پاکستان اور جنوبی افریقہ آج فیصلہ کن ٹی ٹوئنٹی معرکے میں آمنے سامنے

اہم معرکہ آج رات 8 بجے شروع ہوگا، جہاں دونوں ٹیموں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا

لاہور: پاکستانی کرکٹ کے شائقین کی سانسیں آج رات رک سی جائیں گی جب قذافی اسٹیڈیم کا گراؤنڈ ایک بار پھر جوشِ وطن سے جھلملانے لگے گا۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان تین میچز پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آخری اور سب سے اہم معرکہ آج رات 8 بجے شروع ہوگا، جہاں دونوں ٹیموں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ یہ میچ نہ صرف سیریز کا نتیجہ طے کرے گا بلکہ دونوں فریقوں کے لیے آنے والے ون ڈے مقابلوں کی بنیاد بھی رکھے گا، جو 4 نومبر سے فیصل آباد میں کھیلے جائیں گے۔

سیریز کا آغاز راولپنڈی میں ہوا تھا، جہاں جنوبی افریقہ نے پہلے میچ میں پاکستان کو 55 رنز سے شکست دے کر زور دار آغاز کیا۔ جنوبی افریقہ کی بیٹنگ نے پاکستانی باؤلرز کو گیند پکڑنے نہ دی، جبکہ ان کی باؤلنگ لائن نے پاکستان کی اننگز کو 55 رنز سے روک دیا، جو راولپنڈی میں پاکستان کی صرف تیسری ٹی ٹوئنٹی ہار تھی۔ یہ جیت جنوبی افریقہ کے لیے اعتماد کا انجیکشن تھی، خاص طور پر جب ان کی ٹیم نے Corbin Bosch کی شاندار 4 وکٹوں اور George Linde کی 3 وکٹوں سے پاکستان کو دباؤ میں رکھا۔

تاہم، گزشتہ روز لاہور میں کھیلے گئے دوسرے میچ نے سیریز کو دلچسپ موڑ دے دیا، جہاں پاکستان نے 9 وکٹوں سے شاندار کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کی بیٹنگ نے جنوبی افریقہ کے 180 رنز کے ہدف کو آسانی سے عبور کر لیا، جس میں Babar Azam کی واپسی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ Babar، جو 15 T20I میچز کے بعد ٹیم میں واپس آئے، نے نمبر 3 پر کھیلتے ہوئے مستحکم اننگز کھیلی، جبکہ Mohammad Rizwan اور Fakhar Zaman کی تیز رفتاری نے مداحوں کو جوش دلایا۔ یہ فتح پاکستان کے لیے انتقامی کارروائی تھی، جو اب تیسرے میچ میں سیریز جیتنے کے لیے بے تاب ہے۔

قذافی اسٹیڈیم، جو لاہور کی کرکٹ کی دھڑکن ہے، آج رات ایک بار پھر ہزاروں شائقین سے بھرپور ہوگا۔ پاکستان کی ٹیم، Salman Ali Agha کی قیادت میں، Shaheen Shah Afridi اور Naseem Shah جیسے تیز باؤلرز پر بھروسہ کر رہی ہے، جو جنوبی افریقہ کی بیٹنگ لائن کو چیلنج دیں گے۔ دوسری طرف، جنوبی افریقہ Donovan Ferreira کی کپتانی میں Reeza Hendricks اور David Bedingham جیسے بلاسٹرز کے ساتھ واپسی کی خواہش رکھتا ہے۔ تاریخی طور پر، دونوں ٹیموں کے درمیان 24 T20I میچز کھیلے جا چکے ہیں، جن میں دونوں نے 12-12 جیت حاصل کی ہے، جبکہ پاکستان نے پاکستان میں کھیلے گئے 3 T20I میں 2 جیتے ہیں۔

یہ سیریز T20 ورلڈ کپ 2026 کی تیاری کا حصہ ہے، جہاں پاکستان اپنے ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانا چاہے گا۔ ٹیسٹ سیریز جو 1-1 سے برابر رہی، نے دونوں ٹیموں کو ایک دوسرے کی طاقت کا اندازہ دیا ہے، اور اب ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں یہ مقابلہ ایک نئی جہت اختیار کر لے گا۔ میچ کے بعد، دونوں فریق 4 نومبر سے فیصل آباد میں تین ون ڈے میچز کی سیریز کا آغاز کریں گے، جو اس دورے کا اگلا باب ہوگا۔

یہ تیسرے میچ کی جھڑپ پاکستان کے لیے گھر واپسی کی کہانی ہے، جہاں دوسرے میچ کی فتح نے Babar Azam کی واپسی کو مزید تقویت دی ہے اور ٹیم کی بیٹنگ کو استحکام بخشا ہے۔ جنوبی افریقہ، جو پہلے میچ کی جیت کے بعد برتری میں تھا، اب دباؤ کا شکار ہے، خاص طور پر ان کی دو کلیدی انجریزوں کی وجہ سے۔ قذافی اسٹیڈیم کی وکٹیں بیٹنگ دوست ہو سکتی ہیں، جو پاکستان کی تیز بیٹنگ کو فائدہ دیں گی، لیکن جنوبی افریقہ کی اسپن باؤلنگ، جیسے George Linde کی فارم، ایک خطرہ رہے گی۔ مجموعی طور پر، یہ سیریز دونوں ٹیموں کو T20 ورلڈ کپ کے لیے اہم سبق دے گی، جہاں پاکستان کی ہوم ایڈوانٹیج اور جنوبی افریقہ کی لچک مقابلے کی راہ ہموار کریں گی۔ اگر پاکستان جیتا تو یہ ان کی خود اعتمادی کو آسمان چھو لگائے گی، ورنہ جنوبی افریقہ سیریز کو بچا لے گا۔

سوشل میڈیا پر پاکستانی فینز کا جوش و خروش عروج پر ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا کہ "Babar کی واپسی نے ٹیم کو نئی جان دی، آج رات جنوبی افریقہ کو دکھائیں گے”، جبکہ دوسرے نے کہا کہ "9 وکٹوں کی جیت کے بعد اب سیریز ہماری جیب میں”۔ جنوبی افریقہ کے شائقین بھی پرامید ہیں، کہتے ہوئے کہ "پہلی جیت کی طرح آج بھی کمال کریں گے”۔ کئی لوگ لائیو سٹریمنگ کی دستیابی پر شکایت کر رہے ہیں، خاص طور پر انڈیا میں، اور کہہ رہے ہیں کہ "یہ سیریز ورلڈ کپ کی تیاری ہے، سب کو دیکھنے کا موقع ملنا چاہیے”۔ مجموعی طور پر، لاہور کے مداحوں میں جوش غالب ہے، جو قذافی اسٹیڈیم کو ایک قلعہ بنانے کو تیار ہیں۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں!

متعلقہ خبریں

مقبول ترین