آسٹریا کی سرسبز وادیوں اور پہاڑی جنگلات میں ایک ایسا انقلاب برپا ہو رہا ہے جو بجلی کے روایتی کھمبوں کو فن اور فطرت کی حسین علامت میں تبدیل کر رہا ہے۔ ‘دی آسٹرین پاور جائنٹس’ منصوبہ، جہاں دیو قامت پرندوں اور جانوروں کی شکل والے کھمبے بجلی کی ترسیل کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ آسٹریا پاور گرڈ (APG) اور میسل آرکیٹیکٹس کی مشترکہ کاوش سے تیار یہ ڈیزائن نہ صرف ماحول دوست انفرااسٹرکچر کی علامت ہے بلکہ خطے کی قدرتی خوبصورتی کو اجاغر کر کے سیاحت کو فروغ دے رہا ہے۔ ابتدائی طور پر دو مجسماتی کھمبے تیار کیے گئے ہیں – ایک پرندہ ‘اسٹارک’ جو برجن لینڈ کے مہاجر پرندوں کی علامت ہے، اور دوسرا بارہ سنگھا ہرن ‘سٹیگ’ جو زیریں آسٹریا کے جنگلات کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ کھمبے آزمائشی مراحل سے گزر رہے ہیں تاکہ ساختی مضبوطی اور برقی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، اور انہیں ریڈ ڈاٹ ڈیزائن ایوارڈ 2025 بھی مل چکا ہے، جو الیکٹریفیکیشن اور ڈیکاربونائزیشن کیٹیگری میں دیا گیا۔
یہ منصوبہ آسٹریا کی نو ریاستوں کے لیے الگ الگ جانوروں کے ڈیزائن تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو ہر علاقے کی ثقافت اور قدرتی شناخت کی عکاسی کریں گے، اور سنگاپور کے ریڈ ڈاٹ میوزیم میں اکتوبر 2026 تک نمائش کے لیے رکھے جائیں گے۔
‘دی آسٹرین پاور جائنٹس’ کا آغاز
آسٹریا پاور گرڈ اور میسل آرکیٹیکٹس کی مشترکہ کاوش سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ بجلی کے کھمبوں کو فن اور فطرت سے جوڑتا ہے، جہاں ‘اسٹارک’ برجن لینڈ کے مہاجر پرندوں کی علامت ہے، جو ہر سال آنے والے پرندوں کی خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے۔ ‘سٹیگ’ زیریں آسٹریا کے سرسبز پہاڑی جنگلات کی نمائندگی کرتا ہے، جو بارہ سنگھا ہرن کی دیو قامت شکل میں بجلی کی لائنیں اٹھائے کھڑا ہے۔ یہ دونوں مجسماتی کھمبے آزمائشی مراحل سے گزر رہے ہیں، جو ساختی مضبوطی اور برقی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں، اور ان کا ڈیزائن فطرت سے متاثر ہے جو ماحول دوست انفرااسٹرکچر کی علامت بن رہا ہے۔
یہ کھمبے نہ صرف بجلی کی فراہمی کا ذریعہ ہوں گے بلکہ سیاحتی مقام بھی، جو آسٹریا کی نو ریاستوں برجن لینڈ، کیرنتھیا، زیریں اور بالائی آسٹریا، سالزبرگ، اسٹائریا، ٹائرول، فورآرلبرگ اور ویانا کے لیے الگ الگ جانوروں کے ڈیزائن تیار کریں گے، جو ہر علاقے کی ثقافتی اور قدرتی شناخت کی عکاسی کریں گے۔
ریڈ ڈاٹ ایوارڈ اور سنگاپور نمائش
یہ منفرد ڈیزائن ریڈ ڈاٹ ڈیزائن ایوارڈ 2025 حاصل کر چکا ہے، جو الیکٹریفیکیشن اور ڈیکاربونائزیشن کیٹیگری میں دیا گیا، اور اکتوبر 2026 تک سنگاپور کے ریڈ ڈاٹ میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔ آسٹریا پاور گرڈ کا کہنا ہے کہ یہ فطرت سے متاثر ڈیزائن ماحول دوست انفرااسٹرکچر کی علامت بنے گا، جو خطے کی معیشت اور سیاحت کو مضبوط کرے گا اور بجلی کے نیٹ ورک کے پھیلاؤ کے منصوبوں کے لیے عوامی حمایت میں اضافہ کرے گا۔ یہ منصوبہ بجلی کی لائنیں قدرتی مناظر کے ساتھ ہم آہنگ بنانے کا وعدہ کرتا ہے، جو آسٹریا کی ماحولیاتی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ ایوارڈ اور نمائش آسٹریا کی تخلیقی صلاحیتوں کی عالمی توثیق ہے، جو فن اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کو اجاگر کرتی ہے۔
عوامی رائے
اس منصوبے نے سوشل میڈیا پر حیرت اور تعریف کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں لوگ اسے "فطرت اور ٹیکنالوجی کا شاہکار” قرار دے رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #AustrianPowerGiants ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "پرندہ اور ہرن جیسے کھمبے، آسٹریا نے جادو کر دیا۔ سیاحت اور ماحول دونوں فائدہ!” دوسرے نے کہا "ریڈ ڈاٹ ایوارڈ، سنگاپور نمائش آسٹریا کی تخلیقیت کی جیت!”
عوام نے ماحول دوستی کی تعریف کی "بجلی کھمبے جانوروں میں، فطرت کی حفاظت!” مجموعی طور پر، عوامی جذبات پرجوش ہیں، جو اسے سیاحتی اور ماحولیاتی انقلاب سمجھتے ہیں۔
آسٹریا کا ‘دی آسٹرین پاور جائنٹس’ منصوبہ انفرااسٹرکچر کو فن اور فطرت سے جوڑنے کی ایک شاندار مثال ہے، جو ‘اسٹارک’ اور ‘سٹیگ’ جیسے دیوہیکل جانوروں کی شکل والے کھمبوں سے بجلی کی ترسیل کو ماحول دوست بناتا ہے۔ ریڈ ڈاٹ ایوارڈ اور سنگاپور نمائش اس کی عالمی توثیق ہے، جو آسٹریا کی نو ریاستوں کی ثقافتی شناخت کو اجاگر کرے گی۔ عوامی سطح پر، تعریف غالب ہے جو سیاحت اور ماحولیات کی ترقی کی امید رکھتی ہے، مگر آزمائشی مراحل کی کامیابی اس کی عملی افادیت کا امتحان ہوگی۔ مجموعی طور پر، یہ منصوبہ ٹیکنالوجی اور فطرت کے امتزاج کی طرف ایک دلچسپ قدم ہے، جو آسٹریا کو ماحول دوست انفرااسٹرکچر کا ماڈل بنا سکتا ہے اور عالمی سطح پر نقل کی جائے گی۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔





















