اسلام آباد:پاکستان کی پارلیمانی سیاست ایک اہم موڑ پر داخل ہو چکی ہے، جہاں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے سینیٹ کا اجلاس اس وقت جاری ہے۔ حکومت نے اعتماد کے ساتھ دعویٰ کیا ہے کہ اس کے تمام نمبرز پورے ہیں اور ترمیم کی منظوری میں کسی قسم کا ڈیڈ لاک موجود نہیں۔
ایوان بالا کا اجلاس سینیٹر منظور احمد کی صدارت میں جاری ہے، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اظہارِ خیال کر رہے ہیں۔ اجلاس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک منفرد منظر دیکھنے میں آیا جب ایوان کے دروازے کھلنے سے پہلے گھنٹیاں بجائی گئیں اور ناشتہ کرنے والے اراکین جلدی جلدی چائے اور پراٹھے ختم کر کے ایوان کی جانب روانہ ہوئے۔
اعظم نذیر تارڑ کا وضاحتی بیان
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ “27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں، نہ ہی کسی قسم کا ڈیڈ لاک ہے۔ ہمارے نمبرز مکمل ہیں، جونہی تمام ووٹر ایوان میں پہنچ جائیں گے، ووٹنگ شروع کر دی جائے گی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ “ایسی آئینی مشاورت میں وقت لگتا ہے، ہمیشہ سے یہی پارلیمانی روایت رہی ہے۔ 26ویں ترمیم کے وقت بھی شام میں جا کر ووٹنگ ہوئی تھی۔”
وزیر قانون کے اس بیان نے اپوزیشن کے ان خدشات کو کمزور کر دیا جو حکومتی صفوں میں اختلاف یا عددی کمی سے متعلق پھیلائے جا رہے تھے۔
ایوان میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر
ایوانِ بالا میں اجلاس کے دوران نہ صرف آئینی بحث جاری ہے بلکہ پارلیمانی فضا بھی خاصی پرجوش ہے۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ “آئینی عدالت وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے، اس معاملے پر ملٹری کمانڈ سے متعلق تفصیلی مشاورت ہوئی ہے۔” ان کے مطابق، اس ترمیم کا مقصد آئین میں موجود ابہامات کو دور کر کے شفافیت پیدا کرنا ہے۔
ڈپٹی وزیراعظم اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کی۔
ایک صحافی کے سوال پر کہ “کیا حکومت کے نمبر پورے ہیں؟” تو اسحاق ڈار نے اعتماد بھرے لہجے میں مسکراتے ہوئے جواب دیا، “جی انشاءاللہ!”
ایک اور سوال کے جواب میں جب ان سے پوچھا گیا کہ “کیا نیشنل پارٹی اس ترمیم کی حمایت کرے گی؟” تو ڈپٹی وزیراعظم نے مختصر مگر معنی خیز جواب دیا، “جب ووٹنگ ہوگی، سب کچھ واضح ہو جائے گا۔”
سینیٹر دنیش کمار کی مزاحیہ گفتگو
سیاسی ماحول میں قدرے دلچسپ موڑ اس وقت آیا جب سینیٹر دنیش کمار نے میڈیا کو بتایا کہ 27ویں آئینی ترمیم سینیٹ میں پیش کرنے سے قبل اراکینِ سینیٹ کے اعزاز میں ناشتے کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔
انہوں نے خوش مزاجی سے بتایا، “ناشتے میں انڈے، پراٹھے، حلوہ اور کروسینٹ شامل تھے۔”
جب ایک صحافی نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ “کیا ناشتے کے بعد تمام اراکین حکومت کے حق میں ووٹ دیں گے؟” تو سینیٹر دنیش کمار نے برجستہ جواب دیا،
“جس کا نمک کھایا جاتا ہے، اس سے وفاداری بھی نبھائی جاتی ہے!”
ان کے اس جملے پر موجود صحافیوں اور اراکین کے درمیان قہقہے گونج اٹھے۔
حکومتی اعتماد اور سیاسی صورتحال
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ حکومت کے پاس درکار اکثریت موجود ہے اور کسی رکن کے غیر حاضر ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
انہوں نے کہا کہ “یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ آئینی ترامیم میں مشاورت لازمی ہوتی ہے، اسی لیے اس عمل میں وقت لگتا ہے، لیکن فیصلہ متفقہ ہی ہوگا۔”
گزشتہ روز سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی پہلے ہی 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کو شق وار متفقہ طور پر منظور کر چکی ہے۔
یہ اجلاس چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی زیرِ صدارت منعقد ہوا تھا، جس میں مختلف جماعتوں کی تجاویز پر غور کیا گیا اور بعد ازاں مسودہ کو حتمی شکل دی گئی۔
27ویں آئینی ترمیم پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ایک اور سنگ میل کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
یہ ترمیم نہ صرف ملکی آئینی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے بلکہ سیاسی اتفاقِ رائے کا مظہر بھی ہے۔
حکومت نے جس اعتماد کے ساتھ “نمبرز پورے ہونے” کا دعویٰ کیا ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ اس بار پارلیمان میں عددی برتری واضح طور پر حکومت کے پاس ہے۔
تاہم، کچھ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ترمیم کے مندرجات پر تفصیلی عوامی آگاہی ضروری ہے تاکہ قوم کو معلوم ہو کہ اس تبدیلی کے نتیجے میں اختیارات اور ذمہ داریوں میں کیا فرق آئے گا۔
عوامی سطح پر 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔
کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ “اگر اس ترمیم سے اداروں میں شفافیت اور توازن پیدا ہوتا ہے تو یہ ملک کے لیے مثبت قدم ہے۔”
دوسری جانب بعض شہریوں کا مؤقف ہے کہ “ترمیم کے ساتھ عوامی مسائل، خاص طور پر مہنگائی اور بے روزگاری کے حل کی طرف بھی توجہ دی جانی چاہیے۔”





















