امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایک اہم انتخابی پالیسی کو ایک بڑا دھچکا لگ گیا ہے، جہاں وفاقی جج نے مارچ 2025 میں جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈر کا کلیدی حصہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ حکم نامہ ووٹر رجسٹریشن فارم میں شہریت کا دستاویزی ثبوت لازمی قرار دیتا تھا، مگر جج کولین کولر-کولی نے واضح کیا کہ صدر کو ووٹنگ کے لیے وفاقی سطح پر ایسی شرط عائد کرنے کا اختیار نہیں ہے، کیونکہ یہ آئین کی علیحدگی کی طاقت کی خلاف ورزی ہے۔ یہ فیصلہ ڈیموکریٹک گروپس اور سول رائٹس تنظیموں کی طرف سے چیلنج کیے گئے مقدمات کا نتیجہ ہے، جو ٹرمپ کے حکم کو ایک غیر آئینی اقدام قرار دیتا ہے۔ امریکی الیکشن اسٹینڈرڈز بورڈ (EAC) کو اب یہ شرط شامل کرنے سے روک دیا گیا ہے، جو ووٹر رجسٹریشن کی سادگی کو برقرار رکھے گی۔
یہ حکم نامہ، جو ٹرمپ کی انتخابی اصلاحات کا حصہ تھا، غیر شہریوں کے ووٹنگ کے مبینہ خطرے کو روکنے کا دعویٰ کرتا تھا، مگر عدالت نے اسے کانگریس اور ریاستوں کی ذمہ داری قرار دیا، جو ووٹنگ قوانین کا اختیار رکھتی ہیں۔ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی انتخابی پالیسیوں پر قانونی چیلنجز کی ایک لڑی کا حصہ ہے، جو صدارتی اختیارات کی حدود کو واضح کرتا ہے۔
ایگزیکٹو آرڈر کی تفصیلات
مارچ 2025 میں جاری کردہ ٹرمپ کا ایگزیکٹو آرڈر ووٹر رجسٹریشن فارم میں پاسپورٹ یا دیگر دستاویزی شہریت کا ثبوت لازمی قرار دیتا تھا، جو وفاقی انتخابات میں رجسٹریشن کو تبدیل کر دیتا۔ یہ حکم نامہ ٹرمپ کی انتخابی اصلاحات کا ایک بڑا حصہ تھا، جو غیر شہریوں کے مبینہ ووٹنگ کو روکنے کا دعویٰ کرتا تھا، مگر ڈیموکریٹک اٹارنی جنرلز اور سول رائٹس گروپس نے اسے غیر آئینی قرار دے کر چیلنج کیا۔ جج کولر-کولی کا 81 صفحات پر مشتمل فیصلہ واضح کرتا ہے کہ صدر کو ووٹنگ فارم کی مواد پر اختیار نہیں، جو کانگریس اور ریاستوں کی ذمہ داری ہے۔ EAC کو اب اس شرط کو شامل کرنے سے روک دیا گیا ہے، جو ووٹنگ کی سادگی کو برقرار رکھے گا۔
یہ حکم نامہ ٹرمپ کی انتخابی پالیسیوں کی ایک کوشش تھی، جو غیر شہری ووٹنگ کے جھوٹے دعوؤں پر مبنی تھی، مگر عدالت نے اسے علیحدگی کی طاقت کی خلاف ورزی قرار دیا، جو امریکی ووٹنگ حقوق کی حفاظت کرتی ہے۔
قانونی چیلنجز اور دیگر مقدمات
یہ فیصلہ متعدد مقدمات کا نتیجہ ہے، جہاں 19 ڈیموکریٹک ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے اپریل 2025 میں ٹرمپ کے حکم کو چیلنج کیا، جو ووٹنگ کی سادگی کو ختم کرنے کی کوشش تھا۔ واشنگٹن اور اوریگون جیسی ریاستوں نے اپنے مقدمات دائر کیے، جو میل ان ووٹنگ کو متاثر کرتے تھے، اور جج کولر-کولی کا فیصلہ پہلا حتمی فیصلہ ہے جو شہریت کے ثبوت کو مستقل روک دیتا ہے۔ دیگر مقدمات جاری ہیں، جو ٹرمپ کی انتخابی پالیسیوں پر قانونی دباؤ بڑھا رہے ہیں، جو ووٹنگ حقوق کی حفاظت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
یہ قانونی لڑائی ٹرمپ کی پالیسیوں کی خلاف ورزیوں کو چیلنج کرتی ہے، جو ووٹنگ کی رسائی کو محدود کرنے کی کوشش تھی، مگر عدالتوں نے اسے روک دیا ہے۔
عوامی رائے
اس فیصلے نے سوشل میڈیا پر ووٹنگ حقوق کی حمایت میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں ڈیموکریٹک ووٹرز اور سول رائٹس ایکٹیوسٹس ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #TrumpVotingOrderBlocked ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "شہریت کا ثبوت ختم، ووٹنگ حقوق محفوظ، ٹرمپ کی پالیسی ناکام!” دوسرے نے کہا: "عدالت کی فتح، غیر شہری ووٹنگ کا جھوٹا دعویٰ بے نقاب!”
عوام نے ووٹنگ کی سادگی کی تعریف کی "ووٹر رجسٹریشن آسان، جمہوریت زندہ باد!” مجموعی طور پر، عوامی جذبات خوشی اور تنقید کی آمیزش ہیں، جو ووٹنگ حقوق کی حفاظت کی حمایت کرتے ہیں
ٹرمپ کا مارچ 2025 کا ایگزیکٹو آرڈر، جو ووٹر رجسٹریشن میں شہریت کا دستاویزی ثبوت لازمی قرار دیتا تھا، وفاقی جج کولر-کولی کے فیصلے سے کالعدم ہو گیا، جو صدارتی اختیار کی حدود کو واضح کرتا ہے اور ووٹنگ کی سادگی کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ حکم نامہ غیر شہری ووٹنگ کے جھوٹے دعوؤں پر مبنی تھا، مگر عدالت نے اسے کانگریس اور ریاستوں کی ذمہ داری قرار دیا، جو ووٹنگ قوانین کا اختیار رکھتی ہیں، اور EAC کو اسے شامل کرنے سے روک دیا۔ قانونی چیلنجز، جیسے 19 ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کا مقدمہ، ٹرمپ کی پالیسیوں پر دباؤ بڑھا رہے ہیں، جو ووٹنگ حقوق کی حفاظت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ عوامی سطح پر، خوشی غالب ہے جو ٹرمپ کی تنقید کرتی ہے، مگر یہ فیصلہ انتخابی اصلاحات کی بحث کو زندہ کرتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ ووٹنگ کی رسائی کو محفوظ کرتا ہے، جو جمہوریت کی بنیاد ہے، مگر ٹرمپ کی دیگر پالیسیوں پر قانونی لڑائی جاری رہے گی۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔





















