اسلام آباد :نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے رواں سال پاکستان میں ریکارڈ سردی یا شدید خشک سالی کے امکان کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق، اس سال بارشیں معمول سے کم ضرور ہوں گی لیکن ملک بھر میں خشک سالی کی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ نہیں ہے۔ صرف بلوچستان کے چند علاقے — خاران، چاغی اور نوشکی — میں ہلکی نوعیت کی موسمی خشک سالی متوقع ہے۔
ادارے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ مون سون کی 23 فیصد اضافی بارشوں کی وجہ سے ملک میں پانی کی قلت نہیں ہوگی، البتہ شمالی علاقوں میں برف باری معمول سے کم رہے گی۔
مزید کہا گیا کہ لانینا کے موسمی اثرات کے باعث رواں سال ریکارڈ سردی تو نہیں پڑے گی، لیکن دسمبر اور جنوری کے مہینے معمول سے زیادہ ٹھنڈے رہ سکتے ہیں۔ شہریوں کو ہلکی خشک فضا اور قدرے سخت سرد موسم کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
این ڈی ایم اے نے یہ بھی واضح کیا کہ بارشوں کی کمی سے ایئر کوالٹی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے سانس اور جلد کی بیماریوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اسے بھی پڑھیں: سردیوں کی بارش زیادہ فائدہ مند کیوں؟
روزنامہ تحریک سینئر صحافی کاشف جان نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس سال پاکستان میں نہ تو کوئی شدید خشک سالی ہوگی اور نہ ہی ریکارڈ سردی پڑے گی۔ ملک میں بارشیں معمول سے کچھ کم ضرور ہوں گی، مگر پانی کی شدید قلت یا زمین کے بالکل سوکھ جانے کا امکان نہیں۔ البتہ بلوچستان کے کچھ علاقے، جیسے خاران، نوشکی اور چاغی، ہلکی خشک سالی کا سامنا کر سکتے ہیں کیونکہ وہاں بارش ویسے بھی کم ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سال لانینا نامی موسمی نظام کے اثرات موجود رہیں گے، جس سے دسمبر اور جنوری کے مہینے عام دنوں سے زیادہ ٹھنڈے ہو سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ غیر معمولی یا ریکارڈ توڑ سردی آئے گی، بلکہ یہ کہ سردی کچھ لمبی اور نسبتاً سخت محسوس ہوگی۔
این ڈی ایم اے کے مطابق شمالی علاقوں میں برف باری بھی معمول سے کم ہوگی، مگر چونکہ مون سون کے دوران بارشیں کچھ زیادہ ہوئیں، اس لیے دریاؤں اور ڈیموں میں پانی کی کمی کا کوئی بڑا خطرہ نہیں۔ اگرچہ ملک بھر میں خشک سالی کا خدشہ نہیں، لیکن بلوچستان کے چند اضلاع کے لیے حکومت کو پانی کے انتظامات اور امدادی تیاری رکھنی چاہیے تاکہ فصلیں اور مویشی متاثر نہ ہوں۔
ادارے نے یہ بھی بتایا کہ چونکہ سردیوں میں بارش کم ہوگی، اس لیے فضائی آلودگی یا اسموگ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ جب بارش نہ ہو تو فضا میں دھواں، گردوغبار اور زہریلے ذرات زیادہ دیر تک موجود رہتے ہیں، جو سانس اور دل کی بیماریوں کو بڑھا دیتے ہیں۔ اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ غیر ضروری آگ جلانے سے گریز کریں، گھروں میں صاف ہوا کا انتظام رکھیں اور ماسک کا استعمال کریں۔
مجموعی طور پر این ڈی ایم اے کا پیغام یہ ہے کہ اس سال موسم کچھ خشک اور ٹھنڈا ضرور ہوگا مگر خطرناک حد تک نہیں۔ حکومت اور عوام دونوں کو احتیاط اور تیاری کی ضرورت ہے۔ پانی بچانا، فضائی آلودگی کم کرنا اور سرد موسم سے بچاؤ کے اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ اگر ہم مناسب انتظامات کر لیں تو یہ موسم آسانی سے گزر جائے گا اور کسی بڑے بحران کا سامنا نہیں ہوگا۔





















