راولپنڈی سے حاصل ہونے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق رواں سال کے پہلے دس ماہ کے دوران ہزاروں غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو شناخت اور تصدیق کے بعد افغانستان واپس بھیجا گیا۔
اعدادوشمار کے مطابق مجموعی طور پر دس ماہ کے دوران 3 ہزار 216 غیر قانونی افغانی مختلف ادوار میں وطن واپس گئے، جبکہ ویزہ کی مدت ختم ہونے پر 242 افغان باشندوں کو ملک بدر کیا گیا۔ اسی طرح 22 کارڈ ہولڈرز کو بھی قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد واپس بھیجا گیا۔
دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ اے سی سی کارڈ ہولڈرز کی تعداد 671 رہی، جبکہ پی او آر (Proof of Registration) کارڈ رکھنے والے 1408 افغان شہری بھی ان افراد میں شامل تھے جنہیں تصدیقی عمل سے گزارا گیا۔
اسے بھی پڑھیں: سوڈان کی خانہ جنگی شدت اختیار کر گئی، الفاشر شہر مکمل طور پر باغیوں کے کنٹرول میں
رپورٹ کے مطابق کل 5583 افغانی مختلف اوقات میں حراست میں لیے گئے، تاہم مکمل تصدیق کے بعد 1057 افراد کو چھوڑ دیا گیا۔ اسی دوران ہولڈنگ سینٹرز میں 584 افغان باشندے زیر حراست رہے۔ دستاویزات کے مطابق پہلے دس ماہ میں کل 3942 غیر قانونی افغانی وطن واپس بھیجے جاچکے ہیں۔
پس منظر
پاکستان میں افغان شہریوں کی بڑی تعداد گزشتہ چار دہائیوں سے مقیم ہے۔ 1979 میں سوویت حملے کے بعد لاکھوں افغان مہاجرین نے پاکستان میں پناہ لی تھی۔ اگرچہ ان میں سے کئی بعد میں واپس چلے گئے، مگر ایک بڑی تعداد آج بھی مختلف شہروں میں غیر قانونی طور پر موجود ہے۔
گزشتہ سال حکومتِ پاکستان نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے لیے مہم کا آغاز کیا، جس کے تحت نادرا، ایف آئی اے، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشترکہ کارروائی کا اختیار دیا گیا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں پنجاب سمیت ملک بھر میں افغان باشندوں کی شناخت اور واپسی کا عمل تیز کیا گیا۔
ماہرین کی رائے
امیگریشن ماہرین کے مطابق افغان شہریوں کی ملک بدری کا عمل نہ صرف سیکیورٹی کے حوالے سے اہم ہے بلکہ سماجی اور معاشی اثرات بھی رکھتا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے تجزیہ کار ڈاکٹر فاروق حسن کے مطابق:
پاکستان نے کئی دہائیوں تک افغان شہریوں کی میزبانی کی، لیکن اب جب عالمی حالات بدل رہے ہیں تو غیر قانونی قیام کو برداشت کرنا ممکن نہیں۔ اس کے باوجود، اس عمل میں انسانی ہمدردی کے اصولوں کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔”
سماجی ماہر ڈاکٹر صدف محمود کا کہنا ہے کہ:
واپسی کا عمل اس انداز میں ہونا چاہیے کہ عام افغان شہریوں کے روزگار یا بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ حکومت کو واپسی کے ساتھ ساتھ انسانی بنیادوں پر سہولت مراکز بھی قائم رکھنے چاہییں۔
تجزیہ
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ افغان شہریوں کی بڑی تعداد کئی برسوں سے پاکستان کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کا حصہ رہی ہے۔ بہت سے افغان باشندے کاروبار، مزدوری اور خدمات کے شعبوں میں مصروف ہیں۔ ان کی اچانک واپسی نہ صرف انسانی مسئلہ بن سکتی ہے بلکہ سرحدی علاقوں میں معاشی دباؤ بھی بڑھا سکتی ہے۔
تاہم دوسری طرف، ریاست کے لیے قانونی اور سیکیورٹی خدشات بھی اہم ہیں۔ غیر رجسٹرڈ افراد کی موجودگی دہشت گردی، اسمگلنگ اور دیگر جرائم کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔ اسی لیے حکومت کی یہ پالیسی ملک کے اندرونی نظم و نسق اور سیکیورٹی کو بہتر بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے۔
راولپنڈی میں جاری اس کارروائی سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف سنجیدہ ہے۔ تاہم ماہرین کی متفقہ رائے یہی ہے کہ قانونی نفاذ اور انسانی ہمدردی کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔
اگر یہ عمل شفاف اور منصفانہ انداز میں جاری رہا تو نہ صرف ملکی سلامتی مضبوط ہوگی بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مثبت تاثر بھی اُبھرے گا۔





















