پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، پاکستان اور دیگر ممالک میں زرعی نظام سب سے غیر مؤثر

پاکستان کے لیے یہ خبر ایک وارننگ ہے کیونکہ یہاں کا زرعی شعبہ ملکی جی ڈی پی کا بڑا حصہ ہے

اسلام آباد: زمین کا سب سے قیمتی وسیلہ، میٹھا پانی، تیزی سے ختم ہو رہا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ زراعت میں پانی کا بے جا استعمال ہے جو خشک سالی کی لہر کو مزید تیز کر رہا ہے۔ ورلڈ بینک کی پہلی "گلوبل واٹر مانیٹرنگ رپورٹ” نے ایک خوفناک انکشاف کیا ہے کہ پاکستان ان چھ ملکوں کی فہرست میں شامل ہے جہاں قومی سطح پر خشک سالی کے بڑھتے رجحانات کے ساتھ زرعی شعبے میں پانی کا سب سے زیادہ غیر موثر استعمال ہو رہا ہے۔ یہ رپورٹ، جو سیٹلائٹ تصاویر اور جدید ماڈلنگ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، بتاتی ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 324 ارب مکعب میٹر میٹھا پانی ضائع ہو جاتا ہے جو 28 کروڑ افراد کی سال بھر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ ضیاع نہ صرف پانی کی کمی کو جنم دے رہا ہے بلکہ غذائی تحفظ، معاشی استحکام اور ماحولیاتی توازن کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بارشوں کی کمی اور نہری نظام کی ناکارگی پہلے سے مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

رپورٹ کی روشنی میں بارش پر انحصار کرنے والی زراعت میں تقریباً ایک چوتھائی جبکہ آبپاشی والے کھیتوں میں ایک تہائی پانی بالکل بے کار ہو کر ضائع ہو جاتا ہے اور یہ صورتحال ان خطوں میں سب سے سنگین ہے جہاں میٹھے پانی کے ذخائر تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ یہ خطرناک زونز مغربی ایشیا، مشرقی یورپ اور شمالی افریقہ کے وسیع علاقوں پر محیط ہیں جہاں خشک سالی کا عفریت روزانہ کی زندگی کو نگل رہا ہے۔ قومی سطح پر الجزائر، کمبوڈیا، میکسیکو، پاکستان، تھائی لینڈ، تیونس اور رومانیہ وہ ممالک ہیں جہاں خشک سالی کے بڑھتے دباؤ کے تحت زرعی پانی کا سب سے بڑا حصہ غیر مفید طریقوں سے خرچ ہو رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ خبر ایک وارننگ ہے کیونکہ یہاں کا زرعی شعبہ ملکی جی ڈی پی کا بڑا حصہ ہے مگر پرانے نہری نظام، سیلاب کی طرز کی آبپاشی اور پانی کی غلط قیمتوں کی پالیسیاں اسے تباہی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

ورلڈ بینک کی ٹیم نے گزشتہ دو دہائیوں کے سیٹلائٹ ڈیٹا کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تجزیہ کیا تو پتہ چلا کہ زمینی اور آبی وسائل کے فیصلے پانی کی دستیابی کو کس طرح متاثر کر رہے ہیں۔ اس عرصے میں دنیا بھر میں پانی کی ہوس رکھنے والی فصلوں کی کاشت میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور خشک سالی زدہ 37 ممالک نے ایسی ہی فصلوں کی طرف رخ کیا جن میں سے 22 نیم خشک یا مکمل خشک علاقوں میں واقع ہیں۔ یہ تبدیلی پانی کی طلب کو آسمان چھو رہی ہے جبکہ دستیاب وسائل محدود ہو چکے ہیں۔ خشک سالی والے علاقوں میں آبپاشی کا دو تہائی سے زیادہ پانی انہی پانی خور فصلوں پر اڑایا جا رہا ہے جو نہ صرف ضیاع کا باعث بن رہی ہیں بلکہ مٹی کی زرخیزی کو بھی ختم کر رہی ہیں۔ رپورٹ زرعی پالیسی سازوں کو مشورہ دیتی ہے کہ کم پانی مانگنے والی فصلوں کو ترجیح دی جائے، ڈرپ ایریگیشن جیسی جدید ٹیکنالوجی اپنائی جائے اور پانی کے پائیدار استعمال کو قومی ترجیح بنایا جائے تاکہ آنے والی نسلیں بھوک اور پیاس سے بچ سکیں۔

یہ بحران صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس کی جڑیں انسانی رویوں اور پالیسی ناکامیوں میں ہیں۔ دنیا ہر سال 324 ارب مکعب میٹر پانی کھو رہی ہے جو جنگلات کی بے دریغ کٹائی، ویٹ لینڈز کی تباہی، پانی کی غلط قیمتوں کا نظام اور اداروں کی کمزور کوآرڈینیشن کی وجہ سے ہے۔ سال 2000 کے بعد سے عالمی پانی کا استعمال 25 فیصد بڑھ چکا ہے اور اس اضافے کا ایک تہائی حصہ انہی خشک سالی زدہ علاقوں میں ہوا جہاں پہلے سے وسائل ناکافی تھے۔ یہ رجحان اگر نہ روکا گیا تو جنوبی ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے کروڑوں افراد غذائی قلت اور ہجرت کی لپیٹ میں آ جائیں گے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے یہ رپورٹ ایک واضح پیغام ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی پیچیدگیوں، موسمیاتی تبدیلیوں اور اندرونی ناکارگیوں کا مل کر مقابلہ کیا جائے ورنہ زرعی پیداوار گرنے سے معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

ورلڈ بینک کی یہ رپورٹ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ عالمی سطح پر پانی کی سیاست اور معیشت کی نئی حقیقت کا آئینہ ہے جو بتاتی ہے کہ خشک سالی اب کوئی قدرتی آفت نہیں رہی بلکہ انسانی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستان کا شمار چھ بدترین ممالک میں ہونا شرمناک ہے کیونکہ یہاں کا 90 فیصد پانی زراعت پر خرچ ہوتا ہے مگر اس کی کارکردگی عالمی اوسط سے کہیں کم ہے۔ سیلاب کی آبپاشی، نہروں میں رساؤ اور پانی کی مفت یا سستی سپلائی نے کسانوں کو بے پروا بنا دیا ہے جبکہ گندم، چاول اور گنے جیسی پانی خور فصلوں کی حوصلہ افزائی نے مسئلہ کو مزید گھمبیر کر دیا۔ رپورٹ کا مثبت پہلو یہ ہے کہ یہ حل بھی پیش کرتی ہے: کم پانی والی فصلیں، جدید آبپاشی، پانی کی درست قیمت اور بین الاقوامی تجارت میں واٹر فوٹ پرنٹ کو مدنظر رکھنا۔ اگر پاکستان ابھی سے نیشنل واٹر پالیسی کو عملی جامہ پہنائے، ڈیمز کی تعمیر تیز کرے اور کسانوں کو سبسڈائزڈ ڈرپ سسٹم فراہم کرے تو 40 فیصد تک پانی بچایا جا سکتا ہے جو نہ صرف بحران روکے گا بلکہ زرعی پیداوار میں اضافہ بھی لائے گا۔

عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر ایک ہنگامہ برپا ہے جہاں شہری طبقہ حکومت سے فوری ایکشن کا مطالبہ کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ "پانی بچاؤ مہم” کو سکولوں سے لے کر پارلیمنٹ تک لے جایا جائے۔ کسان کمیونٹیز میں غم و غصے کی لہر ہے کیونکہ وہ مہنگے بیج اور کھاد کے باوجود پانی کی کمی سے فصل تباہ ہوتے دیکھ رہے ہیں اور سوشل پلیٹ فارمز پر #SavePakistanWater ٹرینڈ کر رہا ہے۔ نوجوانوں کی اکثریت رپورٹ کو شیئر کرتے ہوئے موسمیاتی ایکٹوسٹ بن رہی ہے جبکہ ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر اقدامات نہ کیے گئے تو 2030 تک پاکستان پانی کی شدید قلت والے ممالک کی فہرست میں سرفہرست ہو جائے گا۔ مجموعی طور پر عوام میں بیداری بڑھ رہی ہے مگر عمل درآمد کی کمی پر تنقید بھی عروج پر ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین