پاکستان میں جلدی امراض کے مریضوں کے لیے خوشخبری کی طرح ایک نئی امید جاگ اٹھی ہے، جہاں فنگل انفیکشن جیسے عام مگر پریشان کن مرض کے علاج کے لیے ملک کی پہلی مخصوص دوا ایجاد ہو گئی ہے۔ یہ دوا نہ صرف سردیوں کی خشک ہواؤں اور گرمیوں کی نمی سے جنم لینے والے انفیکشنز کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ عوام کو ایک سستا اور موثر علاج بھی فراہم کرے گی۔ ماہرین جلدیات کا کہنا ہے کہ یہ ایجاد پاکستان جیسے ملک میں صحت عامہ کے میدان میں ایک اہم سنگ میل ہے، جہاں موسمی تبدیلیاں جلدی کی صحت کو مسلسل چیلنج کر رہی ہیں۔
یہ خبر اس وقت سامنے آئی جب سردی کا موسم اپنے عروج پر پہنچ رہا ہے، اور ہر طرف سے جلدی کی شکایات کی لہر اٹھ رہی ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ دوا فنگس کی وجہ سے پھیلنے والے انفیکشنز کو جلد ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جو خاص طور پر بچوں، بوڑھوں اور ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے نجات کا باعث بنے گی۔
فنگل انفیکشن
فنگل انفیکشن، جو فنگس کے جراثیم کی وجہ سے جسم پر حملہ کرتے ہیں، پاکستان میں ایک عام مسئلہ ہے جو لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ انفیکشن عام طور پر ناخنوں، بالوں، منہ یا جسم کے اندرونی اعضاء پر اثر انداز ہوتے ہیں، جہاں پسینے کی نمی یا آلودگی ان کی افزائش کو ہوا دیتی ہے۔ ڈاکٹر شمائل ضیاء، جو ایک معروف جلدی امراض کے ماہر ہیں، نے بتایا کہ یہ مرض سرخ رنگ کے گول دھبوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے، جو شدید خارش کا باعث بنتا ہے اور آسانی سے ایک شخص سے دوسرے تک منتقل ہو جاتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان جیسے گرم و مرطوب علاقے میں یہ انفیکشن سردیوں میں خشکی اور گرمیوں میں نمی کی وجہ سے تیزی سے پھیلتا ہے۔ خاص طور پر، جسم کی کمزور قوت مدافعت، ذیابیطس جیسے امراض، یا صفائی کی کمی اسے مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔ ڈاکٹر شمائل کا کہنا تھا کہ "یہ مرض صرف جلدی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جسم کے اندرونی حصوں تک پہنچ سکتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔”
نئی دوا کی ایجاد
ڈاکٹر شمائل ضیاء نے تفصیل سے بتایا کہ پاکستان میں پہلی بار فنگل انفیکشن کے علاج کے لیے ایک نئی دوا تیار کی گئی ہے، جو دو موثر ادویات کو ملا کر بنائی گئی ہے۔ یہ امتزاج فنگس کو براہ راست نشانہ بناتا ہے اور انفیکشن کو چند دنوں میں ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے خوشی سے کہا کہ "یہ دوا مقامی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی گئی ہے، جو سردیوں کی خشکی اور گرمیوں کی گرمی دونوں سے نمٹنے میں مددگار ہوگی۔”
یہ ایجاد ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان میں فنگل انفیکشنز صحت عامہ کا ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، اور دستیاب ادویات کی کمی یا مہنگائی کی وجہ سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر شمائل نے امید ظاہر کی کہ یہ دوا جلد مارکیٹ میں دستیاب ہو جائے گی اور لاکھوں مریضوں کو فائدہ پہنچائے گی۔
سردیوں کی خشکی سے بچاؤ
