ممبئی ؛ بالی ووڈ کے سلطان سلمان خان کی میزبانی والا ریئلٹی شو ’’بگ باس‘‘ ایک بار پھر طوفانِ بدتمیزی کی زد میں ہے۔ اس ہفتے کے ایوکشن میں ایم ٹی وی روڈیز کے اسٹار بصیر علی اور خوبصورتی کی ملکہ نیہال کو گھر سے باہر کا راستہ دکھایا گیا تو سوشل میڈیا پر آگ سی لگ گئی۔ ویورز نے شو میکرز پر کھلے عام جانب داری، ووٹنگ میں دھاندلی اور فیورٹ کو جتوانے کی سازش کا الزام لگا کر شو کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
ہفتہ وار ایوکشن کا اعلان ہوتے ہی ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک پر #JusticeForBaseer اور #BoycottBiggBoss ٹاپ ٹرینڈ بن گئے۔ بصیر علی، جو شو کے پہلے دن سے ٹاسکس میں سبقت لے جاتے تھے، دلچسپ ڈائیلاگز سے گھر کو زندہ رکھتے تھے اور پولز میں ٹاپ فائیو فائنلسٹس میں شمار ہو رہے تھے، ان کی اچانک رخصتی نے لاکھوں فینز کو حیران کر دیا۔ صارفین کا کہنا ہے کہ گھر میں موجود کئی کمزور اور بورنگ کنٹیسٹنٹس کے مقابلے میں بصیر کا کھیل سب سے جاندار تھا، پھر بھی ووٹنگ کے بہانے انہیں نکال دیا گیا۔
گھر کے اندر بھی یہ تنازعہ گونجا اداکارہ فرحانہ بھٹ نے کیمرے کے سامنے کھل کر کہا "عوام کے ووٹ تو ایک بہانہ ہیں، اصل فیصلہ تو بگ باس انتظامیہ کا ہوتا ہے۔” یہ جملہ لائیو ٹیلی کاسٹ پر آیا تو ویورز نے اسے ثبوت سمجھ کر شو کی اسکرپٹڈ نوعیت پر مہر ثبت کر دی۔
پس منظر
یہ پہلا موقع نہیں جب بگ باس پر جانب داری کے الزامات لگے ہوں۔ گزشتہ سیزن میں بھی کئی کنٹیسٹنٹس کو فیورٹ قرار دے کر ایکسٹرا ٹائم اور آسان ٹاسکس دیے جانے کی باتیں سامنے آئیں۔ لیکن اس بار بصیر علی جیسے مقبول چہرے کی بے دخلی نے ویورز کی برداشت کی حد پار کر دی۔ ٹی آر پی رپورٹس بتاتی ہیں کہ گزشتہ دو ہفتوں میں شو کی ویورشپ میں 18 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے، جو اس کی گرتی مقبولیت کی واضح علامت ہے۔
کلرز ٹی وی کے ایک سینئر پروڈیوسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا "بصیر کا نکلنا ایک اسٹریٹجک فیصلہ تھا۔ شو کو ڈرامہ چاہیے، اور کچھ کنٹیسٹنٹس کو آگے لے جانے کے لیے ایسے قدم اٹھانے پڑتے ہیں۔” لیکن یہ بیان ویورز کے غم و غصے کو مزید بھڑکا گیا۔
سوشل میڈیا پر ویورز کا غم و غصہ
- دہلی کی ایک طالبہ ریا شرما "بصیر کو نکال کر بگ باس نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری۔ اب میں ایک منٹ بھی نہیں دیکھوں گی!”
- ممبئی کے آئی ٹی پروفیشنل راہل مہتا "ووٹنگ تو دکھاوا ہے، سب کچھ پہلے سے طے ہوتا ہے۔ سلمان خان بھی خاموش تماشائی بنے ہیں۔”
- حیدرآباد کی گھریلو خاتون صوفیہ "بچوں کو دکھانے لائق شو نہیں رہا۔ بس لڑائی جھگڑے اور منصوبہ بندی۔
کئی صارفین نے سلمان خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ ہفتہ وار ویکنڈ کا وار میں کنٹیسٹنٹس کی غلطیوں کو نظر انداز کرتے ہیں جبکہ دوسروں پر سخت گیری دکھاتے ہیں۔
بگ باس کی کامیابی کا راز ہمیشہ تنازعات، ڈرامہ اور غیر متوقع موڑ رہے ہیں، لیکن جب یہ تنازعات ویورز کی دلچسپی کو نقصان پہنچانے لگیں تو شو کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ بصیر علی کی بے دخلی ایک کلاسک مثال ہے کہ جب پروڈکشن ہاؤس اپنی مرضی مسلط کرتا ہے تو ناظرین بغاوت پر اتر آتے ہیں۔
ٹی آر پی کی گرتی شرح اور سوشل میڈیا بائیکاٹ مہم بتاتی ہے کہ اب ویورز محض تماشائی نہیں، فیصلہ ساز بن چکے ہیں۔ اگر کلرز اور اینڈ مول پروڈکشنز نے فوری طور پر شفافیت نہیں دکھائی تو بگ باس کی 19ویں سیزن اپنی ساکھ کھو کر فائنل تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ سکتی ہے۔ سلمان خان کے لیے بھی یہ ایک چیلنج ہے کہ وہ اپنے شو کو بچانے کے لیے کتنا آگے جائیں گے – کیا وہ ویورز کی آواز سنیں گے یا پروڈکشن کے اشاروں پر چلتے رہیں گے؟
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔





















