اسلام آباد :وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت میں بلیو اکانومی ایک نئے انقلاب کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ سمندری وسائل، فشریز اور ایکوا کلچر کے شعبے میں موجود امکانات کو بروئے کار لایا جائے تو ملک کے معاشی استحکام اور ترقی کی رفتار میں کئی گنا اضافہ ممکن ہے۔انہوں نے اسلام آباد سے زوم کے ذریعے ’’میری ٹائم ایکسپو‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میری ٹائم ایکسپو اور کانفرنس کے انعقاد پر پاک بحریہ اور وزارتِ بحری امور مبارکباد کی مستحق ہیں۔ ان کے مطابق یہ تقریب محض ایک نمائش نہیں بلکہ پاکستان کے لیے ایک "گیم چینجر” ثابت ہو سکتی ہے، جو سمندری معیشت کے دروازے کھولنے کا نقطۂ آغاز بنے گی۔

پاکستان کی بندرگاہوں میں جدیدیت کی جانب پیش رفت
وزیر خزانہ نے انکشاف کیا کہ حکومت کراچی، گوادر اور پورٹ قاسم جیسی اہم بندرگاہوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بندرگاہیں نہ صرف پاکستان کے تجارتی مستقبل کی بنیاد ہیں بلکہ خطے میں پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو مزید مستحکم کرنے میں کردار ادا کریں گی۔انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں کی جدید کاری سے برآمدات میں اضافہ، شپنگ کے اخراجات میں کمی اور سمندری تجارت کے ذریعے زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہوگا۔
معاشی استحکام کے لیے حکومتی اقدامات
محمد اورنگزیب نے اپنے خطاب میں بتایا کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی سال میں معاشی استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ ان کے مطابق افراطِ زر میں نمایاں کمی اور پالیسی ریٹ میں کمی ان پالیسیوں کا نتیجہ ہے جو مالیاتی نظم و ضبط اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اختیار کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ تین عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کے حالیہ معاشی اقدامات کو مثبت قرار دیتے ہوئے ملک کے معاشی منظرنامے میں بہتری کی نشاندہی کی ہے۔
بین الوزارتی ہم آہنگی اور عالمی تعاون
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ معیشت کی ترقی کے لیے وزارتوں کے درمیان بہترین ہم آہنگی موجود ہے، جبکہ وزارت خزانہ معیشت کے استحکام اور پالیسیوں کے نفاذ کے لیے دیگر وزارتوں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو تجارتی اور معاشی استحکام کے حصول میں دوست ممالک کا تعاون حاصل ہے، جو نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ تکنیکی معاونت کی صورت میں بھی پاکستان کے ساتھ اشتراک کر رہے ہیں۔
ماہرین کی رائے
اقتصادی ماہرین کے مطابق بلیو اکانومی پاکستان کے لیے ایک نئی معاشی سمت متعین کر سکتی ہے۔ ماہرِ معاشیات ڈاکٹر فہد کریم کے مطابق پاکستان کے پاس تقریباً 1,050 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی اور 2,90,000 مربع کلومیٹر کا ایکسکلوزیو اکنامک زون موجود ہے، مگر اس کی مکمل صلاحیت ابھی تک بروئے کار نہیں لائی گئی۔ اگر حکومت اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دے تو سالانہ اربوں ڈالر کی آمدن ممکن ہے۔
اسی طرح معاشی تجزیہ کار نبیل احمد کے مطابق بندرگاہوں کی جدید کاری سے نہ صرف پاکستان کا شپنگ سیکٹر مضبوط ہوگا بلکہ فشریز، شپ بلڈنگ، سی فوڈ ایکسپورٹ، اور میری ٹائم ٹورزم جیسے شعبوں میں بھی ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق بلیو اکانومی کا فروغ پاکستان کے لیے اسی طرح اہم ہے جیسے ماضی میں سی پیک نے ترقی کی نئی راہیں کھولی تھیں۔
تجزیاتی جائزہ
اگر موجودہ حکومت بلیو اکانومی کے منصوبوں کو درست سمت میں لے جائے تو یہ صرف بحری شعبے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ توانائی، تجارت، ٹرانسپورٹ اور ٹورزم کے شعبوں پر بھی مثبت اثر ڈالے گا۔ گوادر پورٹ کی فعالیت، سمندری خوراک کی برآمد میں اضافہ، اور ساحلی علاقوں میں صنعتی زونز کے قیام سے نہ صرف قومی آمدن بڑھے گی بلکہ دیہی و ساحلی آبادیوں کی معاشی حالت بھی بہتر ہو گی۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اس وقت دنیا میں بلیو اکانومی کا حجم تقریباً 2.5 ٹریلین ڈالر ہے، اور پاکستان اگر اس میں محض 1 فیصد حصہ بھی حاصل کر لے تو ملکی معیشت میں سالانہ 25 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ممکن ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا یہ بیان اس بات کا عکاس ہے کہ حکومت پاکستان اب روایتی معاشی سمت سے نکل کر پائیدار ترقی کے ایسے راستے تلاش کر رہی ہے جو سمندری وسائل کو قومی آمدن کا مستقل ذریعہ بنا سکیں۔ اگر یہ منصوبے تسلسل اور شفافیت کے ساتھ آگے بڑھائے گئے تو پاکستان خطے میں بلیو اکانومی کے میدان میں ایک نمایاں ملک بن سکتا ہے۔





















