ایٹمی دھماکوں کی خبریں بے بنیاد، امریکی وزیر نے ٹرمپ کے مؤقف کی تردید کر دی

یہ تجربات ایٹمی دھماکے نہیں بلکہ نان-کریٹیکل ٹیسٹس ہیں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایٹمی ہتھیاروں کے "فوری دھماکوں” کے دعوے نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی تھی، مگر اب وزیر توانائی کرس رائٹ نے اسے ایک نئی جہت دے دی ہے، کہ یہ تجربات "نان-کریٹیکل دھماکے” ہیں، کوئی حقیقی ایٹمی دھماکہ نہیں۔ فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں رائٹ نے واضح کیا کہ یہ سسٹم ٹیسٹس ہیں، جو ایٹمی ہتھیاروں کے تمام حصوں کی جانچ کرتے ہیں تاکہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ صحیح کام کر رہے ہیں اور دھماکہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی سائنس اور کمپیوٹنگ کی طاقت سے اب انتہائی درستی کے ساتھ دھماکوں کے نتائج کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اور نئے متبادل ہتھیاروں کی جانچ پرانے سے بہتر بنانے کے لیے کی جا رہی ہے۔

یہ وضاحت ٹرمپ کے جنوبی کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل دیے گئے بیان کے بعد آئی ہے، جہاں انہوں نے 33 سال بعد ایٹمی دھماکوں کا حکم دینے کا دعویٰ کیا تھا، مگر سوال پر واضح جواب نہ دے سکے کہ کیا یہ زیر زمین دھماکے ہوں گے۔ رائٹ کی باتوں نے ٹرمپ کے بیان کو ایک نئی روشنی میں پیش کیا ہے، جو ایٹمی پروگرام کی جدیدیت کی طرف اشارہ کرتی ہے، مگر عالمی تناؤ کو کم بھی کرتی ہے۔

وزیر توانائی کی وضاحت

کرس رائٹ نے انٹرویو میں بتایا کہ یہ تجربات ایٹمی دھماکے نہیں بلکہ نان-کریٹیکل ٹیسٹس ہیں، جو ہتھیاروں کے تمام حصوں کی کارکردگی کی جانچ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی سائنس کی طاقت سے اب دھماکوں کے نتائج کا درست اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اور نئے ڈیزائن کی تبدیلیوں کے اثرات کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔ یہ ٹیسٹس نئے متبادل ہتھیاروں کو پرانے سے بہتر بنانے کے لیے ہیں، جو ایٹمی پروگرام کی جدیدیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ رائٹ نے زور دیا کہ یہ عمل ایٹمی صلاحیتوں کو فعال رکھنے کی ضمانت دیتا ہے، مگر حقیقی دھماکوں کی ضرورت نہیں۔

یہ وضاحت ٹرمپ کے بیان کی شدت کو کم کرتی ہے، جو 1960، 1970 اور 1980 کی دہائیوں کے زیر زمین دھماکوں کی یاد دلاتا تھا، مگر اب کمپیوٹنگ کی طاقت سے جانچ ممکن ہے۔

ٹرمپ کا بیان اور عالمی تناظر

ٹرمپ نے جنوبی کوریا میں شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے فوج کو 33 سال بعد ایٹمی دھماکوں کا حکم دیا ہے، جو عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنا۔ سوال پر واضح جواب نہ دینے سے قیاس آرائیاں بڑھیں، مگر رائٹ کی وضاحت نے اسے نان-کریٹیکل ٹیسٹس تک محدود کر دیا، جو ایٹمی پروگرام کی بحالی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ بیان ٹرمپ کی سفارتی حکمت عملی کا حصہ لگتا ہے، جو چین اور دیگر حریفوں کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش ہے۔

یہ تناظر 1960-1980 کی دہائیوں کے ایٹمی دھماکوں کی یاد دلاتا ہے، جو سرد جنگ کا حصہ تھے، مگر اب جدید ٹیکنالوجی نے ان کی ضرورت کم کر دی ہے۔

عوامی رائے

اس خبر نے سوشل میڈیا پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں لوگ ٹرمپ کے بیان پر تنقید کر رہے ہیں مگر رائٹ کی وضاحت کی تعریف بھی کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #TrumpNuclearTests ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا "ٹرمپ کا دھمکی والا بیان خوفناک، مگر نان-کریٹیکل ٹیسٹس – تشویش کم ہوئی!” دوسرے نے کہا "سائنس کی طاقت سے دھماکے بغیر جانچ، ٹرمپ کی پالیسی پر سوالات!”

عوام نے امن کی اپیل کی "ایٹمی دھمکیاں بند کرو، دنیا کو امن دو!” مجموعی طور پر، عوامی جذبات تشویش اور احتیاط کی آمیزش ہیں، جو سائنسی پیشرفت کی تعریف کرتے ہیں۔

ٹرمپ کا ایٹمی دھماکوں کا دعویٰ اور رائٹ کی نان-کریٹیکل ٹیسٹس کی وضاحت ایٹمی پروگرام کی جدیدیت کی عکاسی کرتی ہے، جو کمپیوٹنگ کی طاقت سے دھماکوں کے بغیر جانچ ممکن بناتی ہے۔ یہ بیان ٹرمپ کی سفارتی دباؤ کی حکمت عملی ہے، جو شی جن پنگ ملاقات سے قبل چین کو پیغام دیتا ہے، مگر رائٹ کی باتوں نے اسے محدود کر دیا، جو عالمی تناؤ کو کم کرتی ہے۔ عوامی سطح پر، تشویش غالب ہے جو ایٹمی دھمکیوں کی مخالفت کرتی ہے، مگر سائنسی پیشرفت کی تعریف بھی کرتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ ایٹمی صلاحیتوں کی بحالی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو امریکہ کی دفاعی پوزیشن کو مضبوط کرتا ہے مگر عالمی امن کو چیلنج کر سکتا ہے، اور سائنس کی طاقت کو ایٹمی خطرات کم کرنے کا ذریعہ بناتا ہے۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین