پاکستان کی بازاروں میں چینی کا بحران ایک نئی شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں سرکاری نرخ پر میٹھاس کی دستیابی ناممکن ہوتی جا رہی ہے اور اوپن مارکیٹ میں فی کلو قیمت 210 روپے تک جا پہنچی ہے۔ لاہور میں 190 سے 210 روپے، پشاور میں 210 روپے، کوئٹہ میں پرچون 185 اور ہول سیل 180 روپے، جبکہ راولپنڈی میں سرکاری نرخ 179 روپے کے باوجود دکانیں 181 سے 185 روپے تک چینی فروخت کر رہی ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف عوام کی جیب پر بوجھ بڑھا رہی ہے بلکہ تاجروں کو بھی جرمانوں کی زد میں لا رہی ہے، جو پیرا فورس کی کارروائیوں سے تنگ آ کر چینی کی فروخت بند کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ صدر کریانہ ایسوسی ایشن راولپنڈی سلیم پرویز بٹ نے واضح کیا کہ پرچون میں 185 روپے بھی بمشکل فروخت ہوتی ہے، مگر جرمانے کی وجہ سے دکانیں بند کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، کیونکہ ضرورت کے مطابق سپلائی نہیں کی جا رہی۔
یہ بحران چینی کی پیداوار، ذخیرہ اندوزی اور تقسیم کے نظام کی خامیوں کو بے نقاب کر رہا ہے، جو عوام کی روزمرہ زندگی کو تلخ بنا رہا ہے اور تاجروں کو کاروبار بند کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔
شہروں میں قیمتیں
لاہور کی بازاروں میں چینی 190 سے 210 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جو عوام کی رسائی سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ پشاور میں بھی یہی قیمت 210 روپے ہے، جہاں دکانداروں کا کہنا ہے کہ سرکاری نرخ پر مال ہی نہیں مل رہا۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پرچون 185 روپے اور ہول سیل 180 روپے فی کلو ہے، جو نسبتاً کم ہے مگر عوام کی شکایات برقرار ہیں۔ راولپنڈی میں سرکاری نرخ 179 روپے کے باوجود دکانیں 181 سے 185 روپے تک فروخت کر رہی ہیں، جو پیرا فورس کی جرمانہ کارروائیوں کی وجہ سے تناؤ کا شکار ہیں۔
یہ قیمتیں نہ صرف مہنگائی کی لہر کو بڑھا رہی ہیں بلکہ عوام کی روزمرہ کی ضروریات کو متاثر کر رہی ہیں، جو چینی کی عدم دستیابی کی تلخی کو واضح کرتی ہیں۔
صدر کریانہ ایسوسی ایشن راولپنڈی سلیم پرویز بٹ نے خبردار کیا کہ پرچون میں 185 روپے بھی بمشکل فروخت ہوتی ہے، مگر پیرا فورس سرکاری قیمت سے زیادہ ریٹ پر جرمانے کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی کی عدم دستیابی اور بھاری جرمانوں کی وجہ سے دکانیں بند کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں، کیونکہ ضرورت کے مطابق سپلائی نہیں کی جا رہی۔ یہ دھمکی تاجروں کی مجبوری کو ظاہر کرتی ہے، جو سرکاری نرخ اور مارکیٹ کی حقیقت کے درمیان پھنس گئے ہیں۔
تاجروں کا یہ موقف سپلائی چین کی خامیوں کو اجاگر کرتا ہے، جو ذخیرہ اندوزی اور تقسیم کے مسائل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
عوامی رائے
اس بحران نے سوشل میڈیا پر عوام میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں لوگ چینی کی قیمتوں پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #SugarCrisisPK ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا: "210 روپے کلو چینی، عوام کی جیب خالی – حکومت سپلائی بڑھاؤ!” دوسرے نے تاجروں کی حمایت کی: "جرمانے بند کرو، تاجر فروخت بند کریں تو کیا کھائیں گے؟”
عوام نے مہنگائی کی شکایت کی: "سرکاری نرخ کہاں، مارکیٹ 210 روپے!” مجموعی طور پر، عوامی جذبات غم و غصہ سے بھرے ہیں، جو سپلائی اور نرخ کنٹرول کی مانگ کر رہے ہیں۔
چینی کی سرکاری قیمت پر عدم دستیابی اور اوپن مارکیٹ میں 210 روپے تک پہنچنے کا بحران سپلائی چین کی خامیوں، ذخیرہ اندوزی اور تقسیم کے مسائل کی عکاسی کرتا ہے، جو لاہور سے پشاور تک عوام کی جیب پر بوجھ بڑھا رہا ہے۔ راولپنڈی میں 179 روپے کے سرکاری نرخ کے باوجود 185 روپے کی فروخت اور جرمانوں کی کارروائی تاجروں کو بندش کی دھمکی دینے پر مجبور کر رہی ہے، جو معاشی نظم و ضبط کی کمی کو اجاگر کرتی ہے۔ کوئٹہ کی نسبتاً کم قیمتیں بھی مسئلے کی شدت کو کم نہیں کرتیں، جو مہنگائی کی لہر کو بڑھا رہی ہیں۔ عوامی سطح پر، غم و غصہ غالب ہے جو سپلائی بڑھانے اور جرمانوں کی روک تھام کی مانگ کرتا ہے، جو حکومت کو فوری اقدامات کی طرف دھکیلتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ بحران چینی سیکٹر کی شفافیت اور تقسیم کے نظام کی اصلاح کی ضرورت پر زور دیتا ہے، جو عوام کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام ہو رہا ہے، اور معاشی استحکام کی راہ میں ایک بڑا چیلنج ہے۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔





















