نزلہ زکام جیسے انفیکشن بھی دل کے لیے خطرے کی گھنٹی:ماہرین کا انتباہ

یہ انفیکشنز جسم کے مدافعتی نظام کو سرگرم کر کے سوزش پیدا کرتے ہیں

حالیہ طبی تحقیق نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ عام سے وائرل انفیکشنز، جیسے فلو، کورونا یا حتیٰ کہ زکام، دل کی صحت پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھا سکتے ہیں۔ یہ انفیکشنز جسم کے مدافعتی نظام کو سرگرم کر کے سوزش پیدا کرتے ہیں، خون کو گاڑھا بنا کر لوتھڑے بنواتے ہیں، آکسیجن کی کمی کا باعث بنتے ہیں، اور بعض صورتوں میں دل کے پٹھوں پر براہ راست حملہ کر کے myocarditis جیسی حالت پیدا کرتے ہیں۔ یہ تحقیق دل کی بیماریوں کی روک تھام میں ایک نئی جہت کھولتی ہے، جو عمومی انفیکشنز کو دل کے لیے ایک خاموش خطرہ قرار دیتی ہے، اور لوگوں کو فلو جیسی بیماریوں کو ہلکا نہ لینے کی تلقین کرتی ہے۔

یہ انکشافات دل کی صحت کی حفاظت کی طرف ایک اہم پیغام ہیں، جہاں وائرل انفیکشنز نہ صرف سانس کی بیماریاں پیدا کرتے ہیں بلکہ دل کی نالیوں کو نقصان پہنچا کر atherosclerosis کو تیز کرتے ہیں، جو ہارٹ اٹیک کی بنیاد بن سکتی ہے۔

جسم میں سوزش

وائرل انفیکشنز جیسے فلو، کورونا یا عام زکام جسم کے مدافعتی نظام کو چیلنج کرتے ہیں، جو سرگرم ہو کر سوزش کی لہر دوڑا دیتا ہے۔ یہ سوزش خون کی نالیوں کی دیواروں کو کمزور کرتی ہے اور atherosclerosis کا عمل تیز کر دیتی ہے، جہاں نالیوں میں چکنائی جمع ہو کر دل کی سپلائی کو متاثر کرتی ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سوزش ہارٹ اٹیک کی طرف لے جانے والا ایک اہم راستہ ہے، جو انفیکشن کے دوران دل پر دباؤ بڑھاتی ہے۔

یہ عمل جسم کی قدرتی دفاع کی ایک پیچیدگی ہے، جو انفیکشن سے لڑتے ہوئے دل کی صحت کو خطرے میں ڈال دیتا ہے، اور پہلے سے دل کی بیماری والوں کے لیے یہ خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

خون جمنے کا خطرہ

بعض وائرل انفیکشنز خون کی ساخت کو تبدیل کر کے اسے زیادہ گاڑھا بنا دیتے ہیں، جو لوتھڑوں کی تشکیل کو آسان بناتا ہے۔ اگر یہ لوتھڑے دل کی نالیوں میں پہنچ جائیں تو خون کی روانی رک جاتی ہے اور ہارٹ اٹیک کا باعث بنتے ہیں۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ انفیکشن کے دوران خون کی یہ تبدیلی دل کی صحت کے لیے ایک براہ راست دھمکی ہے، جو انفیکشن کی شدت کے ساتھ بڑھتی ہے۔

یہ میکانزم انفیکشنز کو دل کی بیماریوں کا ایک پوشیدہ سبب بنا دیتا ہے، جو خون کی نالیوں کو بند کر کے دل کی سپلائی کو روکتا ہے۔

آکسیجن کی کمی

وائرل انفیکشنز اکثر سانس کی بیماریاں پیدا کرتے ہیں، جو جسم میں آکسیجن کی سطح کم کر دیتے ہیں۔ اس کمی کی وجہ سے دل کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے تاکہ آکسیجن کی سپلائی برقرار رکھی جا سکے، اور اگر پہلے سے دل کی کوئی بیماری ہو تو یہ حالت ہارٹ اٹیک کی طرف لے جاتی ہے۔ تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ آکسیجن کی یہ کمی دل کے پٹھوں پر دباؤ بڑھاتی ہے، جو انفیکشن کے دوران دل کی صحت کو شدید خطرے میں ڈالتی ہے۔

یہ اثر خاص طور پر بوڑھوں اور دل کے مریضوں میں شدید ہوتا ہے، جو انفیکشن کی وجہ سے دل کی ناکامی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

دل کے پٹھوں پر براہ راست اثر

کچھ وائرس دل کے پٹھوں پر براہ راست حملہ آور ہوتے ہیں، جو myocarditis کی حالت پیدا کرتے ہیں اور دل کے افعال کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔ یہ حالت ہارٹ اٹیک جیسی علامات جنم دیتی ہے، جہاں دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جاتی ہے اور دل کی طاقت کم ہوتی ہے۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ یہ براہ راست اثر انفیکشنز کو دل کی بیماریوں کا ایک سنگین سبب بنا دیتا ہے، جو myocarditis کی صورت میں دل کی مستقل کمزوری کا باعث بن سکتا ہے۔

یہ میکانزم وائرل انفیکشنز کی دل پر گہری رسائی کو ظاہر کرتا ہے، جو دل کے پٹھوں کی سوزش اور کمزوری کا سبب بنتا ہے۔

اس تحقیق نے سوشل میڈیا پر صحت کے شعور کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں لوگ فلو جیسی بیماریوں کو ہلکا نہ لینے کی تلقین کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #ViralInfectionHeartRisk ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا "فلو سے ہارٹ اٹیک؟ ویکسین لگوائیں، سوزش روکیں!” دوسرے نے کہا "دل کے مریض احتیاط کریں، آکسیجن کی کمی خطرناک!”

عوام نے روک تھام کی تجاویز دیں "زکام کو نظر انداز نہ کریں، دل کی حفاظت کریں!” مجموعی طور پر، عوامی جذبات تشویش اور احتیاط کی آمیزش ہیں، جو انفیکشنز سے دل کی حفاظت کی توقع رکھتے ہیں۔

عمومی وائرل انفیکشنز جیسے فلو کا ہارٹ اٹیک سے تعلق ایک اہم طبی انکشاف ہے، جو سوزش، خون کے لوتھڑے، آکسیجن کی کمی، اور myocarditis جیسے میکانزموں سے دل کی صحت کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ یہ تحقیق دل کی بیماریوں کی روک تھام میں انفیکشنز کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جو atherosclerosis کو تیز کر کے نالیوں کو بند کرتی ہے اور دل کے پٹھوں پر براہ راست حملہ کرتی ہے۔ عوامی سطح پر، تشویش غالب ہے جو ویکسینیشن اور احتیاط کی ترغیب دیتی ہے، جو دل کے مریضوں کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔ مجموعی طور پر، یہ تحقیق طرز زندگی کی تبدیلی اور انفیکشنز کی فوری روک تھام کی طرف اشارہ کرتی ہے، جو ہارٹ اٹیک کے خطرات کو کم کر سکتی ہے اور صحت مند دل کی بنیاد رکھتی ہے۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین