لاہور:بانی و سرپرست اعلیٰ تحریک منہاج القرآن شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے منہاج القرآن انٹرنیشنل کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے انصاف کے لیے 12 سال سے عدالتوں کے فیصلوں کے منتظر ہیں، 6 سو پیشیاں بھگت چکے، ہمارا کام آئین و قانون کے مطابق قانونی چارہ جوئی ہے، فیصلے کرنا عدالت کا اختیار ہے۔ 12 سال کا ہر دن شہدا کے ورثاء کی نگہداشت میں گزرا ، انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑا ایسی دوسری مثال کہیں اور نہیں ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تابناک مستقبل علم اور ٹیکنالوجی سے جڑا ہے، اس کے علاوہ کوئی اور شارٹ کٹ نہیں ہے، منہاج القرآن نے 10 سال میں 25 ہزار مراکز علم قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے ان شا اللہ اس ناممکن کو ممکن کر کے دکھائیں گے، میری ساری توجہ نوجوانوں کے اخلاق و کردار سنوارنے پر ہے، سوشل میڈیا کا مثبت استعمال خیر اور منفی استعمال فتنہ ہے، آج کا نوجوان باشعور اور اچھے برے سے واقف ہے، اعتدال اور رواداری کے جذبات کو فروغ دینا دین اور انسانیت کی ضرورت ہے ۔
اسے بھی پڑھیں: سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان تاحیات ہے، اپنے حصے کی کوشش کر لی:ڈاکٹر طاہرالقادری
شوریٰ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سپریم کونسل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کہا کہ منہاج القرآن کی دعوتی مساعی اور بیانیہ علم اور اعتدال کا فروغ ہے ۔صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اپنی گفتگو میں منہاج القرآن انٹرنیشنل اور منہاج یونیورسٹی کی حالیہ کامیابیوں پر بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل کی اعتدال و توازن پر مبنی فکر کو عالمی سطح پر قبولِ عام حاصل ہو رہا ہے جو تحریک کے فکری و علمی استحکام کا ثبوت ہے۔
اس سے قبل ناظمِ اعلیٰ خرم نواز گنڈاپور، مرکزی نائب ناظمِ اعلیٰ تنظیمات انجینئر رفیق نجم اور ڈائریکٹر سوشل میڈیا عبدالستار منہاجین نے اراکینِ شوریٰ کو تنظیمی کارکردگی اور سوشل میڈیا حکمتِ عملی پر مفصل بریفنگ دی۔اجلاس میں ناظمین اعلیٰ، ممبران مرکزی مجلس شوریٰ شریک تھے۔





















