سونے کی قیمت میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونا ایک دن میں 140 ڈالر سستا ہو کر 3 ہزار 940 ڈالر کی سطح پر آگیا جو ایک ریکارڈ کمی تصور کی جا رہی ہے

کراچی :عالمی سطح پر سونے میں سرمایہ کاری کے حجم میں کمی، ڈالر کی قدر میں غیر معمولی استحکام اور جغرافیائی کشیدگی میں کمی جیسے عوامل نے قیمتی دھاتوں کی عالمی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ نتیجتاً، آج سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تاریخ کی سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونا ایک دن میں 140 ڈالر سستا ہو کر 3 ہزار 940 ڈالر کی سطح پر آگیا — جو ایک ریکارڈ کمی تصور کی جا رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ گراوٹ اس بات کی علامت ہے کہ سرمایہ کار اب سونے جیسی محفوظ پناہ گاہوں سے نکل کر ڈالر اور اسٹاک مارکیٹس کی طرف رجوع کر رہے ہیں۔ عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی، افراطِ زر کے دباؤ میں کمی، اور امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے سود کی شرح میں استحکام نے بھی اس رجحان کو مضبوط کیا ہے۔

مقامی مارکیٹ میں بھی سونا تاریخی سطح سے نیچے

عالمی مارکیٹ کے اثرات براہِ راست پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں بھی دیکھے گئے۔ منگل کے روز مقامی مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت 14 ہزار روپے کی بڑی کمی کے ساتھ 4 لاکھ 16 ہزار 362 روپے تک گر گئی۔

اسی طرح 10 گرام سونا بھی 12 ہزار 300 روپے سستا ہو کر 3 لاکھ 56 ہزار 963 روپے پر آگیا، جو گزشتہ کئی مہینوں کے دوران سب سے بڑی یومیہ کمی ہے۔

چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ فی تولہ چاندی 173 روپے کم ہو کر 4 ہزار 924 روپے اور 10 گرام چاندی 148 روپے کمی کے ساتھ 4 ہزار 221 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔

عالمی سطح پر سونے کی گراوٹ کی وجوہات

بین الاقوامی ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں یہ غیر معمولی کمی تین بڑی وجوہات کے نتیجے میں سامنے آئی ہے:

ڈالر کی قدر میں اضافہ:

امریکی معیشت کے مثبت اشاروں نے ڈالر کو دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں مضبوط بنایا، جس کے باعث سونے کی طلب کم ہوگئی۔

جغرافیائی تناؤ میں کمی:

مشرقِ وسطیٰ اور یورپ میں تنازعات کے دباؤ میں کمی نے عالمی سرمایہ کاروں کو سونا بیچ کر دیگر سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے پر مجبور کیا۔

سود کی شرح میں استحکام:

امریکہ اور یورپ میں مرکزی بینکوں کے محتاط رویے کے باعث سرمایہ کاروں نے سونا بطور تحفظی سرمایہ کم خریدنا شروع کر دیا۔

پاکستانی صارفین کے لیے مواقع اور خدشات

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اس ریکارڈ کمی نے زیورات کے خریداروں کے لیے خوشخبری پیدا کر دی ہے، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عارضی ہو سکتی ہے۔

ملکی سطح پر روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ، بین الاقوامی منڈی کی غیر یقینی کیفیت اور حکومت کی جانب سے درآمدی پالیسیوں میں تبدیلی جیسے عوامل مستقبل میں دوبارہ سونا مہنگا کر سکتے ہیں۔

تاہم قلیل مدت میں شادیوں کے سیزن کے پیشِ نظر سونے کے خریداروں میں دلچسپی میں اضافہ متوقع ہے۔ صرافہ مارکیٹ کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں کمی کا رجحان چند دن مزید برقرار رہا تو فی تولہ سونا 4 لاکھ روپے سے بھی نیچے جا سکتا ہے۔

ماہرین کا تجزیہ: کیا سونا مزید سستا ہوگا؟

مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونا طویل عرصے سے عالمی سطح پر غیر یقینی حالات کے باعث بلند سطح پر رہا۔ اب جبکہ عالمی سیاست میں کچھ حد تک استحکام آیا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، تو قدرتی طور پر سونے سے سرمایہ نکل کر کاروباری شعبوں میں منتقل ہو رہا ہے۔

تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان طویل مدتی نہیں ہوگا۔ اگر دنیا کے کسی خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھتی ہے یا عالمی معیشت کسی نئے بحران کا شکار ہوتی ہے، تو سونا دوبارہ محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر اپنی پرانی جگہ بنا سکتا ہے۔

پاکستان میں سونا اب بھی عالمی منڈی سے کچھ زیادہ مہنگا ہے کیونکہ مقامی مارکیٹ میں ٹیکس، درآمدی لاگت، اور روپے کی قدر جیسے عوامل اس کے نرخوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کے لیے اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ غیر یقینی حالات کو دیکھتے ہوئے طویل مدتی سرمایہ کاری کے فیصلے محتاط انداز میں کریں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین