چین کی مصروف گلیوں اور روایتی بازاروں میں ایک ایسی منفرد ثقافتی روایت نے جگہ بنا لی ہے جو غصے اور مایوسی کو ہاتھوں سے نکالنے کا ذریعہ بن گئی ہے – بدصورت مجسموں کو تھپڑ مارنا۔ گوانگ ژو شہر میں واقع یہ "تھپڑ مارنے کے مجسمے” ہزاروں لوگوں کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں، جو ذہنی دباؤ اور منفی جذبات سے نجات پانے کے لیے ان پر ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ یہ مجسمے، جو عام طور پر بھدی صورتوں میں تراشے گئے ہوتے ہیں، چین کی قدیم روایات کا جدید عکس ہیں، جہاں لوگ سمجھتے ہیں کہ جسمانی طور پر غصہ نکالنا ذہنی سکون اور نفسیاتی تندرستی کی ضمانت ہے۔ یہ رواج نہ صرف مقامی لوگوں کی روزمرہ کی جدوجہد کو سہارا دیتا ہے بلکہ ایک مقبول سیاحتی کشش بھی بن چکا ہے، جہاں دور دراز سے آئے مسافر اپنے اندر کی آگ کو باہر نکالتے ہیں۔
یاد رہے کہ چین کی ثقافت میں ایسے اقدامات روایتی "دماغی صفائی” کا حصہ ہیں، جو قدیم دور سے چلے آ رہے ہیں، اور آج کے دور میں یہ مجسمے نفسیاتی مسائل سے نبرد آزما لوگوں کے لیے ایک محفوظ نکلاؤ کا راستہ بن گئے ہیں۔
غصہ نکالنے کا روایتی طریقہ
گوانگ ژو، چین کا ایک تاریخی تجارتی مرکز، اب نہ صرف اپنے بازاروں اور کھانوں کی وجہ سے مشہور ہے بلکہ ان بدصورت مجسموں کی وجہ سے بھی، جنہیں لوگ "تھپڑ مارنے کے مجسمے” کہتے ہیں۔ یہ مجسمے عام طور پر بھدی اور مسخ شدہ شکلوں میں بنائے جاتے ہیں، جو لوگوں کو اپنے اندر کی تاریک توانائی کو آزاد کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ مقامی روایات کے مطابق، جب انسان اپنے غصے، مایوسی یا دباؤ کو جسمانی طور پر باہر نکالتا ہے تو ذہنی سکون ملتا ہے، جو ان مجسموں کو ایک نفسیاتی علاج کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ ہزاروں لوگ، خاص طور پر وہ جو روزمرہ کی جدوجہد، کام کی تناؤ یا ذاتی مسائل سے گزر رہے ہوتے ہیں، ان مجسموں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں، جو ایک طرح کی تطہیر کا عمل ہوتا ہے۔
یہ رواج چین کی قدیم فلسفہ کی بنیاد پر قائم ہے، جہاں جسمانی سرگرمیاں ذہنی توازن کی بحالی کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔ مجسموں کی شکلوں کو جان بوجھ کر بدصورت بنایا جاتا ہے تاکہ لوگ انہیں اپنے اندر کے "شیطان” کی علامت سمجھ کر غصہ نکالیں، جو نفسیاتی طور پر بہت موثر ثابت ہو رہا ہے۔
دیگر روایات
چین کی مختلف علاقوں میں غصہ نکالنے کی روایات متنوع ہیں، جہاں بعض جگہوں پر لوگ درختوں پر پتھر پھینک کر اپنے اندر کی آگ کو بجھاتے ہیں، جبکہ دیگر میں ایسے مجسموں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ تمام طریقے روایتی "دماغی صفائی” کا حصہ ہیں، جو قدیم چینی فلسفہ میں جڑے ہوئے ہیں اور آج کے دور میں نفسیاتی مسائل سے نبرد آزما لوگوں کے لیے ایک سستا اور دستیاب حل فراہم کرتے ہیں۔ ان مجسموں کی مقبولیت نے انہیں ایک مقامی سیاحتی مقام بنا دیا ہے، جہاں لوگ نہ صرف اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کی کہانیاں سنتے اور سہارا دیتے ہیں۔ ہزاروں زائرین، جن میں نوجوان، بزرگ، اور سیاح شامل ہیں، ان جگہوں پر آ کر اپنے بوجھ کو ہلکا کرتے ہیں، جو چین کی ثقافتی لچک کی عکاسی کرتا ہے۔
ان روایات کی مقبولیت بڑھنے کی وجہ آج کے دور کی تناؤ بھری زندگی ہے، جہاں لوگ روایتی طریقوں کو جدید نفسیاتی علاج کا متبادل سمجھ رہے ہیں۔ یہ مجسمے نہ صرف غصہ نکالنے کا ذریعہ ہیں بلکہ ایک سماجی پلیٹ فارم بھی، جہاں لوگ اپنے مسائل شیئر کرتے ہیں۔
عوامی رائے
اس رواج نے سوشل میڈیا پر دلچسپی کا طوفان برپا کر دیا، جہاں چینی اور عالمی صارفین اسے "غصے کی تطہیر” قرار دے رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #ChineseAngerStatues ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "چین کی یہ روایت شاندار، غصہ نکالنے کا قدرتی طریقہ، ذہنی سکون کی ضمانت!” دوسرے نے کہا "بدصورت مجسموں پر تھپڑ، ہزاروں لوگ، نفسیاتی صحت کی بہترین مثال!”
عالمی صارفین نے بھی دلچسپی دکھائی "ہمارے یہاں بھی ایسا رواج ہونا چاہیے، تناؤ کم ہوگا!” مجموعی طور پر، عوامی جذبات مثبت ہیں، اور لوگ اسے ذہنی صحت کی روایتی حکمت کی تعریف کر رہے ہیں، جو جدید دنیا میں استعمال کی جاتی ہے۔
چین کا یہ "تھپڑ مارنے والا مجسمہ” رواج ثقافتی ذہانت کی ایک خوبصورت مثال ہے، جو غصہ اور منفی توانائی کو جسمانی طور پر نکالنے کے ذریعے ذہنی سکون کی طرف لے جاتا ہے۔ بدصورت مجسموں کا استعمال روایتی "دماغی صفائی” کی بنیاد پر قائم ہے، جو قدیم فلسفہ کی عکاسی کرتا ہے اور آج کے تناؤ بھرے دور میں ہزاروں لوگوں کو سہارا دیتا ہے۔ یہ رواج نہ صرف نفسیاتی فائدہ دیتا ہے بلکہ سماجی اور سیاحتی کشش بھی بن چکا ہے، جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ عوامی سطح پر، تعریف غالب ہے جو اسے ذہنی صحت کی روایتی حکمت سمجھتی ہے، جو جدید علاجوں کا متبادل بن سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ رواج چین کی لچک کو ظاہر کرتا ہے، جو جذبات کو مثبت طور پر ڈھالنے کی ترغیب دیتا ہے، مگر اسے نفسیاتی ماہرین کی نگرانی میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔





















