بھارتی فلم انڈسٹری ہل گئی! چرن جیوی کی ڈیپ فیک ویڈیوز نے تنازع کھڑا کردیا

چرن جیوی، جن کا اصل نام کنیدھام راجا شری کانتھ، آندھرا پردیش سے تعلق رکھتے ہیں

تلگو فلم انڈسٹری کے اسٹار اور بالی ووڈ کی شاندار شخصیت چرن جیوی، جن کی عمر 70 برس ہے، آج ایک ایسے ہولناک تنازعے کی زد میں آ گئے ہیں جو ان کی دہائیوں کی محنت کو داغدار کرنے کی کوشش ہے۔ آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے اس لیجنڈری اداکار نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) پر مبنی ڈیپ فیک فحش ویڈیوز کے خلاف حیدرآباد سائبر کرائم پولیس میں باقاعدہ شکایت درج کروائی ہے، جو ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے اور جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا مقصد رکھتی ہیں۔ پولیس نے ان ویڈیوز کو جعلی اور بے ہودہ مناظر میں اداکار کو پیش کرنے والا مواد قرار دیا ہے، اور مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جس کی تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے۔

یہ واقعہ AI کی جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی ایک اور مثال ہے، جو مشہور شخصیات کو نشانہ بناتے ہوئے ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چرن جیوی، جو تیلگو سٹارڈم کی بنیاد رکھنے والوں میں شمار ہوتے ہیں، نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ تمام مواد بدنیتی پر مبنی ہے، جو انہیں غیر اخلاقی انداز میں پیش کر کے عوام میں ان کی شخصیت کو داغدار کرنے کی سازش ہے۔ ان کی شکایت نے نہ صرف فلم انڈسٹری کو جھنجھوڑ دیا ہے بلکہ سائبر جرائم کی روک تھام پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

شکایت اور پولیس کا ردعملی

چرن جیوی کی شکایت میں واضح کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی یہ ویڈیوز AI ٹیکنالوجی سے تیار کی گئی ہیں، جو ان کی شکل اور آواز کو استعمال کر کے بے ہودہ اور فحش مناظر میں اداکار کو دکھاتی ہیں۔ پولیس کے مطابق، یہ مواد اداکار کی ساکہ اور عوامی امیج کو شدید نقصان پہنچانے کا ذریعہ ہے، جو سائبر ہراسانی اور جعلی مواد کی تخلیق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ حیدرآباد سائبر کرائم پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کر لیا ہے، جو انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج ہے، اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

اداکار نے اپنے بیان میں کہا "دہائیوں کی محنت سے بنائی گئی میری ساکھ کو نقصان پہنچانے والے اس اقدام نے نہ صرف مجھے اور میرے اہل خانہ کو شدید ذہنی اذیت دی ہے بلکہ عوام کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔” یہ الفاظ نہ صرف ان کی ذاتی تکلیف کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ AI کے غلط استعمال کی اخلاقی اور قانونی پیچیدگیوں کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ پولیس نے وعدہ کیا ہے کہ ملزمان کی جلد نشاندہی کر کے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جو بالی ووڈ اور جنوبی انڈسٹری میں مشہور شخصیات کے لیے ایک انتباہ ہے۔

چرن جیوی کی شخصیت

چرن جیوی، جن کا اصل نام کنیدھام راجا شری کانتھ، آندھرا پردیش سے تعلق رکھتے ہیں اور تیلگو فلم انڈسٹری میں دہائیوں سے سرگرم ہیں۔ ان کی فلمیں جیسے "مگدھرا” اور "کدپا” نے انہیں لیجنڈ بنا دیا، اور ان کی سیاسی وابستگی بھی انہیں عوام کا پسندیدہ رکھتی ہے۔ 70 سالہ اداکار کی یہ شکایت نہ صرف ذاتی بلکہ انڈسٹری کی مجموعی ساکھ کا معاملہ ہے، جو AI کی بدعنوانیوں سے متاثر ہو رہی ہے۔ یہ واقعہ مشہور شخصیات پر ڈیپ فیک حملوں کی بڑھتی تعداد کو ظاہر کرتا ہے، جو سوشل میڈیا کی طاقت کو ہتھیار بنا رہے ہیں۔

عوامی رائے

اس کیس نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا، جہاں فینز اور عوام چرن جیوی کی حمایت میں آ گئے اور AI کے غلط استعمال پر شدید غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر #JusticeForChiranjeevi ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "چرن جیوی جیسے لیجنڈ کی ساکھ کو داغدار کرنا قابلِ نفرت، پولیس جلد ملزمان پکڑے!” دوسرے نے کہا: "ڈیپ فیک فحش ویڈیوز کیس، AI کی بدعنوانی روکیں، اداکار کی ذہنی اذیت دل دہلا دیتی ہے!”

تلگو اور بالی ووڈ فینز نے ایکشن کی مانگ کی "حیدرآباد پولیس، تحقیقات تیز کریں، ایسے جرائم کو روکیں!” مجموعی طور پر، عوامی جذبات حمایت اور غصے کی آمیزش ہیں، جو AI قوانین کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

چرن جیوی کی ڈیپ فیک کیس AI کی بدعنوانیوں کی ایک سنگین مثال ہے، جو مشہور شخصیات کی ساکھ اور ذہنی صحت کو نشانہ بناتی ہے۔ ویڈیوز کی جعلی مناظر میں پیشی فحش مواد کی تخلیق کی اخلاقی خلاف ورزی کو اجاگر کرتی ہے، جو سائبر ہراسانی کی بڑھتی لہر کا حصہ ہے۔ حیدرآباد پولیس کا مقدمہ درج کرنا قانونی عمل کی شروعات ہے، مگر تحقیقات کی تیزی اس کی کامیابی کا کلید ہوگی، جو ملزمان کو سزا دے سکتی ہے۔ عوامی سطح پر، حمایت غالب ہے جو اداکار کی تکلیف کو تسلیم کرتی ہے، مگر AI قوانین کی ضرورت کو بھی واضح کرتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ کیس فلم انڈسٹری کو AI کے خطرات سے آگاہ کرتا ہے، جو مستقبل میں سخت قوانین اور آگاہی کی ضرورت رکھتا ہے۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں

متعلقہ خبریں

مقبول ترین