز سے نوازا گیا۔
فائنل میچ کے آغاز ہی سے مراکش نے جارحانہ انداز اپنایا۔ ٹیم کے نوجوان کھلاڑیوں نے ناقابلِ یقین نظم و ضبط کے ساتھ کھیل پیش کیا۔ ہر پاس، ہر موو، اور ہر دفاعی حکمت عملی میں ایک غیر معمولی خوداعتمادی نمایاں تھی۔ دوسری جانب ارجنٹائن کی ٹیم جو پورے ٹورنامنٹ میں ناقابلِ شکست رہی تھی، فائنل میں کچھ حد تک دباؤ کا شکار نظر آئی۔ ان کے دو مرکزی کھلاڑی بائر لیورکوزن کے کلاڈیو ایچیواری اور ریئل میڈرڈ کے فرانکو ماستانتوانو کی غیر موجودگی نے ٹیم کی کارکردگی پر واضح اثر ڈالا۔
ارجنٹائن نے گول کرنے کے متعدد مواقع حاصل کیے، مگر مراکش کے گول کیپر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہر بار گیند کو جال میں جانے سے روکے رکھا۔ دفاعی لائن نے بھی بھرپور توازن کے ساتھ مخالف ٹیم کے خطرناک حملوں کو ناکام بنایا۔ کھیل کے آخری لمحات میں ارجنٹائن نے واپسی کی بھرپور کوشش کی، لیکن مراکش کے نوجوان کھلاڑیوں نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے اپنی برتری برقرار رکھی اور فتح اپنے نام کی۔
یہ کامیابی مراکش کے لیے تاریخی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ وہ 2009 کے بعد پہلا افریقی ملک بن گیا ہے جس نے انڈر 20 فٹبال ورلڈ کپ کا ٹائٹل جیتا۔ اس سے قبل یہ اعزاز گھانا کے پاس تھا۔ افریقی فٹبال کے لیے یہ جیت محض ایک کھیل کی کامیابی نہیں بلکہ براعظم کے نوجوان کھلاڑیوں کی محنت، عزم اور ترقی کی علامت بھی ہے۔
ٹورنامنٹ کے دوران مراکش نے جنوبی کوریا، امریکا اور فرانس جیسی مضبوط ٹیموں کو شکست دے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ہر میچ میں ٹیم کی کارکردگی پہلے سے بہتر ہوتی گئی، جس سے واضح ہوا کہ یہ کامیابی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منظم تربیت، حکمتِ عملی اور ٹیم ورک کا ثمر ہے۔
دوسری جانب ارجنٹائن، جو پانچ مرتبہ یہ ٹائٹل اپنے نام کر چکی ہے، اس بار فائنل میں ناکامی سے دوچار ہو کر حیران نظر آئی۔ ان کی تکنیکی مہارت کے باوجود مراکش کے غیر متوقع حملوں نے انہیں سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔
مراکش کی اس تاریخی فتح نے عالمی فٹبال کے منظرنامے پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے — کیا افریقی ممالک اب واقعی عالمی سطح پر تسلسل کے ساتھ کامیابیاں حاصل کرنے کے لیے تیار ہیں؟
یہ جیت صرف ایک ٹائٹل نہیں، بلکہ افریقہ کے فٹبال انفراسٹرکچر اور اکیڈمی سسٹم کی کامیابی کا مظہر ہے۔ مراکش نے حالیہ برسوں میں نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دی، جس کا نتیجہ آج پوری دنیا کے سامنے ہے۔
اس جیت نے یہ بھی ثابت کیا کہ عزم، نظم و ضبط اور اجتماعی ٹیم ورک کے ذریعے کوئی بھی قوم بڑی سے بڑی رکاوٹ عبور کر سکتی ہے۔
مراکش کی نوجوان ٹیم نے نہ صرف ارجنٹائن کو شکست دی بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ فٹبال کی نئی طاقت اب افریقہ سے ابھر رہی ہے۔





