سرد موسم کی آمد کے ساتھ جسم کی جلد کو خشکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو فنگل انفیکشنز کو دعوت دیتا ہے۔ ڈاکٹر شمائل نے بتایا کہ اس موسم میں ہاتھوں، پیروں اور پاؤں کی جلد پر کریک پڑنے لگتی ہے، جو جراثیموں کے لیے زرخیز زمین بن جاتی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ جسم کو ہمیشہ موئسچرائز رکھیں، اور ناریل کا تیل ایک قدرتی اور موثر حل ہے جو جلد کو نرم اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ "خشک موسم میں جلدی امراض کی شدت بڑھ جاتی ہے، اس لیے روزانہ موئسچرائزر کا استعمال لازمی بنائیں تاکہ جلد کی قدرتی تہہ برقرار رہے۔” یہ سادہ مشورہ نہ صرف فنگل انفیکشنز سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے بلکہ روزمرہ کی صحت کو بہتر بنانے میں بھی مددگار ہے۔
خواتین کی جلدی صحت
ڈاکٹر شمائل نے خواتین کی جلدی صحت پر خصوصی توجہ دی، جو اکثر چہرے کی رنگت کو گورا کرنے کی کوشش میں کیمیکل سے بھرپور کریمز کا استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ کریمز جلد کو شدید نقصان پہنچاتی ہیں، جس سے چھائیاں اور داغ دھبے واضح ہو جاتے ہیں۔ مزید برآں، ان میں موجود Mercury اور Arsenic جیسے زہریلے عناصر کینسر سمیت دیگر سنگین امراض کو جنم دے سکتے ہیں۔
انہوں نے خواتین کو تنبیہ کی کہ مارکیٹ میں دستیاب ان کیمیکل کریمز سے پرہیز کریں اور قدرتی متبادلات جیسے ہربل موئسچرائزرز یا ڈاکٹر کی ہدایت پر دوائی استعمال کریں۔ "یہ کریمز فوری چمک تو دیتی ہیں مگر طویل مدتی نقصان پہنچاتی ہیں، جو جلد کی صحت کو تباہ کر دیتی ہیں،” ان کا یوں کہنا تھا، جو ہر گھر کی خواتین کے لیے ایک اہم سبق ہے۔
عوامی رائے
اس خبر نے سوشل میڈیا پر فوری ردعمل جنم دیا، جہاں لوگوں نے اسے پاکستان کی طبی تحقیق کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ فیس بک اور ٹوئٹر پر صارفین کا کہنا ہے کہ یہ دوا دیہی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے نجات کا باعث بنے گی، جہاں فنگل انفیکشنز کی وجہ سے ہزاروں لوگ پریشان رہتے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا: "آخر کار پاکستان نے اپنی دوا بنائی، اب امپورٹڈ ادویات کی مہنگائی سے نجات ملے گی!” دوسرے نے امید ظاہر کی کہ "سردیوں میں جلدی کی تکلیف اب کم ہوگی، شکریہ ڈاکٹر شمائل!” تاہم، کچھ لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کیا یہ دوا سب کے لیے دستیاب ہوگی، یا یہ صرف شہروں تک محدود رہے گی؟ مجموعی طور پر، عوامی جذبات مثبت ہیں، اور لوگ اسے صحت کے شعبے میں ایک مثبت تبدیلی کی امید سمجھ رہے ہیں۔
یہ نئی فنگل انفیکشن دوا پاکستان کی طبی تحقیق کی ایک شاندار مثال ہے، جو مقامی مسائل جیسے موسمی تبدیلیوں اور صحت کی عدم مساوات کو حل کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔ فنگل انفیکشنز، جو پاکستان میں لاکھوں کو متاثر کرتے ہیں، خاص طور پر دیہی اور غریب طبقوں کے لیے بوجھ ہیں، اور یہ دوا انہیں سستا علاج دے کر صحت عامہ کو بہتر بنا سکتی ہے۔ ڈاکٹر شمائل کی تنبیہاں، خاص طور پر کیمیکل کریمز کے خطرات پر، خواتین کی صحت کو ایک نئی سمت دیتی ہیں، جو کاسمیٹک انڈسٹری کی لاپرواہی کو چیلنج کرتی ہیں۔ تاہم، اس کی کامیابی کا انحصار دستیابیت، قیمت اور عوامی آگاہی پر ہوگا – اگر حکومت نے اسے مفت یا سبسڈی والا بنا دیا تو یہ انقلابی ثابت ہوگی۔ مجموعی طور پر، یہ خبر امید کی کرن ہے، جو پاکستان کو صحت کے شعبے میں خود کفیل بنانے کی طرف لے جائے گی۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔





















