افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام، انتہائی مطلوب خارجی کمانڈر سمیت 4 دہشت گرد ہلاک

فورسز نے غیر ملکی دہشت گردوں کے ایک گروہ کو گھیرے میں لے کر بروقت اور مؤثر کارروائی کی

پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاک افغان سرحد کے راستے دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ کارروائی کے دوران انتہائی مطلوب خارجی کمانڈر سمیت چار دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اس کامیاب آپریشن نے نہ صرف دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے بلکہ پاکستان کے امن و استحکام کے تحفظ کے عزم کو بھی مزید مضبوط کر دیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، یہ کارروائی ضلع باجوڑ کے حساس علاقے میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔ فورسز نے غیر ملکی دہشت گردوں کے ایک گروہ کو گھیرے میں لے کر بروقت اور مؤثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں چار خارجی، بشمول ایک ہائی ویلیو ٹارگٹ، ہلاک ہو گئے۔ مارے جانے والوں میں سب سے اہم کردار خارجی کمانڈر امجد کا تھا جو فتنۃ الخوارج نامی بھارتی حمایت یافتہ تنظیم کی "رہبری شوریٰ” کا سربراہ اور خارجی نور ولی محسود کا نائب تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، کمانڈر امجد پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے سے مطلوب تھا اور حکومتِ پاکستان نے اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر کر رکھی تھی۔ یہ کمانڈر افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے اندر دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور نگرانی کرتا تھا۔ اس کے نیٹ ورک کا مقصد پاکستان میں بدامنی پھیلانا، عوام میں خوف پیدا کرنا اور ریاستی اداروں کو کمزور کرنا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ فتنۃ الخوارج کی قیادت افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جو نہ صرف خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ افغان سرزمین کے غلط استعمال کی واضح مثال بھی ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس امر کو یقینی بنائے کہ افغان علاقہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے کسی صورت استعمال نہ ہو۔

آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ یہ واقعہ پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی تصدیق کرتا ہے کہ فتنۃ الخوارج سے وابستہ عناصر مسلسل افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف محفوظ ٹھکانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں، اور اس پورے علاقے میں کلیئرنس اور سینی ٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی بھارتی حمایت یافتہ خارجی نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

وزیراعظم کا خراجِ تحسین

وزیراعظم شہباز شریف نے اس کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کے دشمنوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہائی مطلوب خارجی کمانڈر امجد اور اس کے ساتھیوں کی ہلاکت پاکستان کی سلامتی کے خلاف سرگرم عناصر کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں، ان کا انجام ایک ہی ہے۔ تباہی اور شکست۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، تاہم پاکستانی قوم اور ریاستی ادارے اس عزم پر قائم ہیں کہ ملک سے اس عفریت کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بے گناہ شہریوں کی جان و مال سے کھیلنے والے عناصر کو کسی صورت معافی نہیں دی جا سکتی۔

یہ آپریشن نہ صرف پاک فوج کی خفیہ صلاحیتوں اور بروقت ردِعمل کا مظہر ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ بھارت کی پشت پناہی سے کام کرنے والے خارجی نیٹ ورک کا خاتمہ پاکستان کے لیے امن کے قیام میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اس کامیابی نے ایک بار پھر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرے گا۔

عوامی حلقوں میں اس کامیاب کارروائی پر اطمینان اور فخر کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر شہریوں نے سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا کہ "یہ ہے وہ پاکستان جس کے محافظ جاگتے ہیں تو قوم سکون سے سوتی ہے۔” کئی شہریوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ قوم اپنے ہیروز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ آخری حد تک جاری رہے گی۔

 آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین