زہران ممدانی کی کامیابی پر ٹرمپ کا ردعمل، امریکی سیاست میں نئی بحث

ٹرمپ نے مہم کے آخری دنوں میں کومو کو کھلے عام سپورٹ کیا تھا

نیویارک/واشنگٹن: نیویارک کی گلیوں میں جشن کا سماں ہے، جہاں 34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ زہران ممدانی نے سابق گورنر اینڈریو کومو کو فیصلہ کن مارجن سے شکست دے کر شہر کا پہلا مسلم میئر بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ یہ جیت صرف ایک الیکشن نہیں، بلکہ امریکی سیاست میں نسل، مذہب اور نسل پرستی کے خلاف ایک زوردار پیغام ہے۔ ٹرمپ کی بھرپور مہم، کومو کی سینئرٹی اور اربوں ڈالر کی اینٹی ممدانی مہم کے باوجود، ریکارڈ ٹرن آؤٹ نے ممدانی کو 46 فیصد ووٹوں کے ساتھ فاتح بنا دیا، جبکہ کومو 37 فیصد اور ریپبلکن کرٹس سلائوا 16 فیصد پر رہے۔

الیکشن نائٹ بروکلین کے پیراماؤنٹ تھیٹر میں ممدانی نے ہجوم کو جھوماتے ہوئے براہ راست ٹرمپ کو چیلنج کیا: ’’ڈونلڈ ٹرمپ، چونکہ آپ دیکھ رہے ہیں، میرے پاس آپ کے لیے چار الفاظ ہیں: ٹرن دی والیوم اپ!‘‘ ان کی تقریر کے دوران پس منظر میں بالی ووڈ کا مشہور گانا ’دھوم مچالے‘ بج رہا تھا، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ ممدانی نے اپنے ایجنڈے کو دہرایا مفت پبلک ٹرانسپورٹ، رینٹ کنٹرول، ٹیکس دی رچ، اور ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت۔

ٹرمپ کا فوری ردعمل

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر فوری پوسٹ کیا ’’ری پبلکن کی شکست کی دو وجوہات ہیں پہلی، میں بیلٹ پر موجود نہیں تھا، اور دوسری، ملک میں جاری حکومتی شٹ ڈاؤن‘‘ یہ بیان ٹرمپ کی کلاسک حکمت عملی تھی: ذمہ داری سے بچنا اور اپنی غیر موجودگی کو بہانہ بنانا۔ چند منٹ بعد انہوں نے ایک اور پوسٹ میں لکھا: ’’…اینڈ سو اٹ بیگنز!‘‘ جو ممدانی کی جیت کو ایک نئی جنگ کا آغاز قرار دیتا ہے۔

ٹرمپ نے مہم کے آخری دنوں میں کومو کو کھلے عام سپورٹ کیا تھا، یہاں تک کہ وفاقی فنڈز روکنے کی دھمکی دی تھی اگر ممدانی جیتے۔ اب وہ اسے ’’شٹ ڈاؤن‘‘ کا نتیجہ بتا رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نیویارک کے ووٹرز نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو مسترد کر دیا۔

کومو کی شکست تسلیم، اوباما کی مبارکباد

اینڈریو کومو نے شکست تسلیم کرتے ہوئے ممدانی کو مبارکباد دی ’’میں نیویارک کے عوام کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں اور زہران کو کامیابی پر مبارکباد دیتا ہوں۔‘‘ کومو، جو پرائمری میں بھی ممدانی سے ہار چکے تھے، نے آزاد امیدوار کے طور پر دوبارہ کوشش کی، مگر ٹرمپ کی سپورٹ نے ان کی مڈل روڈ تصویر کو دھچکا پہنچایا۔

سابق صدر باراک اوباما نے ڈیموکریٹس کی فتوحات پر خوشی کا اظہار کیا اور ممدانی کی تعریف کی: ’’زہران کی جیت امید کی نئی کرن ہے۔‘‘ اوباما نے دیگر ڈیموکریٹک وکٹریز—ورجینیا گورنرشپ اور کیلیفورنیا ریڈسٹرکٹنگ کو بھی سراہا۔

پس منظر

یہ کہانی جون کی پرائمری سے شروع ہوئی جب ممدانی نے کومو کو رینکڈ چوائس ووٹنگ میں شکست دی۔ کومو نے آزاد امیدوار بن کر دوبارہ چیلنج کیا، جبکہ ٹرمپ نے انہیں ’’بیڈ ڈیموکریٹ بٹ نہ کمونسٹ‘‘ کہہ کر سپورٹ کیا۔ ممدانی کی مہم نے غریب، نوجوان، ایشین، بلیک اور لیٹنو ووٹرز کو متحد کیا، جنہوں نے ریکارڈ 735,000 ارلی ووٹ ڈالے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر #MamdaniMayor اور #TurnTheVolumeUp ٹاپ ٹرینڈز ہیں۔

  • بروکلین کی ایک طالبہ: ’’زہران نے ٹرمپ کو بتایا کہ نیویارک ڈرنے والا نہیں!‘‘
  • کوئینز کا ایک یمنی دکاندار: ’’پہلا مسلم میئرہمارے بچوں کے لیے فخر کی بات!‘‘
  • ایک یہودی ووٹر: ’’ٹرمپ کی اسلاموفوبیا کو ووٹ سے جواب دیا۔‘‘

کئی نے دھوم مچالے کلپ وائرل کیا، جبکہ ٹرمپ سپورٹرز نے ’’شٹ ڈاؤن‘‘ کو مذاق بنایا۔

زہران ممدانی کی جیت امریکی سیاست کا زلزلہ ہے۔ ٹرمپ کی دھمکیوں، اربوں ڈالر کی اینٹی مہم اور کومو کی سینئرٹی کے باوجود، نیویارک نے پروگریسو ایجنڈے کو ووٹ دیا۔ یہ ڈیموکریٹس کے لیے 2026 مڈٹرمز کا بلیو پرنٹ ہے: نوجوان، متنوع اور بولڈ۔

ٹرمپ کا ردعمل ان کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔وہ اپنی غیر موجودگی کو بہانہ بنا رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں نیویارک نے ان کی تقسیم کی سیاست کو مسترد کر دیا۔ ممدانی اب ٹرمپ کی وفاقی پالیسیوں—ڈیپورٹیشن، فنڈ کٹس کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئے ہیں۔

نیویارک، جو ٹرمپ کو جنم دینے والا شہر ہے، نے انہیں بتایا کہ تقسیم کی سیاست اب نہیں چلے گی۔ یہ جیت صرف ایک میئر کی نہیں، بلکہ امید، مساوات اور جدوجہد کی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ممدانی اپنے وعدوں—مفت بس، رینٹ فریز، ٹیکس دی رچ—کو کیسے پورا کرتے ہیں، اور ٹرمپ کیسے جواب دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین