کراچی کی خستہ حال سڑکوں پر گاڑی چلانا بہادری ہے، چالان نہیں انعام ملنا چاہیے: نبیل ظفر

لوگ سپر ہیرو ہیں، انہیں چالان کی بجائے سرٹیفکیٹ اور نقد انعام ملنا چاہیے!”اداکار

کراچی کی شاہراہوں پر گاڑی چلانا کوئی کھیل نہیں، یہ تو ایک جنگ ہے جس میں فتح پانے والے کو میڈل ملنا چاہیے، چالان نہیں! یہ طنز بھرا پیغام معروف اداکار نبیل ظفر نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا، جو چند لمحوں میں وائرل ہو گیا۔ نبیل نے لکھا کہ “اگر کوئی ڈرائیور ٹریفک جام کے دلدل، گڑھوں کے جال، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور لاپرواہ ڈرائیورز کی فوج کے درمیان اپنی گاڑی کو بحفاظت گھر پہنچا لے تو اسے جرمانہ نہیں، انعام دیا جائے!”

اداکار نے مزید لکھا کہ کراچی کے شہری روزانہ صبر و حوصلے کا امتحان دیتے ہیں، وہ صبح گھر سے نکلتے ہیں تو پتہ نہیں شام کو واپس آئیں گے یا نہیں، پھر بھی وہ ہمت نہیں ہارتے۔ “یہ لوگ سپر ہیرو ہیں، انہیں چالان کی بجائے سرٹیفکیٹ اور نقد انعام ملنا چاہیے!”

نبیل ظفر کا یہ طنز براہ راست سندھ حکومت کے ای-چالان سسٹم پر ہے، جو شہر کی مختلف شاہراہوں پر کیمروں کے ذریعے جرمانے عائد کر رہا ہے۔ ہزاروں شہریوں کے گھروں میں چالان پہنچ چکے ہیں، مگر سڑکوں کی حالت اب بھی ویسی کی ویسی ہے۔ سیاسی جماعتیں، تاجر برادری اور عوام ایک آواز ہو کر مطالبہ کر رہے ہیں کہ پہلے سڑکیں ٹھیک کرو، پھر چالان کرو!

نبیل ظفر کا طنز

نبیل نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ کراچی کی سڑکوں پر گاڑی چلانا کوئی عام کام نہیں، یہ تو ایک ایڈونچر ہے۔ “گڑھوں میں تیراکی، ٹریفک جام میں یوگا، لاپرواہ ڈرائیورز سے جنگ—یہ سب کر کے جو گھر پہنچ جائے، اسے انعام دو!” انہوں نے مزاحیہ انداز میں لکھا کہ “سندھ حکومت کو چاہیے کہ ہر ماہ ‘سپر ڈرائیور آف دی منتھ’ کا اعلان کرے اور انعام میں نئی گاڑی دے، کیونکہ پرانی تو گڑھوں میں دفن ہو چکی ہوتی ہے!”

اداکار نے یہ بھی لکھا کہ کراچی کے لوگ روزانہ 4-5 گھنٹے ٹریفک میں گزارتے ہیں، پھر بھی کام پر جاتے ہیں، بچوں کو اسکول چھوڑتے ہیں، مریضوں کو ہسپتال لے جاتے ہیں۔ “یہ صبر قابل تعریف ہے، انہیں جرمانہ نہیں، سرٹیفکیٹ ملنا چاہیے!”

ای-چالان سسٹم

سندھ حکومت نے شاہراہوں پر کیمرے لگا کر ای-چالان سسٹم شروع کیا، جس کے تحت تیز رفتاری، لائن تبدیل کرنے، سگنل توڑنے پر خودکار جرمانے عائد ہوتے ہیں۔ اب تک ہزاروں شہریوں کے گھروں میں چالان پہنچ چکے ہیں، مگر سڑکوں کی مرمت کا کوئی ٹھوس پلان نظر نہیں آ رہا۔

سیاسی جماعتیں، تاجر برادری اور عوام کا مطالبہ ہے کہ پہلے سڑکیں ٹھیک کرو، گڑھے بند کرو، ٹریفک سگنل درست کرو، پھر چالان کرو۔ نبیل ظفر کی پوسٹ نے اس مطالبے کو مزاحیہ انداز میں عوامی سطح پر پہنچا دیا ہے۔

عوامی رائے

نبیل کی پوسٹ پر کمنٹس کی بھرمار ہے۔ ٹوئٹر پر #RewardNotChallan ٹرینڈ کر رہا ہے۔ ایک صارف نے لکھا: “نبیل بھائی سچ کہا! میری گاڑی گزشتہ ہفتے گڑھے میں گر کر زخمی ہوئی، چالان آیا 2000 کا!”

دوسرے نے لکھا “سندھ حکومت! پہلے سڑکیں بناو، پھر انعام دو، چالان بعد میں!”

ایک خاتون نے لکھا “روز 3 گھنٹے ٹریفک میں، بچوں کو اسکول چھوڑنا، پھر چالان! نبیل بھائی، آپ ہماری آواز بن گئے!”

نبیل ظفر کا طنز ایک تلخ حقیقت کو مزاح کے پردے میں لپیٹ کر پیش کر رہا ہے: کراچی کی سڑکیں جنگ کا میدان بن چکی ہیں، اور ای-چالان سسٹم نمک چھڑکنے کا کام کر رہا ہے۔ شہری پہلے ہی گڑھوں، ٹریفک جام اور لاپرواہی کی اذیت سہہ رہے ہیں، اوپر سے جرمانے۔ نبیل کی “انعام دو” کی آواز دراصل عوام کا درد ہے، جو سیاسی جماعتوں اور حکومت تک پہنچ چکا ہے۔

سندھ حکومت اگر واقعی عوام کی بہتری چاہتی ہے تو پہلے سڑکوں کی مرمت کا ٹھوس پلان لائے، گڑھے بند کرے، ٹریفک سگنل درست کرے، پھر چالان سسٹم کو مزید موثر بنائے۔ نبیل کی پوسٹ نے ثابت کر دیا کہ مزاح بھی ایک طاقتور ہتھیار ہے، جو عوامی درد کو عالمی سطح پر پہنچا سکتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ سندھ حکومت اس طنز کو سنجیدگی سے لیتی ہے یا پھر چالانوں کی بارش جاری رکھتی ہے۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین