کیا سلمان خان اپنے بھائی ارباز خان سے نفرت کرتے ہیں؟ دبنگ فلم کے مناظر حذف کرنے کا دعویٰ

فلم دبنگ کے سیٹ پر تلخ کلامی، ایڈیٹر پر دباؤ، اور بھائی کے کردار کو محدود کرنے کے الزامات، خان خاندان خاموش

ممبئی؛ بالی ووڈ کے معروف فلمساز اور مصنف ابھینو کشیپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں جنہوں نے بھارتی فلم انڈسٹری میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کشیپ کا دعویٰ ہے کہ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان اور ان کے بھائی ارباز خان کے درمیان تعلقات کبھی بھی مثالی نہیں رہے، اور فلم ’دبنگ‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان اپنے بھائی سے خاصے ناخوش تھے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہدایتکار کا کہنا ہے کہ 2010 میں ریلیز ہونے والی سپرہٹ فلم ’دبنگ‘ کے دوران سلمان خان نے نہ صرف ارباز خان کے کئی اہم مناظر فلم سے حذف کروائے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ فلم میں ان کا (سلمان کا) کردار ہی مرکزی حیثیت میں نمایاں ہو۔

ابھینو کشیپ کے مطابق فلم کے سیٹ پر کئی مواقع پر دونوں بھائیوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جس نے ماحول کو کشیدہ بنا دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سلمان خان کی خواہش تھی کہ فلم میں تمام تر توجہ صرف ان پر مرکوز رہے، جبکہ ارباز خان کے کردار کو محدود کر دیا جائے، حالانکہ وہ بھی فلم کے ایک اہم حصے تھے۔

ابھینو کشیپ نے ایک اور سنسنی خیز دعویٰ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سلمان خان نے فلم کے ایڈیٹر پر اس حد تک دباؤ ڈالا کہ وہ مبینہ طور پر اسے اغوا کرنے جیسا قدم اٹھا بیٹھے تاکہ فلم کی فائنل ایڈیٹنگ پر مکمل کنٹرول حاصل کر سکیں۔ ان کے مطابق سلمان چاہتے تھے کہ فلم کا آخری ورژن ان کی مرضی کے مطابق تیار ہو اور کسی اور کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے۔

واضح رہے کہ ابھینو کشیپ اس سے قبل بھی سلمان خان اور ان کے خاندان پر کئی سنجیدہ الزامات لگا چکے ہیں، جن میں انڈسٹری میں اقربا پروری (نیپوٹزم)، دباؤ ڈالنے اور دیگر فنکاروں کے کریئر کو متاثر کرنے جیسے امور شامل ہیں۔ تاہم خان خاندان نے تاحال ان دعوؤں کا کوئی سرکاری یا قانونی جواب نہیں دیا۔

ابھینو کشیپ کے ان بیانات سے ایک بار پھر بالی ووڈ میں اندرونی اختلافات اور خاندانی سیاست کی بحث چھڑ گئی ہے۔ دبنگ جیسی بلاک بسٹر فلم، جس نے نہ صرف باکس آفس پر کامیابی حاصل کی بلکہ ایک نئے فلمی سلسلے کی بنیاد رکھی، کے پس پردہ ان تنازعات کا سامنے آنا مداحوں کے لیے حیران کن ہے۔

ابھینو کشیپ کے تازہ الزامات نے ایک مرتبہ پھر اس سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا بالی ووڈ کی چمک دمک کے پیچھے واقعی خاندانی تنازعات اور طاقت کی جنگ چھپی ہوتی ہے؟ اگر ان بیانات میں صداقت ہے تو یہ نہ صرف ارباز خان کے فنکارانہ وقار پر سوال اٹھاتا ہے، بلکہ فلمی صنعت میں کام کرنے والے ہنرمندوں کی آزادی اور خودمختاری پر بھی ایک بڑا دھچکا ہے۔

فلم دبنگ، جو ایک کامیاب فرنچائز کے طور پر جانی جاتی ہے، اس میں پیش آنے والے ذاتی اختلافات اور کرداروں کی ایڈیٹنگ پر اثر انداز ہونے کے دعوے اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ بالی ووڈ میں اقتدار اور اثر و رسوخ کس حد تک فیصلے بدل سکتا ہے۔

دوسری جانب، خان خاندان کی مسلسل خاموشی اس پورے معاملے کو مزید مشکوک بناتی ہے۔ اگر ابھینو کشیپ کے دعوے بے بنیاد ہیں تو ان کی تردید ضروری ہے، اور اگر سچ ہیں تو یہ بالی ووڈ کی ساکھ اور سلمان خان کی شبیہ کے لیے دھچکا ثابت ہو سکتے ہیں۔

فی الحال، فلمی شائقین اور ناقدین دونوں اس معاملے کی مزید تفصیلات کا انتظار کر رہے ہیں، اور یہ دیکھنے کی کوشش میں ہیں کہ آیا اس انکشاف کے بعد سلمان یا ارباز خان کی جانب سے کوئی ردِعمل سامنے آتا ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین