کسی نے جارحیت کی کوشش کی تو اس کا جواب سخت اور بھرپور انداز میں دیا جائے گا:ـترجمان پاک فوج

ایبٹ آباد میں مختلف جامعات کے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے خصوصی گفتگو کی

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ پاک فوج ملک کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اگر کسی نے جارحیت کی کوشش کی تو اس کا جواب سخت اور بھرپور انداز میں دیا جائے گا۔

ایبٹ آباد میں مختلف جامعات کے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے خصوصی گفتگو کی۔ اس نشست میں بڑی تعداد میں اساتذہ اور طلبہ شریک ہوئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اس موقع پر حالیہ پاک افغان تعلقات میں کشیدگی، ملکی سیکیورٹی کی صورتحال اور فتنۂ خوارج کے خلاف جاری کارروائیوں جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بات چیت کے دوران کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی اور خوارج کے فتنے کے خلاف بھرپور اور مؤثر اقدامات کیے ہیں۔

اس موقع پر اساتذہ اور طلبہ نے شہداء اور غازیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اکرام اللہ خان نے کہا کہ وطن سے محبت کی اصل مثال پاک فوج ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج ہمیشہ سب سے آگے ہوتی ہے اور ہم ہر مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اساتذہ نے کہا کہ دشمن قوتیں ہمارے بچوں کے ذہنوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہم انہیں سچی اور تصدیق شدہ معلومات فراہم کریں۔

طلبہ نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہم اس ملک کے شہری ہیں جہاں پاک فوج جیسے ادارے نوجوانوں کو رہنمائی اور حوصلہ دیتے ہیں۔ آج ہمیں سوشل میڈیا پر فوج کے بارے میں پھیلنے والی غلط باتوں کی حقیقت معلوم ہوئی۔

طلبہ نے مزید کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے جوابات سے ہمیں ملکی اور صوبائی حالات کے ساتھ ساتھ افواجِ پاکستان کے کردار کے بارے میں بھی واضح سمجھ حاصل ہوئی۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی محمد کاشف جان نے ترجمان پاک فوج کے اس بیان پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کی واضح اور پُر اعتماد پوزیشن ملکی دفاع کے جذبے کو بڑھاتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے سخت اور فیصلہ کن اندازِ بیان سے نہ صرف حریفوں کو پیغام جاتا ہے بلکہ اندرونِ ملک بھی ایک قوتِ روکاؤ اور دفاعی عزم کی تصویر بنتی ہے — ہ عمومی طور پر ایک مضبوط دفعِ حفاظت (deterrence) پیدا کرتا ہے جو کسی بھی ممکنہ جارحانہ مہم کو روکنے میں مدد دے سکتا ہے۔

طلبہ و اساتذہ کے ساتھ براہِ راست ملاقاتیں عوام اور فوج کے درمیان پل مضبوط کرتی ہیں۔ ایسے اجلاس نوجوانوں میں شکوک و شبہات کم کرتے اور افواہوں کے خلاف مؤثر تدارک فراہم کرتے ہیں — جب طلبہ براہِ راست کمانڈنگ آفیسر سے سوالات پوچھ سکیں تو شفافیت بڑھتی ہے اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کی رفتار گھٹتی ہے۔ اسی طرزِ عمل کے کئی دورانِ دورے میڈیا میں رپورٹ ہوئے ہیں جہاں ڈی جی آئی ایس پی آر نے جامعات میں حصہ لیا۔

دہشت گردی اور خوارج کے خلاف جو مؤثر کارروائیاں ڈی جی نے واضح کیں وہ اندرونی سلامتی کے بہتر ہونے کی علامت ہیں۔ بروقت آپریشنز، انٹیلی جنس شراکتداری اور مقامی حمایت ملی ہو تو اس سے شورش زدہ گروہوں کی کارکردگی کم ہوتی ہے اور طویل المیعاد امن کو فروغ ملتا ہے۔ یہ بیانیہ عوام کو یقین دلاتا ہے کہ ریاست اپنے خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے متحرک ہے۔

یونیورسٹی لیول پر مثبت پیغام رسانی نوجوانوں کو مثبت قومی کردار ادا کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے — خاص طور پر جب اس میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط اطلاعات کا تدارک اور مصدقہ معلومات فراہم کرنا شامل ہو۔ اس سے مستقبل میں شہری شعور میں بہتری اور افواہوں کے خلاف مدافعت قائم ہوگی۔
ماہرین کی رائے
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل کی ناکامی یا تاخیر صورتحال کو کشیدہ رکھ سکتی ہے، مگر جب ریاستی ادارے طاقتور مؤقف اختیار کریں تو یہ حریف کو واپس ہونے پر مجبور کر سکتا ہے۔ عوامی حمایت اور فوجی عزم دونوں مل کر ملک کو مضبوط پوزیشن دیتے ہیں۔

سیکیورٹی اور پالیسی اینالسٹز:
کئی سیکیورٹی مبصرین کا ماننا ہے کہ فوجی جوابی اقدمات وقتی طور پر ضروری ہو سکتے ہیں مگر دیرپا حل کے لیے مذاکرات، بین الاافغانی دباؤ اور علاقائی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت لازم ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فوجی مؤقف کو سیاسی، اقتصادی اور انسانی نقطۂ نظر کے ساتھ مربوط رکھا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے عسکری تناؤ کے طویل مدتی مضر اثرات کم ہوں۔

ماہرِ میڈیا اور کمیونیکیشن:
میڈیا ماہرین کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر افواہوں کا خاتمہ صرف فوجی بیانات سے ممکن نہیں اس کے لیے جامعات، سول سوسائٹی اور معتبر پریس کا فعال کردار ضروری ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی تعلیمی دوروں جیسی مداخلتیں اس عمل کی ایک مثبت مثال ہیں، کیونکہ وہ براہِ راست نوجوانوں کو درست معلومات اور قومی جذبہ فراہم کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین