دنیا کا سب سے بڑا علم وہ ہے جو انسان کو خود پر قابو پانے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ اور یہی سلیقہ دراصل بردباری اور تحمل کہلاتا ہے۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو انسان کے اندر اخلاقی عظمت، فکری توازن اور روحانی سکون پیدا کرتے ہیں۔ بردباری کا مفہوم یہ ہے کہ انسان غصے، اذیت یا مخالفت کے باوجود اپنے جذبات پر قابو رکھے، اور تحمل یہ ہے کہ وہ دوسروں کے نظریات، کمزوریوں اور اختلافات کو برداشت کرے۔ دونوں صفات انسان کو حیوانیت سے بلند اور انسانیت کے مقام پر فائز کرتی ہیں۔
قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ” (آلِ عمران: 134) یعنی وہ لوگ جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔ یہی وہ وصف ہے جو ایک انسان کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے طائف کے لوگوں کی سخت اذیت کے باوجود بددعا دینے کے بجائے فرمایا: “اے اللہ! انہیں ہدایت دے، یہ نہیں جانتے۔” یہ وہ عملی مثال ہے جس نے تحمل کو اخلاقِ نبوی کی بنیاد بنا دیا۔
حضرت علیؓ کا قول ہے: “بردباری عقل کا لباس ہے، اور عفو و درگزر شجاعت کی علامت ہے۔” یہ حقیقت اس وقت اور زیادہ واضح ہوتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ طاقتور انسان کا اصل امتحان اس کی طاقت نہیں بلکہ اس کے ضبط میں ہے۔ وہ جو چاہے سزا دے سکتا ہے، مگر معافی کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی اخلاقی جلال انسان کو عظیم بناتا ہے۔
تحمل کی سب سے پہلی منزل فرد کی ذات ہے۔ انسان اپنے غصے پر قابو پائے، دوسروں کی تلخ باتوں کو درگزر کرے، اور خود کو انتشار سے محفوظ رکھے۔ گھر کے ماحول میں اگر یہ صفت اپنائی جائے تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھگڑے ختم ہو جائیں۔ شوہر و بیوی کا رشتہ نرمی سے جڑتا ہے، والدین اور اولاد کے درمیان محبت قائم رہتی ہے، اور گھر ایک پُرامن گلشن بن جاتا ہے۔
اسی طرح معاشرتی سطح پر تحمل وہ بنیاد ہے جو انسانوں کے درمیان اعتماد پیدا کرتی ہے۔ اگر ہر شخص اپنی رائے کو برحق اور دوسرے کو باطل سمجھے تو معاشرہ نفرت اور تفرقے کا شکار ہو جاتا ہے۔ لیکن جب ہم اختلافِ رائے کو وسعتِ نظر سے قبول کرتے ہیں، تب معاشرتی وحدت جنم لیتی ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں ایک شخص نے سخت بات کی، مگر آپؓ نے ضبط سے کام لیتے ہوئے فرمایا: “اگر تو غصے پر قابو پائے تو شیطان پر غالب آ جائے گا۔” یہ جملہ آج بھی عدل اور تحمل کا مظہر ہے۔
بردباری صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ضرورت بھی ہے۔ قوموں کے عروج و زوال میں تحمل کی بڑی اہمیت ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا: “تم آزاد ہو اپنے مندروں میں جانے کے لیے، اپنی مسجدوں اور گرجا گھروں میں جانے کے لیے، اپنے مذہب پر عمل کرنے کے لیے آزاد ہو۔” یہ وہ جملہ ہے جس میں ایک روشن معاشرے کا منشور پوشیدہ ہے۔ اگر ہم آج کے دور میں اسی سوچ کو اپنائیں تو نفرت کی دیواریں گر جائیں اور برداشت کی فضا جنم لے۔
دنیاوی اور معاشرتی اقدار میں تحمل کا نفاذ دراصل انسان کے اخلاقی شعور سے ہوتا ہے۔ جب ایک فرد اپنے قول و عمل میں نرمی اور صبر اختیار کرتا ہے تو وہ دوسروں کے لیے مثال بن جاتا ہے۔ دفاتر، ادارے، تعلیمی ماحول اور سیاسی میدان سب میں یہی صفت درکار ہے۔ اگر ہم چاہیں تو ایک باشعور، متوازن اور پرامن معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے ہمیں اپنی زبان اور مزاج میں ٹھہراؤ پیدا کرنا ہوگا۔
آج کے تیز رفتار دور میں جہاں ہر شخص جلدی میں ہے، اختلافات شدت میں بدل رہے ہیں اور برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے، وہاں تحمل ہی وہ چراغ ہے جو دلوں کی تاریکی کو مٹا سکتا ہے۔ یہ کمزوری نہیں بلکہ وہ طاقت ہے جو انسان کو خود پر غالب کر دیتی ہے۔ جو اپنے غصے پر قابو پا لیتا ہے، وہ اپنے نفس کا فاتح بن جاتا ہے، اور جو معاف کر دیتا ہے وہ دراصل انسانیت کے مقام پر پہنچ جاتا ہے۔
بردباری اور تحمل کا پیغام یہی ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں سکون، ہمارے معاشرے میں امن، اور ہماری قوم میں وحدت پیدا ہو تو ہمیں اپنی انا کو قربان کر کے دوسروں کے لیے درگزر کا دروازہ کھولنا ہوگا۔ یہی وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں امید بن کر جلتی ہے، یہی انسانیت کا حقیقی حسن ہے۔





















