راولپنڈی ٹیسٹ کے دوسرے روز جنوبی افریقہ کے اسپنر کیشو مہاراج نے پاکستانی بیٹرز کو اپنے اسپن جال میں بری طرح الجھا دیا۔ پاکستانی بیٹنگ لائن گزشتہ روز کے مجموعی اسکور میں صرف 74 رنز کا اضافہ ہی کر سکی اور پوری ٹیم 333 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔
جنوبی افریقی اسپنر مہاراج نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 7 کھلاڑیوں کو میدان سے رخصت کیا اور پاکستان کو بڑے مجموعے تک پہنچنے سے روک دیا۔ ان کی نپی تلی گیند بازی کے سامنے قومی ٹیم کے بیٹرز یکے بعد دیگرے وکٹیں گنواتے چلے گئے۔
دن کے آغاز پر پاکستان نے 259 رنز، 5 وکٹوں کے نقصان پر اپنی اننگز دوبارہ شروع کی۔ کریز پر موجود سلمان آغا اور سعود شکیل نے ابتدا میں محتاط انداز اپنایا، مگر زیادہ دیر تک مزاحمت نہ کر سکے۔ سلمان آغا 45 رنز بناکر مہاراج کی گیند پر ایل بی ڈبلیو قرار پائے، یوں پاکستان کو چھٹی وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا۔
سعود شکیل، جو ذمہ دارانہ بلے بازی کے ذریعے ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش میں مصروف تھے، 66 رنز کی اننگز کھیل کر مہاراج کی گھومتی ہوئی گیند کا شکار بن گئے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد مڈل آرڈر مکمل طور پر بکھر گیا۔
شاہین شاہ آفریدی، جو امید کی ایک کرن سمجھے جا رہے تھے، بغیر کوئی رن بنائے مہاراج کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔ اسپنر کی نپی تلی لائن اور ویرائٹی کے سامنے پاکستانی بلے باز بے بس نظر آئے۔
مہاراج نے اپنی شاندار بولنگ کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ایک ہی اوور میں ساجد خان (5) اور آصف آفریدی (4) کو آؤٹ کر دیا، یوں وہ پاکستان کے خلاف ایک اننگز میں 7 وکٹیں حاصل کرنے والے دوسرے جنوبی افریقی بولر بن گئے۔ ان کی بولنگ نے پاکستانی بیٹنگ لائن کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔
پاکستانی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں کل 333 رنز بنا سکی، جس میں گزشتہ روز کے 259 رنز میں صرف 74 رنز کا اضافہ ہوا۔ پہلی روز کی اننگز میں کپتان شان مسعود نے 87 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی جبکہ اوپنر عبداللہ شفیق نے 57 رنز کے ساتھ ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کیا تھا۔
دیگر بیٹرز میں محمد رضوان نے 19، امام الحق نے 17 اور بابر اعظم نے 16 رنز بنائے۔ تاہم دوسرے روز بیٹنگ لائن کی ناکامی نے پہلے روز کی محنت ضائع کر دی۔
راولپنڈی ٹیسٹ کا دوسرا دن مکمل طور پر کیشو مہاراج کے نام رہا۔ ان کی بولنگ میں وہ تجربہ، رفتار اور ذہانت نظر آئی جو کسی بڑے اسپنر کا خاصہ ہوتی ہے۔ پاکستانی بیٹرز اسپن کے خلاف اپنی کمزوریوں کو ایک بار پھر چھپا نہ سکے۔
پاکستان کی بیٹنگ میں تکنیکی خامیاں نمایاں رہیں۔ درمیانی آرڈر کے بیٹرز نے ذمہ داری کے ساتھ لمبی اننگز کھیلنے کی کوشش کی مگر مہاراج کی درست لائن و لینتھ کے سامنے کوئی بھی جم کر نہ کھیل سکا۔ خاص طور پر بائیں ہاتھ کے بلے بازوں کو اسپن کا سامنا کرنے میں مشکلات درپیش رہیں۔
اگرچہ 333 کا مجموعہ بُرا نہیں، لیکن جس انداز میں ٹیم نے اچھی شروعات کے بعد تیزی سے وکٹیں گنوائیں، وہ تشویش ناک ہے۔ دوسری اننگز میں پاکستانی بولرز پر بھاری ذمہ داری عائد ہوگی کہ وہ جلد از جلد جنوبی افریقہ کو دباؤ میں لائیں، ورنہ مہاراج کا جادو میچ کا فیصلہ یکطرفہ بنا سکتا ہے۔





















