عمرہ پالیسی میں بڑی تبدیلی، سعودی عرب نے نئی شرط نافذ کر دی

عمرہ ویزا جاری ہونے کے فوراً بعد زائرین کو صرف 30 دن کی مہلت ملے گی

سعودی عرب کی مقدس سرزمین پر عمرہ زائرین کی بڑھتی ہوئی لہر کو منظم کرنے کے لیے وزارت حج و عمرہ نے ویزا پالیسی میں ایک اہم اور بروقت تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے، جو لاکھوں مسلمانوں کی روحانی سفر کی راہ میں ایک نئی شرط لے آئی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت، عمرہ ویزا حاصل کرنے والوں کو اب صرف 30 دن کے اندر سعودی عرب کا رخ کرنا ہوگا، ورنہ ویزا خود بخود منسوخ ہو جائے گا۔ پہلے یہ مدت تین ماہ تھی، مگر اب اسے کم کر کے ایک ماہ کر دیا گیا ہے تاکہ ویزا سسٹم کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جا سکے۔ سعودی قومی کمیٹی برائے عمرہ کے مشیر احمد با جیفر نے بتایا کہ یہ ضابطے آئندہ ہفتے سے نافذ العمل ہو جائیں گے، جو زائرین کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر ایک ضروری قدم ہے۔

یہ تبدیلی سعودی عرب کی عمرہ پالیسی کی ترقی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں رواں سال جون سے اب تک 40 لاکھ سے زائد بین الاقوامی زائرین کو ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک ریکارڈ اضافہ ہے۔ عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق، یہ اقدام زائرین کی سہولت اور مقدس سرزمین کی انتظامی صلاحیت کو بڑھانے کی کوشش ہے، جہاں سعودی عرب میں داخل ہونے کے بعد قیام کی مدت بدستور تین ماہ رہے گی، مگر ویزا کی دستیابی کو محدود کر کے غیر ضروری تاخیروں کو روکا جائے گا۔ یہ پالیسی لاکھوں مسلمانوں کی روحانی آرزوؤں کو جلد پورا کرنے کی طرف ایک قدم ہے، جو حج و عمرہ کی روایتی اہمیت کو جدید انتظامی تقاضوں سے ملاتی ہے۔

نئی پالیسی کی تفصیلات

سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق، عمرہ ویزا جاری ہونے کے فوراً بعد زائرین کو صرف 30 دن کی مہلت ملے گی کہ وہ سعودی عرب کا سفر کریں، ورنہ ویزا خود بخود منسوخ ہو جائے گا۔ یہ قدم زائرین کی بڑھتی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے، جو ویزا سسٹم پر دباؤ کو کم کرے گا اور حج و عمرہ کی تیاریوں کو سہل بنائے گا۔ احمد با جیفر کا کہنا ہے کہ "یہ ضابطے آئندہ ہفتے سے نافذ ہو جائیں گے”، جو زائرین کو جلد سفر کی ترغیب دیں گے۔

تاہم، سعودی عرب پہنچنے کے بعد زائرین کو تین ماہ تک قیام کی اجازت ملے گی، جو روحانی فریضے کی ادائیگی اور مقدس مقامات کی زیارت کے لیے کافی وقت فراہم کرتی ہے۔ یہ تبدیلی عمرہ کی مقبولیت کی عکاسی کرتی ہے، جہاں جون 2025 سے اب تک 40 لاکھ سے زائد ویزے جاری ہو چکے ہیں، جو سعودی عرب کی امدادی صلاحیتوں کو چیلنج کر رہے ہیں۔ عرب نیوز کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اقدام ویزا کی بے ہودگی کو روکے گا اور زائرین کو جلد مقدس سرزمین پہنچنے کی سہولت دے گا، جو حج و عمرہ کی روایتی روح کو جدید انتظامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرتا ہے۔

زائرین کی بڑھتی تعداد

سعودی عرب کی عمرہ پالیسی کی مقبولیت نے اس سال ایک نئی بلندی چھوئی ہے، جہاں جون 2025 سے اب تک 40 لاکھ سے زائد بین الاقوامی زائرین کو ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ریکارڈ اضافہ ہے۔ یہ تعداد سعودی عرب کی امدادی صلاحیتوں کو پرکھ رہی ہے، جہاں زائرین کی بھاری تعداد ویزا سسٹم پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ نئی پالیسی کا مقصد اس دباؤ کو کم کرنا اور ویزا کی دستیابی کو بہتر بنانا ہے، جو زائرین کو جلد سفر کی ترغیب دے گی۔ احمد با جیفر کی وضاحت سے واضح ہے کہ یہ تبدیلی منظم نظام کی طرف ایک قدم ہے، جو عمرہ کی روحانی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے انتظامی کارکردگی کو بڑھائے گی۔

یہ اعداد و شمار سعودی عرب کی حج و عمرہ کی ترقی کی عکاسی کرتے ہیں، جو زائرین کی بڑھتی تعداد سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، مگر ویزا کی تاخیر اور بے ہودگی کو روکنے کی ضرورت بھی اجاگر ہو رہی ہے۔ یہ پالیسی لاکھوں مسلمانوں کی آرزوؤں کو جلد پورا کرنے کی طرف ایک مثبت اقدام ہے، جو مقدس سرزمین کی زیارت کو آسان بنائے گی۔

عوامی رائے

اس اعلان نے سوشل میڈیا پر زائرین میں مخلوط جذبات پیدا کر دیے ہیں، جہاں کچھ لوگ انتظامی بہتری کی تعریف کر رہے ہیں مگر دوسرے ویزا کی تاخیر پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ فیس بک پر #UmrahVisaUpdate ٹرینڈ کر رہا

متعلقہ خبریں

مقبول ترین