واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے یرغمال بنائے گئے افراد کی لاشیں واپس نہ کیں تو امن معاہدے میں شامل ممالک فوری اور فیصلہ کن کارروائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن سمیت تمام اتحادی ممالک صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے لیے تیار ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ غزہ میں قید یرغمالیوں کی واپسی کے حوالے سے اگلے 48 گھنٹوں میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ اس سارے عمل کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی کر رہی ہے، اور اگر حماس نے انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو نظرانداز کیا تو نتائج سنگین ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امن معاہدے کے تحت تمام ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش نہ رہیں۔ “اگر حماس نے یرغمالیوں کی لاشوں کی واپسی سے انکار کیا، تو عالمی برادری خاموش تماشائی نہیں بنی رہے گی۔ امن معاہدے میں شامل تمام ممالک مشترکہ لائحہ عمل کے تحت کارروائی کریں گے
صدر ٹرمپ کے مطابق، واشنگٹن کے لیے یرغمالیوں کا معاملہ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وقار اور عالمی انصاف کا سوال ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے دو دنوں میں صورتحال میں بہتری آئے گی اور فریقین کسی نہ کسی حد تک بات چیت کے ذریعے حل تک پہنچ جائیں گے۔
دوسری جانب، امریکی صدر آسیان سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ملائیشیا جاتے ہوئے قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچے، جہاں ان کی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے اہم ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں خطے کی مجموعی صورتحال، غزہ میں جاری انسانی بحران، اور امن عمل کی بحالی کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق، امیر قطر نے صدر ٹرمپ کو یقین دلایا کہ اگر خطے میں امن کو یقینی بنانے کے لیے ضرورت محسوس ہوئی تو قطر غزہ میں امن فوج بھیجنے پر آمادہ ہے۔ ٹرمپ نے قطر کے کردار کو “انتہائی مثبت” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوحہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکی صدر کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ میں انسانی المیہ شدت اختیار کر چکا ہے اور عالمی سطح پر حماس پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ یرغمالیوں اور ان کی لاشوں کو واپس کرے تاکہ سفارتی کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہو سکیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور کسی بھی “جارحانہ یا غیر انسانی اقدام” پر فوری ردعمل دیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی برادری مشترکہ فیصلے کے ذریعے خطے میں امن و استحکام قائم کرنے میں کامیاب ہوگی۔
ٹرمپ کا یہ بیان اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکا اب محض ثالث کا کردار ادا کرنے کے بجائے ایک فعال اور فیصلہ کن فریق کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ان کا سخت لہجہ ظاہر کرتا ہے کہ واشنگٹن حماس کے ساتھ اب روایتی سفارتی زبان استعمال نہیں کرے گا بلکہ عملی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔ قطر کا ممکنہ کردار اس پورے منظرنامے میں امن کے متوازن راستے کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ عرب دنیا بھی اب خطے میں استحکام کے لیے سرگرم ہے۔
تاہم، یہ صورتحال اتنی سادہ نہیں۔ اگر حماس نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو امن معاہدے کے تحت کارروائی کے نتائج خطے میں ایک نئے تصادم کی راہ بھی ہموار کر سکتے ہیں۔ آئندہ 48 گھنٹے یقیناً مشرقِ وسطیٰ کی سفارتی تاریخ میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔





















